اسلام آباد۔1اکتوبر (اے پی پی):فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر)نے ملک میں ٹیکس آڈٹ اور اسیسمنٹ کے طریقہ کار کو مکمل طور پر ڈیجیٹل اور شفاف بنانے کے لئے انکم ٹیکس رولز 2002 میں ترامیم کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ ان ترامیم کے تحت ٹیکس قوانین میں "فیس لیس آڈٹ اور اسیسمنٹ” کا ایک نیا باب شامل کیا گیا ہے جس کا مقصد ٹیکس کے نظام سے انسانی مداخلت کا خاتمہ کرنا ہے۔ایف بی آر کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق نئے خودکار نظام کو چلانے کے لئے نیشنل فیس لیس سینٹر قائم کیا جائے گا جس کی سربراہی ڈائریکٹر جنرل کریں گے۔
اس سینٹر کو چار بنیادی حصوں یعنی آڈٹ ونگ، اسیسمنٹ ونگ، کوالٹی کنٹرول ونگ اور فیلڈ آپریشنز ونگ میں تقسیم کیا گیا ہے۔ نئے نظام کےتحت کیسز کی تقسیم کے لئے خاص کمپیوٹرائزڈ الگورتھم استعمال کیا جائے گا جس سے کیس سنبھالنے والے ٹیکس افسر یا یونٹ کی شناخت مکمل طور پر پوشیدہ رہے گی ، ٹیکس دہندگان کو تمام نوٹسز اور رپورٹس ایف بی آر کے سسٹم سے ڈیجیٹل شناختی نمبر کے ساتھ آن لائن جاری کی جائیں گی ،ٹیکس دہندگان اپنے تمام جوابات اور دستاویزات صرف اپنے مخصوص آئرس اکائونٹ کے ذریعے ہی الیکٹرانک طور پر جمع کرانے کے پابند ہوں گے۔
ٹیکس آڈٹ اور قانونی کارروائی کے دوران ضرورت پڑنے پر ٹیکس دہندگان کے بیانات اور سماعتیں آن لائن ویڈیو لنک کے ذریعے ریکارڈ کی جائیں گی ،شفافیت کو یقینی بنانے کے لئے ایک ہی کیس کا آڈٹ، اسیسمنٹ اور کوالٹی کنٹرول الگ الگ افسران کے سپرد کیا جائے گا اور کوئی بھی افسر ایک کیس میں ایک سے زیادہ فرائض انجام نہیں دے سکے گا۔ نئی ترامیم کا مقصد ٹیکس آڈٹ میں صوابدیدی اختیارات کا خاتمہ اور ٹیکس گزاروں کے لئے نظام کو آسان بنانا ہے۔ یہ قوانین نوٹیفکیشن کے اجرا ء کے ساتھ ہی بورڈ کی جانب سے مقرر کردہ مختلف مراحل میں نافذ العمل ہوں گے۔
بشکریہ: اے پی پی (ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان)


