اسلام آباد۔1اکتوبر (اے پی پی):عالمی ادارہ محنت (آئی ایل او) اور نیشنل پروڈکٹیوٹی آرگنائزیشن (این پی او) پاکستان نے گرین پروڈکٹیویٹی اور وسائل کے موثر استعمال کے ذریعے منصفانہ منتقلی اور موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے اقدامات کو ملک بھر میں وسعت دینے پر اتفاق کیا ہے جس کا مقصد پاکستانی صنعتوں کی عالمی مسابقتی صلاحیت میں اضافہ کرنا ہے۔ آئی ایل او سے جاری بیان کے مطابق این پی او پاکستان کے اشتراک سے اپنی ’’منصفانہ منتقلی اور موسمیاتی تبدیلی‘‘ سے متعلق اقدام کو وسعت دینے کا عمل شروع کیا ہے جس کے تحت پاکستانی صنعتوں کو وسائل کے موثر استعمال اور گرین پروڈکٹیویٹی بہتر بنانے میں معاونت فراہم کی جا رہی ہے تاکہ ماحول دوست مصنوعات کی عالمی طلب میں اضافے کے تناظر میں ملکی صنعتوں کی مسابقتی صلاحیت مزید مضبوط بنائی جا سکے۔آئی ایل او کے پروگرام کا مقصد صنعتی اداروں کو توانائی کے موثر اور ماحول دوست طریقہ کار اپنانے، پیشہ وارانہ تحفظ و سلامتی بہتر بنانے اور گرین سکلز کے فروغ میں معاونت فراہم کرنا ہے۔ اس اقدام کے ذریعے کارکنوں اور کاروباری اداروں کو عالمی سطح پر ورک پلیس میں بدلتی ہوئی ضروریات سے ہم آہنگ ہونے میں بھی مدد دی جا رہی ہے۔
عالمی سطح پر صارفین، خریداروں اور سپلائی چینز کی جانب سے ماحولیاتی طور پر پائیدار مصنوعات کی بڑھتی ہوئی طلب کے باعث گرین اکانومی کی جانب منتقلی پاکستان کے لئے ایک اہم چیلنج کے ساتھ ساتھ بڑا موقع بھی ہے۔این پی او پاکستان کو متعلقہ پیشہ وارانہ مہارت اور ضروری آلات کی دستیابی کے باعث اوپن بڈنگ کے عمل کے ذریعے اس اقدام کے پہلے مرحلے پر عملدرآمد کے لئے منتخب کیا گیا۔ ابتدائی مرحلے کے دوران آٹو اور ٹیکسٹائل سمیت 16 صنعتی مینوفیکچرنگ یونٹس میں وسائل کے موثر استعمال اور توانائی کے جائزوں، شاپ فلور پروڈکٹیویٹی اور حفاظتی امور کے آڈٹس پر مشتمل عملی اقدامات کئے گئے۔ لاہور اور کراچی میں چار آگاہی و تشہیری ورکشاپس اور ٹریننگ آف ٹرینرز کے دو سیشنز منعقد کیے گئے، جن میں تقریباً 300 سٹیک ہولڈرز نے شرکت کی۔
ابتدائی مرحلے کے حوصلہ افزا نتائج برآمد ہوئے ہیں جن میں سالانہ تقریباً 2 کروڑ 63 لاکھ 97 ہزار 206 روپے کی ممکنہ بچت بھی شامل ہے، لاہور اور کراچی میں رواں ماہ منعقدہ آگاہی ورکشاپس کے دوران مستفید ہونے والی کمپنیوں نے بھی ابتدائی مرحلے کے نتائج اور اپنے تجربات پیش کئے۔توسیعی مرحلے میں وسائل اور توانائی کے موثر استعمال سے متعلق ثابت شدہ طریقہ کار کو ملک بھر میں وسیع پیمانے پر متعارف کرانے اور ان پر عمل درآمد کو فروغ دینے پر توجہ دی جائے گی۔
این پی او نے وسائل کے موثر استعمال سے متعلق قانون (آر ای قانون) کا مسودہ بھی تیار کیا ہے، جس کا مقصد اس حوالے سے اقدامات کو ملک بھر میں وسعت دینا ہے۔ اسی طرح غیر ملکی ماہر کی تکنیکی معاونت سے فرم کی سطح پر آئی ایم پی ایس بھی تیار کیا جا رہا ہے۔قومی سطح پر اس وسیع تعاون کا مقصد صنعتی پیداواریت میں اضافہ، پیداواری لاگت میں کمی، قدرتی وسائل کے استعمال میں کمی اور موسمیاتی خطرات کے مقابلے میں صنعتی شعبے کی لچک مضبوط بنانا ہے، تاکہ پاکستانی کاروباری ادارے اور کارکن ابھرتی ہوئی عالمی گرین اکانومی میں موثر کردار ادا کر سکیں اور عالمی منڈی میں اپنی مسابقتی پوزیشن مزید مستحکم بنا سکیں۔
بشکریہ: اے پی پی (ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان)


