اسلام آباد۔6اکتوبر (اے پی پی):پاکستان میں وفاقی جمہوری جمہوریہ ایتھوپیا کے سفیر ڈاکٹر عمر حسین اوبا نے منگل کو کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آباد (سی یو آئی ) کا دورہ کیا جہاں ایتھوپیا کی جامعات اور سی یو آئی کے مابین تعلیمی، تحقیقی اور ادارہ جاتی تعاون کو مزید فروغ دینے کے امکانات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔سفیر کے ہمراہ میلاو گیٹاچیو، منسٹر قونصلر، چالاشیو ایشیتی، پبلک ڈپلومیسی آفیسر اور نوید احمد، بزنس پروموشن آفیسر بھی موجود تھے۔ اجلاس میں یونیورسٹی کے ریکٹر پروفیسر ڈاکٹر راحیل قمر، تمغۂ امتیاز کی قیادت میں اعلیٰ انتظامیہ نے شرکت کی جن میں ڈاکٹر فہیم اے قریشی، رجسٹرار،محمد اعظم، خزانچی، پروفیسر ڈاکٹر سجاد اے مدنی، کنٹرولر امتحانات؛ پروفیسر ڈاکٹر ماجد اقبال، انچارج اسلام آباد کیمپس اور منیبہ ناصر سربراہ سی یو آئی انٹرنیشنل آفس شامل تھے۔
ملاقات کے دوران دونوں جانب سے طلبہ کے لئے وظائف، فیکلٹی کے باہمی روابط، مصنوعی ذہانت، ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز، ڈیجیٹل تبدیلی، علم و تجربات کے تبادلے اور پائیدار ترقی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کے لئے ایک باقاعدہ اور منظم فریم ورک تشکیل دینے پر غور کیا گیا۔تعلیمی روابط کو مزید مضبوط بنانے کے لئے ریکٹر سی یو آئی پروفیسر ڈاکٹر راحیل قمر نے ایتھوپیا کے طلبہ کو ٹیوشن فیس سے مکمل استثنا کے ساتھ 20 وظائف فراہم کرنے پر آمادگی کا اظہار کیا۔ اس اقدام کی عملی تفصیلات مجوزہ ادارہ جاتی تعاون کے تحت طے کی جائیں گی۔
دونوں جانب سے فیکلٹی تعاون کے امکانات پر بھی گفتگو ہوئی، جن میں ایڈجنکٹ پروفیسرز کا باہمی تبادلہ اور عدیس ابابا یونیورسٹی سمیت ایتھوپیا کے دیگر اعلیٰ تعلیمی اداروں کے ساتھ روابط کا فروغ شامل ہے۔ریکٹر نے سی یو آئی اور ایتھوپیا کے وائس چانسلرز کے ایک وفد کے درمیان باقاعدہ روابط اور تبادلۂ خیال کی بھی تجویز پیش کی، تاکہ ڈیجیٹل علم اور تجربات کے تبادلے کو فروغ دیا جاسکے اور ایتھوپیا کی جامعات سی یو آئی کے ٹیکنالوجی پر مبنی جامعہ جاتی نظم و نسق کے تجربات سے استفادہ کرسکیں۔پروفیسر ڈاکٹر راحیل قمر نے وفد کو مصنوعی ذہانت اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے شعبوں میں سی یو آئی کی بڑھتی ہوئی توجہ اور اقدامات سے آگاہ کیا۔
انہوں نے اے آئی تحقیق اور نیشنل سینٹر آف آرٹیفیشل انٹیلی جنس (این سی اے آئی ) سے متعلق سرگرمیوں میں ممکنہ تعاون کے مواقع پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ جامعات کو ٹیکنالوجی کے اگلے دور کے لیے ابھی سے تیاری کرنا ہوگی، جہاں مصنوعی ذہانت، انجینئرنگ، سائبرنیٹکس، کوانٹم کمپیوٹنگ اور کوانٹم ریزیلینٹ ٹیکنالوجیز کا باہمی امتزاج تیزی سے بڑھ رہا ہے۔اعلیٰ تعلیم کی ڈیجیٹل تبدیلی بھی ملاقات میں تعاون کے ایک اہم شعبے کے طور پر سامنے آئی۔ سفیر ڈاکٹر عمر حسین اوبا نے جامعہ جاتی نظم و نسق اور خدمات کی فراہمی کو ڈیجیٹل بنانے کے لیے سی یو آئی کی پیش رفت کو سراہا اور دونوں ممالک کی جامعات کے مابین ادارہ جاتی تجربات کے تبادلے کی اہمیت پر زور دیا۔
انہوں نے بالخصوص "ذہنوں اور افکار کے تبادلے” میں ایتھوپیا کی دلچسپی کا اظہار کیا اور کہا کہ جامعات کے مابین براہِ راست مکالمے اور روابط سے دونوں ممالک کے طلبہ، محققین اور تعلیمی اداروں کو حقیقی اور دیرپا فوائد حاصل ہوسکتے ہیں۔سفیر نے قابلِ تجدید توانائی، ماحولیاتی تحفظ اور بڑے پیمانے پر شجرکاری کے لیے ایتھوپیا کی کوششوں پر بھی روشنی ڈالی، جبکہ سی یو آئی کے گرین کیمپس اقدامات اور ڈیجیٹلائزیشن کو ماحولیاتی پائیداری سے ہم آہنگ کرنے کی کاوشوں کو سراہا۔ملاقات کے بعد ڈاکٹر عمر حسین اوبا نے سی یو آئی اسلام آباد کیمپس میں آروکیریا کا پودا لگایا۔ یہ شجرکاری ایتھوپیا اور کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آباد کے ماحولیاتی پائیداری کے مشترکہ عزم کے ساتھ ساتھ تعلیم، سائنس اور علم کے تبادلے پر استوار بڑھتی ہوئی شراکت داری کی علامت قرار دی گئی۔
بشکریہ: اے پی پی (ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان)



