حیدرآباد۔ 05 اکتوبر (اے پی پی):پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ تھرپارکر کی غیر معمولی ترقی اختیارات کی منتقلی اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ثمرات کی روشن مثال ہے۔ وہ پیر کو تھر کول بلاک ون میں پاکستان کے پہلے کوئلہ خشک کرنے والے یونٹ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ تقریب میں وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ، صوبائی وزراء، ارکان اسمبلی، مقامی بلدیاتی نمائندگان، پارٹی عہدیداران و کارکنان اور عمائدین علاقہ نے شرکت کی۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ انہوں نے اپنی آنکھوں سے تھر میں جو تبدیلی دیکھی ہے، پاکستان کے دیگر علاقوں میں ایسی تبدیلی کم ہی نظر آتی ہے۔
تھرپارکر میں صرف انفراسٹرکچر، صحت اور تعلیم کے شعبوں میں ہی نہیں بلکہ ہر لحاظ سے نمایاں ترقی ہوئی ہے اور آج پورا پاکستان دیکھ رہا ہے کہ تھر کہاں سے کہاں پہنچ چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تھرپارکر پاکستان کے نظام، 1973 کے آئین اور 18ویں آئینی ترمیم کی کامیابی کی نمایاں مثال ہے۔ اسلام آباد کو چاہیے کہ تھر کے تجربے سے استفادہ کرے اور اس کامیاب ترقیاتی ماڈل کو ملک کے دیگر حصوں میں بھی فروغ دے۔چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ تھرپارکر میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت بجلی کی پیداوار پہلے 600 میگاواٹ تھی جو اب بڑھ کر 2,000 میگاواٹ تک پہنچ چکی ہے۔ تھر سے قومی گرڈ کو تقریباً 14 فیصد بجلی فراہم کی جارہی ہے اور یہ بجلی کم لاگت پر پیدا کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تھر کے کوئلے کے استعمال سے ملک کے قیمتی زرمبادلہ کی بچت ہورہی ہے۔ ان کے مطابق تھر کے کوئلے کی بدولت پاکستان کے تقریباً 1.6 ارب ڈالر کے زرمبادلہ کی بچت ہورہی ہے۔
بلاول بھٹو زرداری نے تھرپارکر کے طلبہ کی تعلیمی کامیابیوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ تھر جیسے علاقے کے بچے ملک کے اہم امتحانات میں نمایاں کامیابیاں حاصل کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تھر کے ایک طالب علم نے چین میں ہونے والے امتحان میں بھی نمایاں کامیابی حاصل کی، جو پورے پاکستان کے لیے باعثِ فخر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایم ڈی کیٹ سمیت مختلف اہم امتحانات میں تھر کے بچوں کی نمایاں کارکردگی خوش آئند ہے اور یہ اس امر کا ثبوت ہے کہ مناسب مواقع اور سہولیات میسر ہوں تو دور دراز علاقوں کے بچے بھی اپنی صلاحیتوں کا بھرپور اظہار کرسکتے ہیں۔ چیئرمین پیپلز پارٹی نے تھر میں پیدا ہونے والے روزگار کے مواقع کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ تھر کول منصوبے میں 94 فیصد ملازمین کا تعلق سندھ جبکہ 60 فیصد ملازمین کا تعلق ضلع تھرپارکر سے ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس طرح تھر کے قدرتی وسائل سے استفادہ کرنے کے ساتھ ساتھ مقامی آبادی کو روزگار کے مواقع بھی فراہم کیے جارہے ہیں۔انہوں نے زور دیا کہ اگر پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اور اختیارات کی منتقلی ترقی اور کامیابی کے مؤثر ماڈل ثابت ہوئے ہیں تو اسی ماڈل کو پورے ملک میں فروغ دیا جانا چاہیے۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ جب وہ وزیر خارجہ تھے تو تھر کے دوسرے مرحلے کے حوالے سے وزیراعظم محمد شہباز شریف کو یہاں لائے تھے۔ اس موقع پر وزیراعظم نے تھر کی پیداواری صلاحیت میں اضافے پر زور دیا تھا، جس کے بعد تھر کی پیداواری صلاحیت میں نمایاں اضافہ کیا گیا اور مستقبل میں بھی اسے مزید بڑھایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ تھر کے کوئلے سے اب صرف بجلی پیدا نہیں کی جارہی بلکہ اس کے استعمال کو مزید متنوع بنایا جارہا ہے۔ تھر کول سے فرٹیلائزر کی پیداوار اور کوئلے سے گیس بنانے کے منصوبوں پر بھی کام جاری ہے تاکہ تھر کے وسائل سے زیادہ سے زیادہ استفادہ کیا جاسکے۔
