لاہور۔4اکتوبر (اے پی پی):فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی ریجنل کمیٹی برائے فوڈ کے کنوینر شاہد عمران نے صنعتی اور زرعی شعبوں کی مسلسل بڑھتی ہوئی ضروریات پوری کرنے کے لیے ترجیحی بنیادوں پر پانی کے ذخائر تعمیر کرنے کی فوری ضرورت پر زور دیا ہے۔ اتوار کو لاہور میں ضیا اسنیکس فیملی فوڈ پروڈکٹس کے زیر اہتمام بارش کے پانی کا تحفظ کے موضوع پر منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ رواں ربیع سیزن میں تقریبا25 فیصد پانی کی کمی ایک سنگین تشویش کا باعث ہے، جو 2021 کے بعد سب سے کم پانی کی دستیابی ہے۔ پانی کی اس کمی سے آئندہ گندم کی فصل بھی شدید متاثر ہونے کا خدشہ ہے، جبکہ گندم پہلے ہی دبائو کا شکار بنیادی غذائی فصل ہے۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ سیزن میں گندم کی پیداوار 29.7 ملین ٹن کے ہدف کے مقابلے میں کم ہوکر 27.5 ملین ٹن رہی، جبکہ ملکی کھپت تقریبا 32 ملین ٹن تھی، جس کے باعث گندم درآمد کرنا پڑی۔ شاہد عمران نے کہا کہ ماحولیاتی ضروریات کا درست تخمینہ لگا کر انہیں منصوبہ بندی کا لازمی حصہ بنایا جانا چاہیے۔ حکومت کو آبپاشی کے نظام کی کارکردگی بہتر بنانے اور پانی کے تحفظ کے لیے سرمایہ کاری کرنا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ پہلے ہی مشکلات کا شکار چھوٹے اور غریب کاشتکاروں کو کئی دہائیوں کی ادارہ جاتی غفلت کی قیمت ادا کرنے پر مجبور نہیں کیا جانا چاہیے۔ موسمیاتی تبدیلی کے باعث پانی کی دستیابی مزید غیر یقینی ہورہی ہے، جبکہ آبادی اور خوراک کی طلب مسلسل بڑھ رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کو ایسی جامع آبی پالیسی کی ضرورت ہے جو صرف ایک فصل کے سیزن یا ایک صوبے تک محدود نہ ہو بلکہ طویل مدتی ضروریات کو مدنظر رکھے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو پانی کے زیادہ سے زیادہ تحفظ، ضیاع میں کمی اور کئی سال آگے کی منصوبہ بندی پر توجہ دینا ہوگی تاکہ زرعی پیداوار، غذائی تحفظ اور صنعتی ضروریات کو پائیدار بنیادوں پر پورا کیا جاسکے۔
بشکریہ: اے پی پی (ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان)



