اسلام آباد۔6اکتوبر (اے پی پی):نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نےمشترکہ آبی وسائل پر تعاون کو علاقائی امن، معاشی ترقی اور ماحولیاتی پائیداری کے لیے ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا ہےکہ پاکستان کے لیے آبی تحفظ، غذائی تحفظ، معاشی تحفظ اور قومی سلامتی سے الگ نہیں ہے۔ بھارت سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے اپنی ہٹ دھرمی اور غیر قانونی اقدامات کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔سندھ طاس معاہدے پر من وعن عمل درآمد کیا جائے۔پاکستان کو اس کے جائز حصے کے پانی سے محروم کرنے کی کوئی بھی کوشش علاقائی امن اور سلامتی کے لیے سنگین مضمرات کی حامل ہوگی۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کوآسٹریاویانا کی ڈپلومیٹک اکیڈمی کے زیر اہتمام ’’انٹرنیشنل واٹر سمپوزیم‘‘ سے ورچوئل کلیدی خطاب کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے سفارت خانے اور ڈپلومیٹک اکیڈمی آف ویانا کو اس اہم سمپوزیم کے مشترکہ انعقاد پر خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں،ویانا طویل عرصے سے بین الاقوامی سفارت کاری اور بین الاقوامی قانون کی تشکیل و ترقی کا ایک اہم مرکز رہا ہے۔نائب وزیر اعظم نے کہا کہ پانی انسانی بقا، وقار، معاشی خوشحالی اور ماحولیاتی پائیداری کیلئے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ پانی کی دستیابی اس بات کا تعین کرتی ہے کہ ہم کتنی خوراک پیدا کرتے ہیں، کتنی توانائی پیدا کرتے ہیں، ہماری آبادی کی صحت کیسی ہے اور بڑھتی ہوئی اہمیت کے ساتھ، ریاستوں کے درمیان تعلقات کا استحکام کس حد تک برقرار رہتا ہے۔اسحاق ڈار نے کہا کہ سرحد پار دریائی نظام رکھنے والے ممالک کے لیے جغرافیہ مستقل باہمی انحصار پیدا کرتا ہے۔
لہٰذا بنیادی سوال یہ ہے کہ مشترکہ آبی وسائل کو تعاون اور متفقہ قانونی فریم ورک کے ذریعے منظم کیا جائے گا یا انہیں سیاسی دباؤ اور محاذ آرائی کے ذرائع میں تبدیل کر دیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان آبی تحفظ کی اہمیت کو بخوبی سمجھتا ہے۔ دریائے سندھ کا نظام ہزاروں سال سے قدیم وادیٔ سندھ کی تہذیب سے لے کر آج اس کے کناروں پر آباد معاشروں اور زرعی معیشتوں تک تہذیبوں کی بقا کا ذریعہ رہا ہے،یہ ہمارے ملک کی شہ رگ ہے کیونکہ اس کے پانی سے 25 کروڑ سے زائد پاکستانیوں کی زندگی اور روزگار وابستہ ہے۔ یہی پانی ہماری زراعت، غذائی تحفظ، توانائی کی پیداوار، معاشی ترقی اور دریائی حوض کے ماحولیاتی نظام کو سہارا دیتاہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے لیے آبی تحفظ، غذائی تحفظ، معاشی تحفظ اور بالآخر قومی سلامتی سے الگ نہیں ہے۔ ان پانیوں پر پاکستان کے حقوق کو نقصان پہنچانے کی کوئی بھی کوشش محض دوطرفہ اختلاف سے کہیں آگے کے نتائج کی حامل ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ دریائے سندھ کے طاس کی اہمیت کے پیش نظر پاکستان نے ایک دہائی پر محیط مذاکرات کے بعد 1960 میں سندھ طاس معاہدے پر دستخط کیے۔ اس معاہدے کے تحت تین مشرقی دریاؤں، راوی، بیاس اور ستلج ،کے پانی بھارت کو غیر محدود استعمال کے لیے دیے گئے جبکہ پاکستان کو تین مغربی دریاؤں، یعنی دریائے سندھ، جہلم اور چناب، کے پانیوں کے غیر محدود استعمال کا حق دیا گیا تاہم معاہدے کے تحت بھارت کو مخصوص استعمال کی اجازت حاصل ہے۔ اس معاہدے نے بالادست فریق کی صوابدید کی جگہ پابند قانونی ذمہ داریوں کو متعارف کرایا اور دونوں ممالک کے لیے یقین اور پیش بینی پر مبنی ایک فریم ورک قائم کیا۔ اس میں اس بنیادی حقیقت کو تسلیم کیا گیا کہ جن پانیوں پر لاکھوں لوگوں کا انحصار ہے، انہیں سیاسی تعلقات میں اتار چڑھاؤ سے محفوظ رکھا جانا چاہیے۔
