پیر، 5 اکتوبر 2026
تازہ ترین
یونیورسٹی آف سرگودھا میں طلباء و طالبات کے لیے شٹل سروس کا آغاز کر دیا گیا ہرنائی،استاد معاشرے کا وہ معمار ہے جو علم، تربیت اور کردار سازی کے ذریعے نئی نسل کی رہنمائی کرتا ہے، ڈپٹی کمشنر ستھرا پنجاب ایجنسی کی کوڑا کرکٹ پھیلانے اور جلانے کے خلاف کارروائیاں جاری ایف آئی اے فیصل آباد نے ریڈ بک میں شامل مطلوب بدنام زمانہ انسانی اسمگلر و ایجنٹ کو گرفتار کر لیا این سی ایچ ڈی، چائلڈ پروٹیکشن بیورو اور یونیورسٹی آف سرگودھا کےاشتراک سے”عالمی یومِ اساتذہ” پر سیمینار رولپنڈی پولیس کی کارروائیاں، 18 ملزمان گرفتار عالمی یومِ اساتذہ کے موقع پر گورنمنٹ بوائز ماڈل ہائی سکول بھکر میں پروقار تقریب پی ڈی ایم اے کا صوبہ بھر میں بارشوں بارے الرٹ جاری ، ترجمان سرحد پر فوج کی موجودگی پر انگلی اٹھانے والے پہلے کے پی میں اپنی 13 سالہ ناکامیوں کا حساب دیں، خیبر پختونخوا کا مسئلہ سیاست نہیں دہشت گردی ہے، وزیر دفاع خواجہ محمد آصف آئی سپیشلسٹ ڈاکٹروں کی زیر نگرانی فری آئی کیمپ دارالاحسان میں جاری آئندہ 24 گھنٹوں میں خیبرپختونخوا، گلگت بلتستان، کشمیر، پوٹھوہار، اسلام آباد اور بالائی پنجاب میں تیز ہوائوں اور چند مقامات پر بارش و ژالہ باری کا امکان ہے، محکمہ موسمیات چین میں قومی دن کی تعطیلات کے پہلے چار دنوں میں صارفی مارکیٹ مستحکم رہی،مجموعی طور پر 19.63 ارب یوآن کی فروخت کو فروغ ملا یونیورسٹی آف سرگودھا میں طلباء و طالبات کے لیے شٹل سروس کا آغاز کر دیا گیا ہرنائی،استاد معاشرے کا وہ معمار ہے جو علم، تربیت اور کردار سازی کے ذریعے نئی نسل کی رہنمائی کرتا ہے، ڈپٹی کمشنر ستھرا پنجاب ایجنسی کی کوڑا کرکٹ پھیلانے اور جلانے کے خلاف کارروائیاں جاری ایف آئی اے فیصل آباد نے ریڈ بک میں شامل مطلوب بدنام زمانہ انسانی اسمگلر و ایجنٹ کو گرفتار کر لیا این سی ایچ ڈی، چائلڈ پروٹیکشن بیورو اور یونیورسٹی آف سرگودھا کےاشتراک سے”عالمی یومِ اساتذہ” پر سیمینار رولپنڈی پولیس کی کارروائیاں، 18 ملزمان گرفتار عالمی یومِ اساتذہ کے موقع پر گورنمنٹ بوائز ماڈل ہائی سکول بھکر میں پروقار تقریب پی ڈی ایم اے کا صوبہ بھر میں بارشوں بارے الرٹ جاری ، ترجمان سرحد پر فوج کی موجودگی پر انگلی اٹھانے والے پہلے کے پی میں اپنی 13 سالہ ناکامیوں کا حساب دیں، خیبر پختونخوا کا مسئلہ سیاست نہیں دہشت گردی ہے، وزیر دفاع خواجہ محمد آصف آئی سپیشلسٹ ڈاکٹروں کی زیر نگرانی فری آئی کیمپ دارالاحسان میں جاری آئندہ 24 گھنٹوں میں خیبرپختونخوا، گلگت بلتستان، کشمیر، پوٹھوہار، اسلام آباد اور بالائی پنجاب میں تیز ہوائوں اور چند مقامات پر بارش و ژالہ باری کا امکان ہے، محکمہ موسمیات چین میں قومی دن کی تعطیلات کے پہلے چار دنوں میں صارفی مارکیٹ مستحکم رہی،مجموعی طور پر 19.63 ارب یوآن کی فروخت کو فروغ ملا
قومی خبریں

وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی ڈاکٹر مصدق ملک کا نیشنل ہائوسنگ پالیسی 2026 کے باضابطہ اجراء کے موقع پرتقریب سے خطاب

ڈاکٹر مصدق ملک
ڈاکٹر مصدق ملک

اسلام آباد۔5اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا ہے کہ نیشنل ہائوسنگ پالیسی بے گھر افراد کو چھت کی فراہمی کے لیے جامع منصوبہ بندی فراہم کرتی ہے، پالیسی پر موثر عملدرآمد کے لیے دستیاب وسائل بروئے کار لانا ہوں گے جبکہ موسمیاتی تبدیلیوں سے ہم آہنگ ماحول دوست گھروں اور ایسی پائیدار بستیوں کا قیام ضروری ہے جہاں صاف پانی، صحت مند ماحول، عبادت گاہوں سمیت بنیادی ضروریات زندگی کی تمام سہولتیں میسر ہوں، تقریباً پانچ لاکھ افرادہائوسنگ اپلیکیشن کے پورٹل پر آ چکے ہیں۔پیر کو نیشنل ہائوسنگ پالیسی 2026 کے باضابطہ اجراء کے موقع پرتقریب سے خطاب کرتے ہوئےڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ پہلی ہائوسنگ پالیسی لانے میں 50 سال لگے، وزیراعظم نے اس پالیسی میں تین وعدے کیے ہیں، پہلا وعدہ یہ ہے کہ شہری جتنی رقم کرائے کی مد میں ادا کرتے ہیں، اتنی ہی رقم میں اپنا مکان حاصل کر سکیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ’’اپنا گھر‘‘ کے نام سے سکیم کے تحت وزیراعظم نے کہا ہے کہ شہری 10 فیصد دیں گے جبکہ بینک 90 فیصد رقم فراہم کرے گا۔ 25 لاکھ روپے کے قرض پر 16 سے ساڑھے 16 ہزار روپے ماہانہ قسط جبکہ 50 لاکھ روپے کے قرض پر 30 سے 31 ہزار روپے ماہانہ قسط ہوگی۔انہوں نے کہا کہ اگر شہری 16، 18 ہزار یا 30، 31 ہزار روپے کرائے کی مد میں ادا کر رہے ہیں تو یہی رقم اپنا گھر حاصل کرنے کے لیے استعمال کی جا سکتی ہے۔ قرض کی مدت 20 سال ہے جبکہ پہلے 10 سال کے لیے شرح پانچ فیصد پر مقرر کی گئی ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ بہت سے لوگ ایسے ہیں جوہائوسنگ کے لیے درکار ابتدائی 10 فیصد رقم بھی ادا نہیں کر سکتے جبکہ کئی افراد کی آمدن 45 ہزار، 60 ہزار یا 75 ہزار روپے تک بھی نہیں ہے اور ان کی بستیاں مسمار کر دی جاتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کا دوسرا وعدہ غریب بستیوں کا تحفظ ہے، قانون کا بلڈوزر اب صرف غریب کی گلی تک نہیں جائے گا بلکہ غریب بستیوں کا تحفظ کیا جائے گا۔ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ اگر کسی بستی کو موجودہ جگہ پر برقرار رکھنا ممکن نہ ہو تو 10 کلومیٹر کے اندر متبادل جگہ تلاش کی جائے گی تاکہ کمیونٹی کو اس کےماحول سے دور نہ کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ ان بستیوں کے رہائشیوں کے سکول، مساجد اور دیگر سماجی تعلقات موجود ہیں اور کئی خاندان دو دو نسلوں سے وہاں رہ رہے ہیں، اس لیے انہیں کسی دور دراز علاقے میں منتقل نہیں کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ متبادل جگہ پر باقاعدہ کمیونٹی قائم کی جائے گی جہاں سکول، کلینک، سڑک، پانی اور نکاسی آب سمیت تمام بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں گی اور بستی کی ازسرنو تشکیل کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ اگر کوئی شخص اپنی زمین پر خود مکان تعمیر کرنا چاہتا ہے تو وہ مرحلہ وار ایک ایک کمرہ بھی تعمیر کر سکتا ہے، اس مقصد کے لیے بھی قرض کی سہولت فراہم کی جائے گی۔ بستی کے رہائشی اپنی جگہ کے ایک حصے میں دکان قائم کرکے رہائش کے ساتھ ذریعہ معاش بھی حاصل کر سکیں گے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ مکان بنانے کا طریقہ کار، ذریعہ معاش اور تیار مکان خریدنے کی سہولت بھی پالیسی میں شامل ہے۔

