اسلام آباد۔5اکتوبر (اے پی پی):الیکشن کمیشن نے ملک بھر میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کے حوالے سے اہم فیصلے کرتے ہوئے کہا ہے کہ پنجاب حکومت صوبے میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کیلئے مجوزہ الیکشن شیڈول پر اپنی رائے دے، اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے اگر قانون سازی کا عمل فوری طور پر مکمل نہ کیا گیا تو اسلام آباد لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2015 کے تحت الیکشن کرا دیئے جائیں گے، خیبرپختونخواحکومت فوری طور پر نیبر ہڈ اور ویلج کونسلز کی تعداد میں ترمیم کرے جبکہ بلوچستان اور کنٹونمنٹس میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کیلئے صوبائی حکومت اور وزارت دفاع کو خط لکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
پیر کو الیکشن کمیشن میں تمام صوبوں ، وفاقی دارالحکومت اور کنٹونمنٹ میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد اور تیاریوں کے حوالے سے خصوصی چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں ممبران نثاراحمد درانی ، شاہ محمد جتوئی ، جسٹس (ر) اکرام اللہ ، سیکرٹری الیکشن کمیشن اور دیگر سینئرافسران نے شرکت کی ۔ صوبہ پنجاب کے حوالے سے الیکشن کمیشن کو بتایا کیا گیا کہ الیکشن کمیشن پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کرانے کے لئے تیار ہے ، اس سلسلے میں پنجاب حکومت کو ڈرافٹ الیکشن شیڈول بھیج دیا گیا ہے اجلاس کو بتایا گیا کہ صوبائی حکومت سے ڈسٹرکٹ ریٹرننگ افسران، ریٹرننگ افسران اور اسسٹنٹ ریٹرننگ افسران کی تعیناتی کے لئے فہرستیں مانگ لی گئی ہیں تاکہ الیکشن کمیشن مذکورہ بالا تعیناتیاں کر سکے ، پنجاب حکومت جلد ازجلد مجوزہ الیکشن شیڈول کاجواب دے۔ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں بلدیاتی الیکشن کے انعقاد کے لئےاجلاس کو بتایا گیا کہ حلقہ بندی کا عمل مکمل ہو چکا ہے۔
البتہ وفاقی دارالحکومت ترمیمی آرڈیننس 2026 کی میعاد ختم ہو چکی ہے ،الیکشن کمیشن نے وفاقی حکومت سے رابطہ کرنے کا فیصلہ کیا کہ مذکورہ بالا آرڈیننس کے مطابق قانون سازی کی منظوری قائمہ کمیٹی دے چکی ہے لہذا اس منظوری کےمطابق قانون سازی کا عمل فوری طور پرمکمل کیا جائے۔ اگر اس سلسلےمیں قانون سازی نہیں کی جاتی تو الیکشن کمیشن موجودہ مقامی حکومت کے قانون وفاقی دارالحکومت اسلام آباد لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2015 کے مطابق الیکشن کرا دے گا۔ کنٹونمنٹس میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد سے متعلق اجلاس کو بتایا گیا کہ الیکشن کمیشن نے تمام کنٹونمنٹس میں حلقہ بندی کاعمل مکمل کر لیاہے۔
الیکشن کمیشن کنٹونمنٹس میں انتخابات کرانے کے لئےتیار ہے البتہ کنٹونمنٹ ایکٹ 2023 کے سیکشن 19-D(2)کے تحت وفاقی حکومت نے الیکشن کمیشن کو کنٹونمنٹس میں انتخابات کرانے کی درخواست کرنی ہے جوکہ الیکشن کمیشن کی یادہانیوں اور چیف الیکشن کمشنر کے وزیراعظم پاکستان کو تحریر کردہ خط کےباوجودمذکورہ بالا درخواست الیکشن کمیشن کو بھجوانے کے سلسلےمیں کوئی پیشرفت نہیں ہوئی۔ اس سلسلے میں الیکشن کمیشن نے فیصلہ کیا کہ ایک خط و زارت دفاع کو ارسال کیا جائے اگر اس پر کوئی خاطر خواہ جواب موصول نہ ہوا تو الیکشن کمیشن الیکشن کے انعقاد کے سلسلےمیں مناسب فیصلہ کرے گا۔اجلاس کو صوبہ خبیر پختونخوا کے بلدیاتی انتخابات کےحوالے سے بتایا گیا کہ الیکشن کمیشن نےصوبہ کے23اضلاع میں حلقہ بندی کاعمل مکمل کردیا تھا
جبکہ 7 میں جاری تھا، اس دوران صوبائی حکومت نے خیبر پختونخوا لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2023 کی سیکشن 6(5)(E)میں ترمیم کی اورویلج اور نیبر ہوڈ کونسلز کی حلقہ بندی کے لئے تھریش ہولڈ 5ہزار سے 15 ہزار سے بڑھا کر 30 ہزار سے 40 ہزار کر دیا جوکہ لوکل گورنمنٹ ایکٹ کے نائنتھ شیڈول میں دی گئی ویلج کونسلز اور نیبر ہوڈکونسلز کی تعداد کے مطابق نہیں ہے ،اگر ترمیم شدہ تھریش ہولڈ پر عمل کیا جائے تو نیبر ہوڈ اور ویلج کونسلز کی حلقہ بندی ممکن نہیں کیونکہ ویلج ہوڈ کونسلوں کی تعداد اور ترمیم شدہ تھریش ہولڈ آپس میں مطابقت نہیں رکھتے ، اس پر صوبائی حکومت کو کہا گیا کہ الیکشن کمیشن کی معاونت کرے اور مذکورہ بالا ایکٹ کےنائنتھ شیڈول میں نیبر ہوڈ اور ویلج کونسلوں کی تعداد میں مناسب ترمیم کر ے تاکہ الیکشن کمیشن صوبے میں حلقہ بندی اور انتخابات کا انعقاد یقینی بنائے ، صوبائی حکومت کے کوئی اقدام نہ اٹھانے پر کیس الیکشن کمیشن میں زیر سماعت ہے اور الیکشن کمیشن اس سلسلےمیں مناسب فیصلہ کرے گا۔
اجلاس کو صوبہ بلوچستان کے سلسلے میں بتایا گیا کہ بلدیاتی اداروں کی میعاد 8فروری 2027 کوختم ہوگی ، کوئٹہ میں بلدیاتی انتخابات کا انعقاد وفاقی آئینی عدالت کے حکم کے باوجودممکن نہ ہوسکا۔ الیکشن کمیشن نےعدالتی حکم کے مطابق حلقہ بندی کا عمل 21مئی 2026 کو مکمل کر لیا تھا لیکن صوبائی حکومت نے کوئٹہ کو 2اضلاع میں تقسیم کر دیا جس کی حد بندی کی تفصیل اور دیگر ڈیٹا الیکشن کمیشن کو مہیا نہیں کیا گیا اور صوبائی حکومت کا اس سلسلےمیں ردعمل بالکل سست ہے ۔ الیکشن کمیشن نے یہ فیصلہ کیا کہ صوبائی حکومت کو تحریر کیا جائے کہ وہ کوئٹہ میں بلدیاتی انتخابات کے لئے قانون سازی فوری مکمل کرے اور عدالتی حکم کی تعمیل یقینی بنائے۔اجلاس کو بتایا گیا کہ سندھ میں بھی بلدیاتی انتخابات کے بروقت انتخابات کے انعقادکے لئے تیاریاں شروع کردی گئی ہیں اوردفتر کو ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ اس ضمن میں تمام ضروری اقدامات اٹھائے جائیں۔
بشکریہ: اے پی پی (ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان)



