اسلام آباد۔5اکتوبر (اے پی پی):ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹی راولپنڈی کے زیر اہتمام عالمی یومِ اساتذہ کے موقع پر ’’ہیرو ٹیچر ایوارڈ تقریب‘‘ گورنمنٹ گرلز ہائر سیکنڈری سکول نمبر 1، باغ سرداراں میں منعقد ہوئی، جس میں وفاقی پارلیمانی سیکرٹری برائے اطلاعات و نشریات دانیال تنویر چوہدری اور پارلیمانی سیکرٹری اطلاعات و ثقافت پنجاب شازیہ رضوان نے بطور مہمانانِ خصوصی شرکت کی۔
تقریب کا مقصد اساتذہ کی محنت، لگن، جذبے اور شعبہ تعلیم میں ان کی گراں قدر خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرنا تھا۔ اس موقع پر نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے اساتذہ کو ہیرو ٹیچر ایوارڈز اور تعریفی اسناد سے نوازا گیا۔وفاقی پارلیمانی سیکرٹری برائے اطلاعات و نشریات دانیال تنویر چوہدری نے خطاب کرتے ہوئے اساتذہ کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا اور کہا کہ استاد قوم کی تعمیر میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ اساتذہ نئی نسل کو علم کی روشنی سے روشناس کرانے کے ساتھ ساتھ ان کی شخصیت اور کردار سازی میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اساتذہ معاشرے کے حقیقی معمار ہیں اور ان کی محنت اور خلوص ہی سے باشعور، باصلاحیت اور ذمہ دار شہری پروان چڑھتے ہیں۔ اساتذہ کی خدمات کا اعتراف اور ان کی حوصلہ افزائی تعلیمی معیار میں بہتری کے لیے اہم ہے۔شازیہ رضوان نے کہا کہ اساتذہ کسی بھی معاشرے کی تعمیر و ترقی میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں، کیونکہ وہ نئی نسل کی تعلیم و تربیت کے ساتھ ساتھ ان کی کردار سازی بھی کرتے ہیں۔ ایک بہترین استاد صرف کتابی علم منتقل نہیں کرتا بلکہ طلبہ کی شخصیت، سوچ اور مستقبل کی تعمیر میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اساتذہ قوم کے حقیقی ہیروز ہیں اور ان کی خدمات کو جتنا بھی سراہا جائے کم ہے۔
حکومت پنجاب تعلیم کے شعبے کی بہتری، اساتذہ کی حوصلہ افزائی اور طلبہ کو بہتر تعلیمی مواقع فراہم کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔تقریب کے دوران طلبہ و طالبات نے اساتذہ کے مقام و مرتبہ اور ان کی خدمات کو اجاگر کرنے کے لیے ٹیبلو اور تقاریر پیش کیں جنہیں شرکاء نے بھرپور سراہا۔ تقریب میں چیف ایگزیکٹو آفیسر ایجوکیشن راولپنڈی محمد یاسین، ڈائریکٹر کالجز، ضلع راولپنڈی کے مختلف تعلیمی اداروں سے تعلق رکھنے والے اساتذہ، ہیڈ ٹیچرز اور ہیڈز آف سکولز نے شرکت کی۔تقریب کے اختتام پر نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے اساتذہ میں ہیرو ٹیچر ایوارڈز اور تعریفی اسناد تقسیم کی گئیں۔
بشکریہ: اے پی پی (ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان)



