اوٹاوا ۔1اکتوبر (اے پی پی):کینیڈین وزیراعظم مارک کارنی نے کہا ہے کہ سکھ لیڈر ہردیپ سنگھ نجر قتل کیس میں بھارت کے ملوث ہونے کے شواہد موجود ہیں، جبکہ کینیڈا اپنی سرزمین پر اس نوعیت کے جرائم دوبارہ نہ ہونے کی ضمانت نہیں دے سکتا۔ کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق نیویارک ٹائمز کو انٹرویو میں کینیڈین وزیراعظم نے کہاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کو روکنے کیلئے سکیورٹی تعاون لازمی ہے تاہم وہ اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتے کہ کینیڈا میں بھارت سے منسلک کوئی جرم دوبارہ نہیں ہوگا۔
مارک کارنے کی طرف سے پہلی مرتبہ ہردیپ سنگھ نجر کے قتل کے معاملے پر بات چیت کی گئی ہے۔ اس سے قبل سابق کینیڈین وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے انکشاف کیا تھا کہ بھارتی ایجنٹوں نے کینیڈین شہری ہردیپ سنگھ نجر کو قتل کیا ہے۔ جسٹن ٹرڈو کے اس انکشاف کے بعد بھارت اور کینیڈا کے درمیان تعلقات انتہائی کشیدہ ہو گئے تھے اوردونوں ممالک نے سفارتی عملے کو بے دخل کر دیا تھا جبکہ کینیڈا نے بھارتی شہریوں کے لئے ویزوں کا اجرا روک دیاتھا۔ کینیڈین حکام کے مطابق نجر قتل کیس کی تحقیقات کے دوران بھارتی حکومتی ایجنٹوں اور کینیڈا میں سرگرم جرائم پیشہ نیٹ ورکس کے درمیان روابط سامنے آئے ہیں۔
کینیڈین سکیورٹی انٹیلی جنس سروس نے بھی بھارت کی کینیڈا میں مذموم سرگرمیوں کے تناظر میں ٹرانس نیشنل ریپریشن کو اہم معاملہ قرار دیا ہے۔کینیڈین حکام نے اس معاملے کو بھارت کی سرحد پار جبر اور غیر ملکی مداخلت کی سرگرمیاں قراردیاہے، جبکہ امریکا میں نیویارک میں ایک سکھ امریکی شہری کے قتل کی مبینہ سازش کے مقدمے میں بھی بھارتی حکومتی اہلکار کے ملوث ہونے کے شواہد سامنے آ چکے ہیں ۔
یادرہے کہ ہردیپ سنگھ نجر کو 18 جون 2023 کو برٹش کولمبیا میں قتل کیا گیا تھا جبکہ مئی 2024میں کینیڈین پولیس نے قتل میں ملوث ہونے کے الزام میں 4افراد کو گرفتار کیا۔ اکتوبر 2024میں کینیڈا نے ہردیپ سنگھ قتل کیس کے حوالے سے 6بھارتی سفارتکاروں اور قونصلر حکام کو ملک سے نکال دیا تھا۔
بشکریہ: اے پی پی (ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان)


