اقوام متحدہ۔6اکتوبر (اے پی پی):چین نے کہا ہے کہ وہ دہشت گردی کو کسی مخصوص ملک، قوم یا مذہب سے جوڑنے اور انسداد دہشت گردی کے نام پر دوسرے ممالک کے داخلی امور میں مداخلت کی مخالفت کرتا ہے۔ سی جی ٹی این کے مطابق یہ بات اقوام متحدہ میں چین کے نائب مستقل مندوب سون لئی نے گزشتہ روز اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی سکستھ کمیٹی میں ’’بین الاقوامی دہشت گردی کے خاتمے کے اقدامات‘‘ کے موضوع پر خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ چین کا موقف ہے کہ تمام ممالک کو اقوام متحدہ کے چارٹر کے مقاصد اور اصولوں کے مطابق سلامتی کونسل اور جنرل اسمبلی کی متعلقہ قراردادوں اور اقوام متحدہ کی عالمی انسداد دہشت گردی حکمت عملی پر مکمل عمل درآمد کرنا چاہیے اور سلامتی کونسل کی فہرست میں شامل تمام دہشت گرد تنظیموں اور افراد کی مخالفت کرنی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ چین بین الاقوامی دہشت گردی کے حوالے سے ایک جامع کنونشن کی تیاری کو آگے بڑھانے کی حمایت کرتا ہے۔ چین انسداد دہشت گردی کو سیاسی رنگ دینے اور اسے آلہ کے طور پر استعمال کرنے کی شدید مخالفت کرتا ہے، دوہرے معیار اور امتیازی رویوں کی مخالفت کرتا ہے، دہشت گردی کو کسی مخصوص ملک، قوم یا مذہب سے جوڑنے کی مخالفت کرتا ہے اور انسداد دہشت گردی کے نام پر دوسرے ممالک کے داخلی امور میں مداخلت کی بھی مخالفت کرتا ہے۔ چینی مندوب نے کہا کہ چین دہشت گردی کا شکار رہا ہے۔ انہوں نے تمام فریقین سے مطالبہ کیا کہ ’’مشرقی ترکستان اسلامی تحریک‘‘ سمیت دہشت گرد قوتوں کے خاتمے کے لیے موثر اقدامات کیے جائیں اور بلوچ لبریشن آرمی اور اس کی مجید بریگیڈ سمیت دہشت گرد تنظیموں کو جلد پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا جائے۔
بشکریہ: اے پی پی (ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان)



