اتوار، 4 اکتوبر 2026
تازہ ترین
سینیٹر شیری رحمان کا مذاکرات کی کوریج کرنے والے پارلیمانی رپورٹرز،کیمرہ مینز کو خراج تحسین پاکستان علاقائی تجارت اور معیشت کا گیٹ وے بننے کی بھر پور صلاحیت رکھتا ہے، میاں کاشف اشفاق دیرپا امن پائیدار معاشی ترقی اور خوشحالی کی بنیادی شرط جبکہ دریا پاکستان کی زندگی کی ضمانت ہیں، سیف الرحمان پانی کے ذخائر کی فوری تعمیر ناگزیر، ربیع سیزن میں25 فیصد کمی تشویشناک ہے، شاہد عمران پاکستان اپنے سفارتی اثرورسوخ کو بروئے کار لا کر علاقائی اقتصادی انضمام کو فروغ دے، افتخار علی ملک ایف آئی اے اسلام آباد زون کی سوشل میڈیا پر جعلی پیجز کے خلاف قانونی کارروائی کی تنبیہ این آر ایل گرینڈ فائنل،اینڈریو جونز اپنی ٹیم کے فائنل میں پہنچنے پر جذباتی، کمنٹری سے دستبرداری کی پیشکش ٹھکرا دی پاکستان سمیت دنیا بھر میں یوم اساتذہ 5 اکتوبر کو منایا جائے گا ہاتھ سے بنے قالینوں کی صنعت کے کاروباری ماڈل پر نظرثانی ،ویلیو چین سسٹم کو عالمی رجحان کے مطابق بہتر کرنے کی ضرورت ،چیئر پرسن سی ٹی آئی محکمہ تحفظ جنگلی حیات کاجانوروں و پرندوں کے تحفظ و فروغ کیلئے بھرپور صلاحیتوں کا مظاہرہ خیبر پختونخوا میں مویشیوں کی لمپی سکن اور دیگر بیماریوں کے خلاف ویکسی نیشن مہم سرحد پر بلااشتعال بھارتی فائرنگ سے شہید پاکستانی شہر ی سپرد خاک، نماز جنازہ میں لوگوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی سینیٹر شیری رحمان کا مذاکرات کی کوریج کرنے والے پارلیمانی رپورٹرز،کیمرہ مینز کو خراج تحسین پاکستان علاقائی تجارت اور معیشت کا گیٹ وے بننے کی بھر پور صلاحیت رکھتا ہے، میاں کاشف اشفاق دیرپا امن پائیدار معاشی ترقی اور خوشحالی کی بنیادی شرط جبکہ دریا پاکستان کی زندگی کی ضمانت ہیں، سیف الرحمان پانی کے ذخائر کی فوری تعمیر ناگزیر، ربیع سیزن میں25 فیصد کمی تشویشناک ہے، شاہد عمران پاکستان اپنے سفارتی اثرورسوخ کو بروئے کار لا کر علاقائی اقتصادی انضمام کو فروغ دے، افتخار علی ملک ایف آئی اے اسلام آباد زون کی سوشل میڈیا پر جعلی پیجز کے خلاف قانونی کارروائی کی تنبیہ این آر ایل گرینڈ فائنل،اینڈریو جونز اپنی ٹیم کے فائنل میں پہنچنے پر جذباتی، کمنٹری سے دستبرداری کی پیشکش ٹھکرا دی پاکستان سمیت دنیا بھر میں یوم اساتذہ 5 اکتوبر کو منایا جائے گا ہاتھ سے بنے قالینوں کی صنعت کے کاروباری ماڈل پر نظرثانی ،ویلیو چین سسٹم کو عالمی رجحان کے مطابق بہتر کرنے کی ضرورت ،چیئر پرسن سی ٹی آئی محکمہ تحفظ جنگلی حیات کاجانوروں و پرندوں کے تحفظ و فروغ کیلئے بھرپور صلاحیتوں کا مظاہرہ خیبر پختونخوا میں مویشیوں کی لمپی سکن اور دیگر بیماریوں کے خلاف ویکسی نیشن مہم سرحد پر بلااشتعال بھارتی فائرنگ سے شہید پاکستانی شہر ی سپرد خاک، نماز جنازہ میں لوگوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی
تجارتی خبریں

پاکستان اپنے سفارتی اثرورسوخ کو بروئے کار لا کر علاقائی اقتصادی انضمام کو فروغ دے، افتخار علی ملک

پاکستان اپنے سفارتی اثرورسوخ کو بروئے کار لا کر علاقائی اقتصادی انضمام کو فروغ دے، افتخار علی ملک

لاہور۔4اکتوبر (اے پی پی):سارک چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابق صدر افتخار علی ملک نے کہا ہے کہ پاکستان کو اپنے سفارتی سرمائے کو موثر انداز میں بروئے کار لاتے ہوئے علاقائی اقتصادی انضمام، بہتر باہمی تعلقات اور ایران کے ساتھ مستحکم روابط کو فروغ دینا چاہیے، جبکہ وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ اقتصادی روابط میں توسیع سے پاکستان کے لیے نئی منڈیاں اور معاشی مواقع پیدا ہوسکتے ہیں۔ اتوار کو اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ افغانستان، ایران اور وسطی ایشیا پاکستان کی مصنوعات اور خدمات کے لیے اہم منڈیاں ثابت ہوسکتے ہیں۔

گوادر کو وسطی ایشیا کی خشکی میں گھری معیشتوں کے لیے ٹرانس شپمنٹ اور لاجسٹکس کا اہم گیٹ وے بنایا جاسکتا ہے، جس سے پاکستان کو ٹرانزٹ آمدنی حاصل ہونے کے ساتھ پاکستانی برآمد کنندگان کے لیے بھی نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ ازبکستان، کرغزستان اور تاجکستان ایسی منڈیاں ہیں جہاں پاکستان نے اب تک محدود سطح پر رسائی حاصل کی ہے، تاہم علاقائی رابطوں میں بہتری سے ان ممالک کے ساتھ تجارت اور اقتصادی تعاون کو وسعت دی جاسکتی ہے۔

افتخار علی ملک نے کہا کہ علاقائی رابطہ کاری سے ایران پاکستان گیس پائپ لائن، تاپی اور کاسا جیسے منصوبوں کو بھی دوبارہ فعال کرنے کی راہ ہموار ہوسکتی ہے، تاہم ان منصوبوں کی پیش رفت سیاسی، مالی، تجارتی اور سکیورٹی کے تقاضوں کی تکمیل سے مشروط ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ علاقائی تجارت میں اضافے سے ٹرانسپورٹ، لاجسٹکس، گوداموں، بینکاری، انشورنس، آئی ٹی اور مینوفیکچرنگ کے شعبوں میں طلب بڑھے گی، جس سے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور سرحدی علاقوں کی آبادیوں کا معاشی مفاد بھی خطے میں امن و استحکام کے ساتھ جڑ جائے گا۔

سابق صدر سارک چیمبر نے کہا کہ مالیاتی اصلاحات، توانائی کے شعبے کی تنظیم نو، ٹیکس اصلاحات، ڈی ریگولیشن، نجکاری، برآمدات میں تنوع، انسانی سرمائے کی ترقی اور ادارہ جاتی اصلاحات کا عمل بلا تعطل جاری رہنا چاہیے۔ تاہم ان اصلاحات کے ساتھ ایسے اقدامات بھی ضروری ہیں جو معاشی سرگرمیوں پر عائد سکیورٹی سے متعلق اضافی اخراجات اور خطرات کو کم کریں۔

بشکریہ: اے پی پی (ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان)