لاہور۔4اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ مذاکرات ختم ہو گئے ہیں، حکومت کسی بھی صورت 9 مئی جیسے واقعات دوبارہ نہیں ہونے دے گی، اس سارے معاملے کو خراب کرنے کے ذمہ دار وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا ہیں، اگر ایک بھی جان جاتی ہے تو اس کے ذمہ دار بھی وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا ہوں گے۔ اتوار کو قذافی سٹیڈیم میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان مذاکرات ون ون صورتحال میں پہنچ گئے تھے لیکن وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی جانب سے معاہدے کے مسودے میں بار بار تبدیلیاں کرنے کے باعث معاملات خراب ہوئے، مذاکرات ختم ہو چکے ہیں اور حکومت اسلام آباد پر کسی صورت دھاوا بولنے کی اجازت نہیں دے گی۔
انہوں نے کہا کہ صدر مملکت اور وزیراعظم مکمل طور پر رابطے میں ہیں۔انہوں نے صدر پاکستان کو فائنل ڈرافٹ دکھایا تھا تاہم واپس آنے پر معلوم ہوا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے اس میں تبدیلیاں کر دی ہیں۔ ایک ایک کرکے تمام معاملات حل کیے گئے تھے لیکن بعد ازاں ڈرافٹ میں مزید تبدیلیوں کا کہا گیا اور چار مرتبہ مسودے میں تبدیلیاں کی گئیں۔انہوں نے کہا کہ مذاکراتی عمل میں علامہ ناصر عباس، اسد قیصر، بیرسٹر گوہر اور عامر ڈوگر نے نیک نیتی کے ساتھ کوشش کی تاہم بدقسمتی سے ان کی اپنی جماعت کی جانب سے مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی گئی۔ اگر فیصلے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا ہ نے ہی کرنے تھے تو انہیں خود مذاکرات میں شامل ہونا چاہیے تھا۔
محسن نقوی نے کہا کہ دو روز قبل انہوں نے بیرسٹر گوہر سے کہا تھا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اپنا کوئی نمائندہ بھیج دیں تاکہ صوبے میں دہشت گردی کے حوالے سے درپیش مشکلات پر ان سے بات کی جا سکے۔ متعلقہ افراد وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سے مذاکرات کرکے واپس آئے تاہم اس کے بعد بھی ڈرافٹ میں تبدیلیاں سامنے آتی رہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو مذاکرات کے لیے بلایا گیا لیکن وہ نہیں آئے۔وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ اگر حکومت کو اندازہ ہوتا کہ اپوزیشن کمیٹی میں کوئی ایسا شخص موجود نہیں جس کے پاس خیبرپختونخوا حکومت کا مینڈیٹ ہو تو مذاکرات نہ کیے جاتے۔ انہوں نے کہا کہ حکومتی اراکین نے بھی نیک نیتی سے مسئلہ حل کرنے کی کوشش کی اور حکومتی ٹیم بھی اس کا کریڈٹ لینے کی حق دار ہے۔
انہوں نے کہا کہ مذاکرات میں چھ، سات نکات تھے اور ان میں کوئی ایک بھی ایسا نکتہ نہیں تھا جس کا تعلق سیاست سے ہو تمام معاملات دہشت گردی کے حوالے سے تھے۔ حکومت چاہتی ہے کہ خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے خلاف سب مل کر کھڑے ہوں۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ صوبے میں دہشت گردی جاری ہو اور صوبائی حکومت کے وزرا فوج کے خلاف بیانات دیں یا شہدا کے جنازوں میں شرکت نہ کریں۔ محسن نقوی نے کہا کہ حکومت کے پاس شکایات ہیں کہ مقامی سطح پر دہشت گردوں کو حمایت فراہم کی جا رہی ہے، جس کی تحقیقات اور تدارک ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا رات نو بج کر پندرہ منٹ پر متحرک ہوئے، ایک مرتبہ تبدیلی کا کہا گیا اور دوسری مرتبہ بھی تبدیلی کی گئی، اس کا مقصد کیا تھا، یہ سوال اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ مذاکرات میں وزیراعلیٰ کے ساتھ موجود افراد نے بھی بعض نکات پر بات کرنے سے انکار کیا۔ وفاقی وزیر داخلہ نے واضح کیا کہ حکومت کی جانب سے لانگ مارچ ملتوی کرنے کی کوئی درخواست نہیں کی گئی البتہ پاکستان پیپلز پارٹی نے ان سے لانگ مارچ ملتوی کرنے کا کہا تھا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے پہلے ہی واضح کر دیا تھا کہ لانگ مارچ شروع ہونے کی صورت میں مذاکرات ختم ہو جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ احتجاج ہر کسی کا حق ہے لیکن اسلام آباد پر دھاوا بولنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ دھرنے کے لیے جمع ہونے والے افراد قانون اور عدالت کے احکامات کی خلاف ورزی کریں گے تو ان کے خلاف کارروائی اور مقدمات چلائے جائیں گے۔وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ حکومت کو معلوم ہے کہ لانگ مارچ کے لیے کس قسم کی تیاری کی جا رہی ہے۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ صوبائی حکومت اقتدار کے فوائد بھی حاصل کرے اور اپنی مرضی سے ایسے اقدامات بھی کرے جو ریاستی مفادات کے خلاف ہوں۔ انہوں نے کہا کہ صدر مملکت اور وزیراعظم کو گزشتہ رات کی صورتحال سے آگاہ کر دیا گیا ہے اور دونوں مل کر آئندہ فیصلہ کریں گے۔
محسن نقوی نے کہا کہ حکومت اور مذاکراتی ٹیم نے گزشتہ دو روز نیک نیتی کے ساتھ مسئلے کے حل کی کوشش کی۔ انہوں نے علامہ ناصر عباس، اسد قیصر، بیرسٹر گوہر اور عامر ڈوگر کا مذاکرات میں نیک نیتی سے کردار ادا کرنے پر شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اسد قیصر نے ابتدا میں بہت اچھا جواب دیا تھا۔انہوں نے کہا کہ حکومت کی خواہش ہے کہ خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے خلاف سب متحد ہو کر کام کریں، تاہم ایسے حالات میں یہ ممکن نہیں کہ صوبے میں دہشت گردی جاری ہو اور صوبائی حکومت کا طرزعمل اس کے برعکس ہو۔ انہوں نے کہا کہ صدر مملکت اور وزیراعظم مکمل رابطے میں ہیں اور جو بھی فیصلہ کیا جائے گا، وہ ملک کے بہترین مفاد میں ہوگا۔
بشکریہ: اے پی پی (ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان)