بڑے مکانات کو سرمایہ کاری کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہوگی، 1500 مربع فٹ تک فلیٹ یا پانچ سے 10 مرلے تک مکان کی حد مقرر کی گئی ہے اور اس کی مالیت ایک کروڑ روپے سے زیادہ نہیں ہوگی جس میں سے 99 فیصد تک رقم بینک فراہم کرے گا۔انہوں نے کہا کہ اگر کوئی بستی اتنی بے ترتیب ہو کہ وہاں بنیادی سہولیات فراہم کرنا ممکن نہ ہو تو اسی علاقے میں مناسب جگہ تلاش کرکے بستی دوبارہ تعمیر کی جائے گی۔ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ وزیراعظم کا تیسرا وعدہ ریزیلینٹ گھروں کی تعمیر سے متعلق ہے، حالیہ سیلاب میں 20 لاکھ مکانات تباہ ہوئے جبکہ پورے پاکستان میں سالانہ تقریباً تین لاکھ مکانات تعمیر ہوتے ہیں، اس طرح ایک سیلاب میں سات سال کے دوران تعمیر ہونے والے مکانات تباہ ہو گئے۔انہوں نے کہا کہ اگر ہر سیلاب میں گزشتہ کئی سال کے دوران تعمیر ہونے والے مکانات تباہ ہوتے رہیں تو اس محنت کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا، اس لیے گھروں کی تعمیر کے لیے نیا طریقہ کار اپنانا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ سندھ میں ریزیلینٹ گھروں کی تعمیر کا ماڈل اپنایا گیا ہے جہاں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کے منصوبے میں تقریباً سات لاکھ گھر تعمیر کرکے ان کی چابیاں خواتین کے حوالے کی گئی ہیں۔انہوں نے کہا کہ ریزیلینٹ گھروں کا مقصد یہ ہے کہ سیلاب یا طوفان کی صورت میں گھر تباہ نہ ہوں، خاندان بے گھر نہ ہوں اور بچوں کو کسی قسم کی تباہی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ پالیسی میں ایک ریگولیٹری اتھارٹی کی تجویز بھی دی گئی ہے تاکہ بستیوں کے حوالے سے یکساں قانون نافذ ہو۔ انہوں نے کہا کہ جو قانون گلبرگ، کلفٹن اور ایف سیون میں لاگو ہے، وہی قانون پرانی اور نئی بستیوں پر بھی لاگو ہونا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ پورے ملک کے لیے ایک ہی قانون ہوگا، دو قانون نہیں ہوں گے، طاقت قانون کے اطلاق کا معیار نہیں ہوگی اور ایک ریگولیٹری باڈی، ایک قانون، ایک ملک اور ایک عوام کے لیے یکساں انصاف اور حق کو یقینی بنایا جائے گا۔

ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ تقریباً پانچ لاکھ افراد ہائوسنگ اپلیکیشن کے پورٹل پر آ چکے ہیں، ایک لاکھ 75 ہزار درخواستیں مکمل ہو چکی ہیں جبکہ تقریباً 70 ہزار افراد کی درخواستیں پراسیس ہو کر بینکوں سے منظور ہو چکی ہیں۔انہوں نے بینکوں سے اپیل کی کہ منظور شدہ درخواستوں کو گھروں کی چابیوں میں تبدیل کیا جائے اور تمام درخواستوں پر فوری کارروائی کی جائے۔انہوں نےصوبائی حکومتوں سے بھی اپیل کی کہ وفاق کی جانب سے بنائی گئی پالیسی میں ٹرانزیکشن کاسٹ کم کی گئی ہے، اگر صوبے بھی اس میں تعاون کریں تو ہائوسنگ کا کام تیزی سے آگے بڑھے گا اور عوام کے لیے مزید آسانی پیدا ہوگی۔

بشکریہ: اے پی پی (ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان)