اسلام آباد۔1اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزیر انسانی حقوق سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ بزرگ شہریوں کی نگہداشت صرف خاندانی ذمہ داری نہیں بلکہ ریاست اور معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے جبکہ انہیں بنیادی سہولیات کے ساتھ عزت، وقار، محبت اور تکریم فراہم کرنا بھی ضروری ہے۔وہ جمعرات کو یہاں معمر افراد کے عالمی دن کے حوالے سے وزارتِ انسانی حقوق اور یو این ایف پی اے کے زیر اہتمام منعقدہ تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ بزرگ شہریوں کی صحت، تندرستی، سفری سہولیات اور دیگر ضروریات کے حوالے سے ریاست کی بھی ذمہ داریاں ہیں، بزرگ شہریوں کے تحفظ اور فلاح کے لئے مختلف قانونی اقدامات کئے گئے ہیں جبکہ اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹری میں سینئر سیٹیزنز سے متعلق قانون پر بھی کام کیا گیا ہے۔
سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ صرف آگاہی اور وکالت کافی نہیں، اسے عملی اقدامات اور مؤثر عزم میں تبدیل کرنا ہوگا، خاندانی نظام میں تبدیلی، شہری ہجرت اور معاشی حالات بزرگوں کی نگہداشت کے روایتی نظام کو متاثر کر رہے ہیں، اس لئے پاکستان کو بزرگ شہریوں کی بڑھتی ہوئی ضروریات کے لئے ابھی سے تیاری کرنا ہوگی۔انہوں نے کہا کہ معاشی مشکلات کے باعث بہت سے خاندان بیک وقت بچوں اور بزرگ والدین کی ضروریات پوری کرنے میں مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں جس کے لئے مؤثر سماجی تحفظ کا نظام ضروری ہے۔
وفاقی وزیر نے غیر رسمی شعبے سے وابستہ کارکنوں خصوصاً گھریلو ملازمین، آیا، باورچی، سکیورٹی گارڈز اور دیگر کارکنوں کے لئے ریٹائرمنٹ اور بڑھاپے کے تحفظ کے مناسب نظام کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ آجر اور کارکن کی شراکت پر مبنی نظام کے ذریعے ایسے افراد کو ریٹائرمنٹ کے بعد باعزت مالی تحفظ فراہم کیا جا سکتا ہے، پنشن صرف مالی معاونت نہیں بلکہ بزرگ شہریوں کی خودداری اور باوقار زندگی کا ذریعہ بھی ہے، والدین نے ہماری پرورش اور زندگی کی تعمیر میں بنیادی کردار ادا کیا، اس لئے ان کی خدمت احسان نہیں بلکہ ہماری ذمہ داری اور فرض ہے جسے عزت اور وقار کے ساتھ ادا کیا جانا چاہئے۔
انہوں نے کہا کہ وزارتِ انسانی حقوق اور متعلقہ ادارے بزرگ شہریوں کے لئے قانونی و ادارہ جاتی فریم ورک کو مزید بہتر بنانے پر کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج کے بزرگ معاشرے کے معمار ہیں اور ان کے بڑھاپے کو عزت، تحفظ اور وقار فراہم کرنا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔وفاقی وزیر نے اس عزم کا اظہار کیا کہ بزرگ شہریوں کے لئے جاری آگاہی اور وکالت کو مؤثر پالیسی، عملی اقدامات اور ٹھوس نتائج میں تبدیل کیا جائے گا۔
سیکرٹری وزارتِ انسانی حقوق عبدالخالق شیخ اور یو این ایف پی اے پاکستان کے نمائندے ڈاکٹر لوئے شبانے نے بھی تقریب سے خطاب کیا اور بزرگ شہریوں کے حقوق، سماجی تحفظ اور باوقار زندگی کے لئے مشترکہ کوششوں کی ضرورت پر زور دیا۔
بشکریہ: اے پی پی (ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان)