تاہم آج یہ اصول ایک غیر معمولی چیلنج سے دوچار ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت نے اپریل 2025 میں یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کا فیصلہ کیا۔ معاہدے میں کسی بھی فریق کو اسے یکطرفہ طور پر معطل یاختم کرنےکی اجازت دینے والی کوئی شق موجود نہیں۔ 31 اگست 2026 کو سندھ طاس معاہدے کے تحت قائم ثالثی عدالت نے بھارت کی جانب سے معاہدے کو معطل کرنے کے فیصلے کے بعد معاہدے کی حیثیت سے متعلق اپنا متفقہ فیصلہ جاری کیا،عدالت نے ان بنیادوں بشمول بھارت کی جانب سے پیش کیے گئے دلائل کا جائزہ لیا جن کے تحت کسی معاہدے کو ختم کیا جا سکتا ہے ۔ عدالت نے خلاف ورزی، حالات میں بنیادی تبدیلی، مسلح تنازع اور جوابی اقدامات سمیت تمام بنیادوں کا جائزہ لینے کے بعد متفقہ طور پر قرار دیا کہ ان میں سے کوئی بھی معاہدے کی معطلی یا خاتمے کا جواز فراہم نہیں کرتی۔
عدالت نے واضح طور پر تصدیق کی کہ سندھ طاس معاہدہ بدستور مکمل طور پر نافذ العمل ہے اور بھارت اپنی ذمہ داریوں کا پابند ہے، جن میں مغربی دریاؤں پر پن بجلی کے منصوبوں کے ڈیزائن اور آپریشن سے متعلق ذمہ داریاں بھی شامل ہیں۔نائب وزیر اعظم نے کہا کہ یہ پاکستان کے مؤقف کی ایک اہم توثیق کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی قانون کے ایک بنیادی اصول کی بھی توثیق ہے،Pacta Sunt Servanda معاہدوں کی پاسداری لازم ہے۔ اسی روز عدالت نے بھارت کے رتلہ پن بجلی منصوبے سے متعلق عبوری اقدامات کے بارے میں بھی ایک حکم جاری کیا۔ عدالت نے منصوبے کے مخصوص حصوں کی تکمیل کو مقررہ سطح سے آگے بڑھانے پر پابندیاں عائد کیں، جو غیر جانب دار ماہر کے حتمی فیصلے کے 90 دن بعد تک برقرار رہیں گی۔ عدالت نے بھارت کو منصوبے کی تعمیر کے شیڈول سے متعلق معلومات فراہم کرنے کی بھی ہدایت کی۔عدالت کے یہ فیصلے نہ صرف پاکستان بلکہ مجموعی طور پر بین الاقوامی قانونی نظام کے لیے بھی اہم ہیں۔ یہ ایک بنیادی اصول کو تقویت دیتے ہیں کہ معاہدے کے تحت قائم حقوق اور ذمہ داریوں کو یکطرفہ اقدام کے ذریعے ختم یا تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے کہا کہ ان مستند فیصلوں کے باوجود، جو پاکستان کے مؤقف کی مضبوط تائید اور بھارت کے اقدامات کو مسترد کرتے ہیں، بھارت سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے اپنی ہٹ دھرمی اور غیر قانونی اقدامات کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ بھارت کے ساتھ اپنے اختلافات کو بات چیت، سفارت کاری اور معاہدے میں فراہم کردہ تنازعات کے حل کے طریقہ کار کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی ہے۔ ہم سندھ طاس معاہدے کے تحت غیر جانب دار ماہر کی کارروائی میں بھی حصہ لے رہے ہیں، جس کا انتظام مستقل ثالثی عدالت کے ویانا دفتر کی جانب سے تاریخی ہوفبرگ پیلس میں کیا جا رہا ہے، غیر جانب دار ماہر کا فیصلہ اور ثالثی عدالت کے فیصلے معاہدے کے تحت قائم کردہ تنازعات کے حل کے نظام کے اہم عناصر ہیں۔ پاکستان نے دونوں کارروائیوں میں تعمیری انداز میں حصہ لیا ہے، جس سے معاہدے کے تحت قائم ادارہ جاتی طریقہ کار پر ہمارے اعتماد کا اظہار ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی قانون کی ساکھ کا انحصار صرف معاہدوں کے اختتام پر نہیں بلکہ ان پر مخلصانہ عمل درآمد اور ان کے متفقہ طریقہ کار کے تحت دیے گئے فیصلوں کے احترام پر بھی ہے۔ یہی وہ اصول ہے جس کی پاکستان نے ہمیشہ پاسداری کی ہے۔انہوں نے کہا کہ 25 کروڑ سے زائد آبادی کے خلاف پانی کو دباؤ کے ایک ذریعے کے طور پر استعمال کرنے کے انسانی، معاشی اور سلامتی سے متعلق گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔بھارت کے غیر قانونی اقدام کے اثرات جنوبی ایشیا سے کہیں آگے تک پھیل سکتے ہیں۔ یہ دنیا کے دیگر سرحد پار دریائی ذخائر کے لیے بھی ایک خطرناک مثال قائم کرے گا، جہاں لاکھوں افراد بین الاقوامی معاہدوں پر مؤثر عمل درآمد کے ذریعے اپنے پانی کے حقوق پر انحصار کرتے ہیں۔ دنیا بھر میں سرحد پار دریا ایسی آبادیوں، معیشتوں اور ماحولیاتی نظام کو زندگی فراہم کرتے ہیں جو سیاسی سرحدوں کے باعث تقسیم ہیں لیکن جغرافیہ کے ذریعے ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ ان مشترکہ وسائل کے لیے قابلِ پیش گوئی قواعد، مؤثر ادارے اور مسلسل تعاون ضروری ہیں،بین الاقوامی قانون پر مبنی عالمی نظام کو درپیش چیلنجز کے اس دور میں عالمی برادری کو معاہدوں پر مبنی تعاون کو مضبوط بنانا چاہیے نہ کہ اسے کمزور ہونے دینا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ پانی کے بین الاقوامی انتظام میں منصفانہ اور معقول استعمال، سرحد پار نمایاں نقصان کی روک تھام اور باہمی تعاون کے اصول بدستور بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔
تاہم ان اصولوں کا اطلاق ان مخصوص حقوق اور ذمہ داریوں کے احترام کے ساتھ ہونا چاہیے جو ہر دریائی نظام کو منظم کرنے والے متعلقہ معاہدوں میں طے کیے گئے ہیں۔ دریائے سندھ کے طاس کے لیے یہ حقوق اور ذمہ داریاں سندھ طاس معاہدے میں موجود ہیں۔اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان بات چیت، سفارت کاری اور تنازعات کے پرامن حل کے لیے پرعزم ہے۔ ہمارا یقین ہے کہ مشترکہ آبی وسائل پر تعاون علاقائی امن، معاشی ترقی اور ماحولیاتی پائیداری کے لیے ناگزیر ہے۔ اس لیے آگے بڑھنے کا راستہ تین بنیادی اصولوں پر مبنی ہونا چاہیے۔سندھ طاس معاہدے کا مکمل احترام کیا جائے اور اس پر من وعن عمل درآمد کیا جائے۔ اس کی ذمہ داریوں کو سیاسی تعلقات یا یکطرفہ مفادات سے مشروط نہیں کیا جا سکتا۔ تمام سوالات، اختلافات اور تنازعات کو معاہدے کے تحت قائم کردہ طریقہ کار کے ذریعے حل کیا جائے۔ ان طریقہ کار کے تحت دیے جانے والے فیصلوں کا احترام اور ان پر عمل درآمد کیا جائے۔
دونوں ممالک کو معاہدے کے مطابق تکنیکی روابط، شفافیت اور معلومات کے تبادلے کو مزید مضبوط بنانا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ ہماری ترجیح واضح ہے،دباؤ کے بجائے تعاون، محاذ آرائی کے بجائے مکالمہ اور یکطرفہ اقدامات کے بجائے قانون کی حکمرانی۔سرحد پار آبی نظام کے مستقبل کی بنیاد تعاون، باہمی احترام اور بین الاقوامی ذمہ داریوں پر مخلصانہ عمل درآمد پر ہونی چاہیے۔ پاکستان اس راستے پر آگے بڑھنے کے لیے تیار ہے۔ تاہم اس حوالے سے کسی کو کوئی غلط فہمی نہیں ہونی چاہیے کہ پاکستان معاہدے اور بین الاقوامی قانون کے تحت اپنے جائز حقوق اور مفادات کے تحفظ کے عزم میں پوری طرح مضبوط ہے۔ پاکستان کو اس کے جائز حصے کے پانی سے محروم کرنے کی کوئی بھی کوشش علاقائی امن اور سلامتی کے لیے سنگین مضمرات کی حامل ہوگی۔امید ہے یہ سمپوزیم بین الاقوامی تعاون کے فروغ میں قابلِ قدر کردار ادا کرے گا۔\932
بشکریہ: اے پی پی (ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان)