چیئرمین پیپلز پارٹی نے عالمی سطح پر فرٹیلائزر کی قلت اور اس سے پیدا ہونے والی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ تھر کے کوئلے سے فرٹیلائزر تیار کرنے کے منصوبے کو تیزی سے مکمل کیا جائے تاکہ جلد اس کا افتتاح کرکے پیداوار کو مارکیٹ میں لایا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ تھر کے تجربے سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ مقامی وسائل، جدید ٹیکنالوجی، نجی شعبے کی شراکت اور مؤثر حکومتی پالیسیوں کو یکجا کرکے بڑے ترقیاتی اہداف حاصل کیے جاسکتے ہیں۔ بلاول بھٹو زرداری نے سندھ کی کاروباری برادری کو صوبے میں سرمایہ کاری کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ جس طرح پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے تھرپارکر میں ترقی کے نئے مواقع پیدا ہوئے ہیں، اسی ماڈل کو کراچی اور سندھ کے دیگر علاقوں میں بھی فروغ دیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت کے پاس متعدد منصوبے منصوبہ بندی اور عملدرآمد کے مراحل میں ہیں، جن کے ذریعے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت کراچی سمیت سندھ کے ساحلی علاقوں میں ترقی، سرمایہ کاری اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کیے جائیں گے۔
انہوں نے کراچی میں کارنیش منصوبے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت اسے ڈی ایچ اے کے اشتراک سے تیار کرنے پر غور کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دبئی میں ڈی آئی ایف سی کی طرز پر کراچی میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت سندھ انویسٹمنٹ زون کے قیام کی تجویز بھی زیرِ غور ہے، جس کا مقصد کاروباری مواقع پیدا کرنا اور عالمی کاروباری برادری کا اعتماد حاصل کرنا ہے۔بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ٹھٹھہ کے کیٹی بندر میں بھی پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت بندرگاہ کے قیام کا منصوبہ زیرِ غور ہے۔ انہوں نے پاکستان بھر کی کاروباری برادری کو سندھ میں سرمایہ کاری کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ سندھ حکومت پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت متعدد منصوبوں اور مواقع پر کام کررہی ہے، جن سے نجی شعبے کے ساتھ ساتھ ملک کی معیشت اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت، نجی شعبہ اور عوام باہمی تعاون اور جذبے کے ساتھ کام کریں تو نہ صرف سندھ میں ترقی کی رفتار تیز کی جاسکتی ہے بلکہ پورے پاکستان کی ترقی کو بھی فروغ دیا جاسکتا ہے۔ چیئرمین پیپلز پارٹی نے تھر کے عوام، کارکنوں اور نوجوانوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ تھر نے جس محنت اور عزم کے ساتھ ترقی کا سفر طے کیا ہے وہ پورے پاکستان کے لیے ایک قابلِ فخر مثال ہے۔ دریں اثناء بلاول بھٹو زرداری نے تھر کول بلاک ون کا دورہ کیا اور پاکستان کے پہلے کوئلہ خشک کرنے والے یونٹ کا افتتاح کیا۔
بعد ازاں اسلام کوٹ پہنچنے پر انہوں نے تھر فاؤنڈیشن ہسپتال اور تھر کول بلاک ٹو کا دورہ کیا۔ تھر کول بلاک ٹو کے دورے کے موقع پر انہیں کوئلے کی کان کی توسیع کے تیسرے مرحلے کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔ انہوں نے مختلف اسٹالز کا معائنہ کیا اور طلبہ، خواتین ملازمین اور مقامی ملازمین سے ملاقات کی۔ انہوں نے 100 ایکڑ پر مشتمل زرعی تحقیقی رقبے کا بھی معائنہ کیا، جہاں کھارے پانی سے چارے کی فصل اگانے کے منصوبے پر انہیں بریفنگ دی گئی۔
بشکریہ: اے پی پی (ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان)



