اسلام آباد۔2اکتوبر (اے پی پی):ایوان بالا کی قائمہ کمیٹی برائے اقتصادی امور نے غیر ملکی معاونت سے جاری ترقیاتی منصوبوں میں مبینہ بے ضابطگیوں، تاخیر اور نگرانی کے فقدان پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کاریک ٹرانچ تھری (راجن پور،ڈیرہ غازی خان،ڈیرہ اسماعیل خان) منصوبے میں نیشنل ہائی وے اتھارٹی کی جانب سے کنٹریکٹر کو تقریبا ً5 ارب روپے کا اضافی موبلائزیشن ایڈوانس جاری کرنے اور 765 کے وی داسو اسلام آباد ٹرانسمیشن لائن منصوبے میں ٹائپ ٹیسٹنگ کے طریقہ کار میں مبینہ ردوبدل کے معاملات مزید تحقیقات کے لیے ایف آئی اے اور نیب کو بھجوانے کا فیصلہ کیا ہے،کمیٹی نے ذمہ دار افسران کا تعین، اضافی رقم کی ریکوری، متعلقہ ریکارڈ اور ادائیگیوں کی مکمل تفصیلات پیش کرنے اور غیر ملکی فنڈڈ منصوبوں میں شفاف خریداری، موثر نگرانی اور بروقت تکمیل یقینی بنانے کی ہدایت بھی کی ہے۔سینیٹ سیکرٹریٹ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق قائمہ کمیٹی کااجلاس سینیٹر سیف اللہ ابڑو کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاوس میں منعقد ہوا۔
اجلاس میں پنجاب میں جاری پانی و نکاسی آب کے منصوبوں، 765 کے وی داسو اسلام آباد ٹرانسمیشن لائن منصوبے اور کمیونیکیشنز سیکٹرکاریک ٹرانچ تھری منصوبے کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں غیر ملکی معاونت سے جاری منصوبوں میں تاخیر، خریداری کے طریقہ کار، کنسلٹنٹس کے انتخاب، منصوبوں پر عملدرآمد اور متعلقہ اعلیٰ حکام کی کمیٹی کو بریفنگ کے لئے عدم دستیابی سے متعلق امور پر سوالات اٹھائے گئے۔اجلاس میں سینیٹر ہدایت اللہ خان، سینیٹر روبینہ خالد، سینیٹر کامل علی آغا اور سینیٹر کامران مرتضیٰ نے شرکت کی۔ اجلاس میں پنجاب میں اقتصادی امور ڈویژن کے ذریعے کثیرجہتی و دوطرفہ ترقیاتی شراکت داروں اور اقوام متحدہ کے اداروں کے تعاون سے واسا کے تحت جاری اور مستقبل کے غیر ملکی فنڈڈ منصوبوں کے حوالے سے بریفنگ دی گئی ۔ کمیٹی کو جاری منصوبوں سے آگاہ کیا گیا اور بالخصوص فیصل آباد شہر کے لئے پانی کے وسائل میں توسیع کے فیز ٹو منصوبے کا جائزہ لیا گیا جس کی گنجائش 30 ملین گیلن یومیہ ہے۔
کمیٹی کو بتایا گیا کہ یہ منصوبہ 2019 میں منظور کیا گیا تھا۔ کمیٹی نے غیر ملکی معاونت سے جاری ترقیاتی منصوبوں میں تاخیر پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ طویل تاخیر کا براہ راست اثر عوام پر پڑتا ہے جنہیں خدمات کی فراہمی میں تاخیر، اضافی اخراجات اور منصوبوں کی تکمیل میں غیر ضروری طوالت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔سیکرٹری اقتصادی امور ڈویژن نے کمیٹی کو بتایا کہ ماضی میں غیر ملکی معاونت سے چلنے والے منصوبوں میں تاخیر کے حوالے سے کوئی واضح پالیسی فریم ورک موجود نہیں تھا جس کے باعث طریقہ کار میں طویل وقت صرف ہوتا رہا۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ وزیراعظم نے غیر ملکی معاونت سے جاری منصوبوں میں تاخیر کے مسئلے کے حل کے لئے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے جو اپنی سفارشات تقریبا ًمکمل کرچکی ہے۔
