کوئٹہ۔ 05 اکتوبر (اے پی پی):گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا ہے کہ ملک میں سمال انڈسٹریز کو تقویت دینے سے مقامی کھپت میں اضافہ ہوگا، تجارت کے حجم میں وسعت آئیگی اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہونگے جس کے نتیجے میں مجموعی طور پر بیروزگاری میں کمی لانے میں مدد ملے گی، حکومت تاجروں اور صنعتکاروں کو ایران اور وسطی ایشیائی ممالک کی معاشی منڈیوں تک رسائی فراہم کرنے کیلئے کوئٹہ سے فضائی رابطوں اور پروازوں کی تعداد بڑھانے کیلئے پرعزم ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کے روز پاکستان ایران جوائنٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے 11ویں اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔
اجلاس میں حاجی رفوگل بڑیچ، نوید یوسف راجپوت، ولی محمد نورزئی، جاوید پراچہ، شرمین یونس، فرازنہ اور عطاء اللہ مینگل سمیت چیمبر آف سمال انڈسٹریز کے عہدیداران اور اراکین نے شرکت کی۔ اس موقع پر چیمبر آف سمال کامرس اینڈ انڈسٹریز کی جانب سے گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل کو گولڈ میڈل پہنایا گیا۔ گورنر مندوخیل نے پاک ایران جوائنٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری سالانہ جنرل اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت اور وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان تاجر اور صنعتکار دوست ہیں، اگر تاجر برادری سنجیدہ اور قابلِ عمل تجاویز پیش کرے تو حکومت ان پر فوری اقدامات کریگی۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی سطح پر ورکنگ ریلیشنز مزید بہتر بنائے جائیں گے اور پاکستان ایران باہمی تجارت کے فروغ کیلئے ہر سطح پر سہولیات فراہم کی جائیگی لہذا ضروری ہے کہ تمام تاجر وصنعتکار آپس میں باہمی روابط بڑھا کر ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر اکھٹے ہو جائیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ایران کے درمیان تجارتی حجم کو 10 ارب ڈالر تک پہنچانے کا ہدف ہے جس کی خاطر دونوں ممالک کے درمیان تجارتی روابط، سرحدی تجارت اور کاروباری سہولیات کو مزید بہتر بنانا ضروری ہے۔
گورنر مندوخیل نے کہا کہ سمال انڈسٹریز کو تقویت دینے سے مقامی کھپت میں اضافہ ہوگا، تجارت کے حجم میں وسعت آئیگی اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہونگے جس کے نتیجے میں مجموعی طور پر بیروزگاری میں کمی لانے میں مدد ملے گی۔گورنر جعفر خان مندوخیل نے معاشی ترقی کو باہمی انحصار کا عمل قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر چھوٹے معاشی پہیے رواں دواں ہوں تو بڑے پہیے بھی زیادہ تیزی سے آگے بڑھ سکتے ہیں۔ ایک شعبے کی ترقی دوسرے شعبوں کو تقویت دیتی ہے اور یہی باہمی تقویت مجموعی معاشی ترقی کی بنیاد بنتی ہے۔
گورنر بلوچستان نے کہا کہ صوبے میں تجارت و معیشت کے فروغ اور بالخصوص سرحدی تجارت کو وسعت دینے کیلئے وہ وفاقی حکومت، وفاقی وزیر تجارت اور ایران کے قونصل جنرل سے مسلسل رابطے میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کاروباری افراد کیلئے ویزا سہولیات میں آسانی پیدا کرنے کیلئے کوئٹہ میں جیری ویزا کورئیر سروس کا دفتر بھی کھولا جا رہا ہے جس سے تاجر برادری کو ویزا کے حصول میں سہولت میسر آئیگی۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ بلوچستان کو خطے کی تجارت اور معاشی سرگرمیوں کا موثر مرکز بنانے کیلئے حکومتی سطح پر تاجر اور صنعتکار برادری کے ساتھ روابط مزید مستحکم کیے جائینگے۔
بشکریہ: اے پی پی (ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان)