ان سفارشات پر عملدرآمد سے منصوبوں میں تاخیر کم اور غیر ملکی فنڈڈ منصوبوں کی عملی پیشرفت بہتر ہونے کی توقع ہے۔کمیٹی کو بتایا گیا کہ نئے منصوبوں میں تفصیلی انجینئرنگ ڈیزائن ابتدائی مرحلے ہی میں شامل کیا جائے گا جبکہ کنسلٹنٹس کی بھرتی میں تاخیر سے بھی گریز کیا جائے گا۔ سینیٹر روبینہ خالد نے غیر ملکی فنڈڈ منصوبوں کی خریداری کے عمل سے متعلق بین الاقوامی طریقہ کار کے بارے میں دریافت کیا اور پوچھا کہ پاکستان میں رائج طریقہ کار کا عالمی طریقوں سے کس حد تک تقابل کیا جاسکتا ہے۔کمیٹی نے اس امرپرحیرت کا اظہار کیاکہ کنسلٹنٹ کی خدمات حاصل کرنے کے لئے دوبارہ ٹینڈر کے عمل میں وہی غیر ملکی کمپنیاں شریک ہوئیں اور ایک ایسی کمپنی جسے ابتدائی ٹینڈر کے دوران مسترد کردیا گیا تھا، دوبارہ ٹینڈر میں اہل قرار دے کر منتخب کرلیا گیا۔
کمیٹی نے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ اگر اسی کمپنی کو بعدازاں اہل قرار دے کر منتخب کرنا تھا تو دوبارہ ٹینڈر کرانے کی کیا ضرورت تھی۔ پنجاب حکومت کے حکام کی جانب سے بھی معاملے پر تسلی بخش بریفنگ نہ دیئے جانے پر کمیٹی نے معاملہ موخر کرتے ہوئے پنجاب کے متعلقہ سیکرٹری اور چیئرمین پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ بورڈ کو آئندہ اجلاس میں طلب کرلیا تاکہ معاملے پر تفصیلی وضاحت دی جاسکے۔کمیٹی نے لاہور ویسٹ واٹر اینڈ ڈرینج مینجمنٹ منصوبے کا بھی جائزہ لیا۔ بریفنگ کے دوران کمیٹی نے مشاہدہ کیا کہ منصوبے کے ایک اہم جزو سے متعلق طریقہ کار کی تفصیلات مناسب انداز میں فراہم نہیں کی گئیں۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ چار مالیاتی بولیاں موصول ہوئی تھیں جن میں سے تین کو تکنیکی نااہلی کی بنیاد پر مسترد کردیا گیا۔
چیئرمین کمیٹی نے خریداری کے مکمل عمل کی تفصیلات طلب کرتے ہوئے کہا کہ حکام ایجنڈے کے مطابق چاروں شریک کمپنیوں سمیت متعلقہ ریکارڈ فراہم کرنے میں ناکام رہے ہیں، اس لئے پورے عمل میں مکمل شفافیت یقینی بنائی جائے۔ کمیٹی نے ہدایت کی کہ تمام شریک کمپنیوں کے ساتھ ہونے والی خط و کتابت اور خریداری کے عمل کا مکمل ریکارڈ تین روز کے اندر کمیٹی کو فراہم کیا جائے۔کمیٹی نے یہ بھی سوال اٹھایا کہ واسا سے متعلق غیر ملکی فنڈڈ منصوبے صرف پنجاب تک محدود ہیں یا دیگر صوبوں میں بھی اسی نوعیت کے منصوبے جاری ہیں۔ چیئرمین نے بالخصوص بلوچستان کو درپیش پانی کے مسائل کا حوالہ دیتے ہوئے ہدایت کی کہ آئندہ اجلاس میں حکومت بلوچستان پانی سے متعلق منصوبوں، بشمول واسا سے متعلقہ اسکیموں اور اقدامات، کے بارے میں کمیٹی کو بریفنگ دے۔
اجلاس میں 24 اگست، 4 ستمبر اور 14 ستمبر 2026 کو ہونے والے اجلاسوں میں 765 کے وی داسواسلام آباد ٹرانسمیشن لائن منصوبے، لاٹس ون تا فور، سے متعلق دی گئی سفارشات پر عملدرآمد کی صورتحال کا بھی جائزہ لیا گیااور بالخصوص ایس ٹی ایل لیبارٹریز سے ٹائپ ٹیسٹ کرانے کے طریقہ کار پر تفصیلی بحث کی گئی۔کمیٹی نے کنسلٹنٹس اور کنٹریکٹرز کے خلاف کارروائی، ٹرانسمیشن لائن منصوبے کی پیشرفت اور منصوبے پر سست روی سمیت مختلف امور پر تفصیلات طلب کیں۔کمیٹی کو بتایا گیا کہ مجموعی طور پر 88 ٹاورز کے لیے محکمہ جنگلات سے این او سی درکار تھے، جن میں سے آٹھ ٹاورز کے حوالے سے ادائیگیاں کی جاچکی ہیں اور ان ٹاورز پر کام شروع ہوگیا ہے،باقی 80 ٹاورز کے لیے محکمہ جنگلات اور این ایچ اے کے این او سیز کی صورتحال کے بارے میں کمیٹی کو بتایا گیا کہ لاٹ ون میں اب تک 10 ٹاورز مکمل کئے جاچکے ہیں جبکہ لاٹ ٹو میں چار ٹاورز مکمل اور 12 ٹاورز نصب کئے جاچکے ہیں۔
چیئرمین نے باقی 80 ٹاورز سے متعلق ڈیمانڈ نوٹس کمیٹی کو فراہم کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے باقی ٹاورز کے این او سیز کی صورتحال اور عملدرآمد میں حائل رکاوٹیں دور کرنے کےلئے کئے جانے والے اقدامات کی تفصیلات بھی طلب کیں،765 کے وی ٹرانسمیشن لائن کے سلسلے میں پاکستان میں پہلی مرتبہ کئے جانے والے ٹیسٹنگ طریقہ کار پر بحث کے دوران کمیٹی کو بتایا گیا کہ 2019 کی متعلقہ ٹیسٹنگ پالیسی میں بعدازاں 2023 میں ترمیم کی گئی تھی۔
کمیٹی کو بتایا گیا کہ 2019 کی پالیسی میں 40 ایس ٹی ایل لیبارٹریز شامل تھیں جبکہ 2023 کی پالیسی میں مزید آٹھ لیبارٹریز شامل کی گئیں،کمیٹی نے نشاندہی کی کہ 2023 کی پالیسی میں شامل کی جانے والی آٹھ لیبارٹریز میں سے صرف تین نئی تھیں جبکہ باقی پانچ پہلے ہی 2019 کی 40 ایس ٹی ایل لیبارٹریز کی فہرست میں شامل تھیں،کمیٹی کو یہ جان کر بھی حیرت ہوئی کہ شریک کمپنیوں میں سے تین نے راولپنڈی کے علاقے راوت میں قائم ایک مقامی پاکستانی لیبارٹری کو شامل کیا تھا، جس کے بارے میں کمیٹی کو فراہم کردہ معلومات کے مطابق 200 کے وی تک کی ٹرانسمیشن لائنوں کی ٹیسٹنگ کا بھی سابقہ تجربہ نہیں تھا۔
کمیٹی نے سوال اٹھایا کہ ایسی محدود تجربہ رکھنے والی لیبارٹری 765 کے وی ٹرانسمیشن لائن کی ٹیسٹنگ کس طرح کرسکتی ہے، خصوصا ًاس صورت میں جب بریفنگ کے مطابق بین الاقوامی ایس ٹی ایل لیبارٹریز بھی اس نوعیت کی ٹیسٹنگ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی تھیں۔ کمیٹی نے معاملے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے مشاہدہ کیا کہ این جی سی کے نمائندوں نے ٹیسٹنگ لیبارٹریز کے حوالے سے کمیٹی کو گمراہ کن معلومات فراہم کیں،کمیٹی نے لاٹس ون اور ٹو کے کنٹریکٹرز کو پراجیکٹ ڈائریکٹر کی جانب سے جاری کیے گئے ان خطوط کا بھی جائزہ لیا جن میں ایس ٹی ایل لیبارٹری کے ذریعے ٹائپ ٹیسٹنگ کرانے کی شرط پر عمل نہ کرنے کی نشاندہی کی گئی تھی۔
کمیٹی نے کنسلٹنٹ میسرز گوپا اِن ٹیک کی جانب سے جاری خط کا بھی جائزہ لیا جس میں ابتدائی اور نظرثانی شدہ 2019 اور 2023 کی ٹیسٹنگ پالیسیوں میں مقرر کردہ ایس ٹی ایل لیبارٹریز کے بجائے چینی کمپنی سے ٹیسٹنگ کرانے کی ہدایت کی گئی تھی۔کمیٹی نے اس معاملے کا بھی نوٹس لیا کہ مذکورہ دونوں پالیسیوں میں کسی چینی لیبارٹری کا ذکر نہیں تھا اور کنسلٹنٹ کی ذمہ داری تھی کہ ٹیسٹنگ بولی کی دستاویزات کے مطابق کرائی جائے۔ کمیٹی نے این جی سی کو کنسلٹنٹ کے خلاف مناسب کارروائی کرنے کی ہدایت کی۔تفصیلی غور و خوض کے بعد کمیٹی نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا کہ این جی سی کنسلٹنٹ اور کنٹریکٹر کو جاری کیے گئے نوٹسز کی نقول، 2023 کی ٹیسٹنگ پالیسی کی تیاری میں شامل افسران کی فہرست اور پالیسی میں کی گئی مبینہ تبدیلیوں سے متعلق ریکارڈ کمیٹی کو فراہم کیا جائے،کمیٹی نے این جی سی کو کنٹریکٹر کو کی جانے والی ادائیگیوں کی تاریخ وار تفصیلات، متعلقہ خط و کتابت، موبلائزیشن ادائیگیوں کی تفصیلات اور اجلاسوں کی ویڈیو ریکارڈنگ بھی فراہم کرنے کی ہدایت کی۔
این جی سی کو میسرز گوپا اِن ٹیک کے پاکستان میں تعینات حکام کی فہرست فراہم کرنے کی بھی ہدایت کی گئی،کمیٹی نے متفقہ طور پر معاملہ ایف آئی اے اور نیب کو مزید تحقیقات اور کارروائی کے لیے بھجوانے کا فیصلہ کیا تاکہ 2023 کی نظرثانی شدہ ٹیسٹنگ پالیسی کی تیاری اور عملدرآمد، اس میں مبینہ ردوبدل، متعلقہ قواعد اور بولی کی دستاویزات کی مبینہ خلاف ورزی اور اس پورے معاملے میں این جی سی کے متعلقہ افسران، کنٹریکٹر اور کنسلٹنٹ کے کردارخصوصا ًچینی لیبارٹری سے ٹیسٹنگ کرانے کے معاملے کی تحقیقات کی جاسکیں ۔کمیٹی نے 765 کے وی داسو۔اسلام آباد ٹرانسمیشن لائن منصوبے کے لاٹس ون تا فور کے لیے واجب الادا اور زیر التوا ادائیگیوں کا بھی جائزہ لیا۔ ایجنڈے کے تحت وزارت خزانہ و محصولات اور وزارت منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات کے سیکرٹریز سے زیر التوا ادائیگیوں کے اجرا اور منصوبے کی بروقت تکمیل کے لیے درکار اقدامات پر تفصیلی بریفنگ طلب کی گئی تھی تاہم سیکرٹری خزانہ و محصولات اور وزارت خزانہ کے حکام کی عدم موجودگی کے باعث کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ سیکرٹری خزانہ و محصولات کو آئندہ اجلاس میں طلب کیا جائے۔
کمیٹی نے زیر التوا مالی اور انتظامی معاملات جلد حل کرنے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے متعلقہ حکام کو بروقت کارروائی یقینی بنانے کی ہدایت کی۔ کمیٹی نے کمیونیکیشنز سیکٹر کے کاریک ٹرانچ تھری راجن پور۔ڈیرہ غازی خان۔ڈیرہ اسماعیل خان منصوبے کی موجودہ عملدرآمدی صورتحال، تازہ ترین مالی و فزیکل پیش رفت، اخراجات، جمع کرائی گئی بولی ضمانتوں، پرفارمنس گارنٹیز، موبلائزیشن ایڈوانس گارنٹیز اور گزشتہ اجلاسوں کی سفارشات پر عملدرآمد کا بھی جائزہ لیا۔کمیٹی کو بتایا گیا کہ لاٹس ون اور ٹو پر کام زیر التوا ہے جبکہ لاٹس تھری اور فور پر کام شروع ہوچکا ہے۔
کمیٹی کو مزید بتایا گیا کہ لاٹ تھری کے کنٹریکٹر کو 5.199 ارب روپے اور لاٹ فور کے کنٹریکٹر کو تقریبا ً4.2 ارب روپے کا موبلائزیشن ایڈوانس بالترتیب 23 اور 24 جون 2026 کو ادا کیا گیا،کمیٹی نے دریافت کیا کہ 10 فیصد موبلائزیشن ایڈوانس ایک ہی ادائیگی میں دیا گیا یا دو اقساط میں۔ حکام نے بتایا کہ دونوں لاٹس کے لیے مجموعی طور پر چار چیک دو اقساط میں جاری کیے گئے جو منصوبے کی لاگت کا 10 فیصد تھے،کمیٹی نے مشاہدہ کیا کہ متعلقہ شقوں کے تحت کنٹریکٹر موبلائزیشن ایڈوانس گارنٹی جمع کرانے پر پہلے 5 فیصد موبلائزیشن ایڈوانس کا حقدار تھا جبکہ باقی 5 فیصد رقم منصوبے کی سائٹ پر مکمل موبلائزیشن اور انجینئر کی جانب سے ایمپلائر کو مطلوبہ سرٹیفکیٹ جاری کیے جانے کے بعد ادا کی جانی تھی۔
محکمے نے مزید بتایا کہ ادائیگی کے وقت کنٹریکٹر منصوبے کی سائٹ پر مکمل طور پر موبلائزڈ نہیں تھا۔کمیٹی نے این ایچ اے کی جانب سے صرف 24 گھنٹوں کے اندر کنٹریکٹر کو مکمل 10 فیصد موبلائزیشن ایڈوانس جاری کرنے میں مبینہ بے ضابطگی کا سخت نوٹس لیا۔ این ایچ اے حکام نے کمیٹی کے سامنے متعلقہ شق پڑھ کر بھی تسلیم کیا کہ باقی 50 فیصد موبلائزیشن ایڈوانس کنٹریکٹر کی سائٹ پر مکمل موبلائزیشن اور انجینئر کی جانب سے ایمپلائر کو سرٹیفکیٹ جاری کیے جانے کے بعد ادا کیا جانا تھا۔
کمیٹی نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا کہ معاملہ ایف آئی اے اور نیب کو مزید تحقیقات کے لئے بھجوایا جائے۔ کمیٹی نے ادائیگی کی منظوری اور اجرا کے ذمہ دار افسران کا تعین کرنے اور کنٹریکٹر سے تقریبا ً5 ارب روپے کی اضافی موبلائزیشن ایڈوانس رقم واپس لینے کی بھی ہدایت کی۔اجلاس کے دوران کمیٹی نے اس امر پر زور دیا کہ غیر ملکی فنڈنگ سے جاری ترقیاتی منصوبوں پر شفاف خریداری کے طریقہ کار، واضح احتسابی نظام اور حکومتی محکموں، عملدرآمدی اداروں اور ترقیاتی شراکت داروں کے درمیان موثر رابطہ کاری کے ذریعے عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔
کمیٹی نے جہاں منصوبوں میں تاخیر یا کمپنیوں کی نااہلی سے متعلق سوالات سامنے آئے وہاں خریداری کے فیصلوں، بولیوں کی جانچ، ضمانتوں، ادائیگیوں، منصوبوں کی پیش رفت اور متعلقہ خط و کتابت سمیت مکمل دستاویزات بھی طلب کیں۔کمیٹی کی کارروائی سے اس تشویش کا اظہار ہوا کہ بیرونی مالی معاونت سے جاری ترقیاتی منصوبوں میں طریقہ کار کی تاخیر سے عوامی خدمات کی فراہمی اور منصوبوں کی لاگت براہ راست متاثر ہوسکتی ہے۔
کمیٹی نے اس لئے ایسے مضبوط ادارہ جاتی نظام کی ضرورت پر زور دیا جس کے تحت منظور شدہ منصوبے خریداری، کنسلٹنسی، فنانسنگ اور عملدرآمد کے مراحل واضح مقررہ مدت میں مکمل کرسکیں۔کمیٹی نے اس امر کی بھی ضرورت پر زور دیا کہ بڑے غیر ملکی فنڈڈ منصوبوں کے ذمہ دار اعلیٰ حکام پارلیمانی نگرانی کے فورم کے سامنے پیش ہوں اور منصوبوں سے متعلق مکمل اور مخصوص معلومات فراہم کریں تاکہ زیر التوا معاملات کا موثر جائزہ لے کر انہیں بروقت حل کیا جاسکے۔
بشکریہ: اے پی پی (ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان)



