جمعہ، 2 اکتوبر 2026
تازہ ترین
ڈگری میں کمپاؤنڈ اضافے کا ذکر نہ ہو تو نفقہ میں سالانہ اضافہ اصل رقم پر ہوگا، سپریم کورٹ پاک بحریہ کے غلام مصطفیٰ بشیر نے ایشین گیمز میں پاکستان کے لیے کانسی کا تمغہ جیت لیا لندن میں پاکستان کی بڑی کامیابی، ٹیکنالوجی اور عوامی خدمات کے شعبے میں 3 اہم عالمی اعزازات اپنے نام کر لیے پاکستان فلم انڈسٹری کے لیجنڈری اداکار ،چاکلیٹی ہیرو وحید مراد کی سالگرہ جمعہ کو منائی گئی وزیراعظم کے مشیر برائے صنعت و پیداوار ہارون کی زیر صدارت جیم سٹون کے مرکز کے قیام سے متعلق اجلاس ، قیمتی پتھروں کے شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے بارے غور کیا گیا وفاقی وزیرِ ریلوے کا شمالی وزیرستان میں سکیورٹی فورسز کے کامیاب آپریشن پر جوانوں کو زبردست خراجِ تحسین پاکستان سمیت دنیا بھر میں عدم تشدد کا عالمی دن منایا گیا سپیکر قومی اسمبلی کا شمالی وزیرستان میں کامیاب آپریشن پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین الیکشن کمیشن کی جانب سے اسلام آباد میں یونین کونسلز کی ابتدائی حلقہ بندی پر متعلقہ ووٹرز کےاعتراضات نمٹانے کی مدت ختم نائب وزیر اعظم محمد اسحاق ڈار کی زیر صدارت ایس ایس جی سی ایل کے گیس کے غیر حساب شدہ نقصانا ت کے معاملے پر اعلیٰ سطحی کمیٹی کا اجلاس، توانائی کے تحفظ اور کمپنی کی عملی و مالیاتی پائیداری بحال کرنے کی اہمیت پر زور صدرِ مملکت آصف علی زرداری کا شمالی وزیرستان میں فتنہ الخوارج کے خلاف کامیاب آپریشن پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین الیکشن کمیشن نے متحدہ علماء و مشائخ کونسل کے انٹراپارٹی الیکشن کی منظوری دے دی ، نوٹیفکیشن جاری ڈگری میں کمپاؤنڈ اضافے کا ذکر نہ ہو تو نفقہ میں سالانہ اضافہ اصل رقم پر ہوگا، سپریم کورٹ پاک بحریہ کے غلام مصطفیٰ بشیر نے ایشین گیمز میں پاکستان کے لیے کانسی کا تمغہ جیت لیا لندن میں پاکستان کی بڑی کامیابی، ٹیکنالوجی اور عوامی خدمات کے شعبے میں 3 اہم عالمی اعزازات اپنے نام کر لیے پاکستان فلم انڈسٹری کے لیجنڈری اداکار ،چاکلیٹی ہیرو وحید مراد کی سالگرہ جمعہ کو منائی گئی وزیراعظم کے مشیر برائے صنعت و پیداوار ہارون کی زیر صدارت جیم سٹون کے مرکز کے قیام سے متعلق اجلاس ، قیمتی پتھروں کے شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے بارے غور کیا گیا وفاقی وزیرِ ریلوے کا شمالی وزیرستان میں سکیورٹی فورسز کے کامیاب آپریشن پر جوانوں کو زبردست خراجِ تحسین پاکستان سمیت دنیا بھر میں عدم تشدد کا عالمی دن منایا گیا سپیکر قومی اسمبلی کا شمالی وزیرستان میں کامیاب آپریشن پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین الیکشن کمیشن کی جانب سے اسلام آباد میں یونین کونسلز کی ابتدائی حلقہ بندی پر متعلقہ ووٹرز کےاعتراضات نمٹانے کی مدت ختم نائب وزیر اعظم محمد اسحاق ڈار کی زیر صدارت ایس ایس جی سی ایل کے گیس کے غیر حساب شدہ نقصانا ت کے معاملے پر اعلیٰ سطحی کمیٹی کا اجلاس، توانائی کے تحفظ اور کمپنی کی عملی و مالیاتی پائیداری بحال کرنے کی اہمیت پر زور صدرِ مملکت آصف علی زرداری کا شمالی وزیرستان میں فتنہ الخوارج کے خلاف کامیاب آپریشن پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین الیکشن کمیشن نے متحدہ علماء و مشائخ کونسل کے انٹراپارٹی الیکشن کی منظوری دے دی ، نوٹیفکیشن جاری
قومی خبریں

سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے اقتصادی امور کا اجلاس، غیر ملکی معاونت سے جاری منصوبوں میں تاخیر پر تشویش کا اظہار

سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے اقتصادی امور کا اجلاس، غیر ملکی معاونت سے جاری منصوبوں میں تاخیر پر تشویش کا اظہار

اسلام آباد۔1اکتوبر (اے پی پی):سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے اقتصادی امور نے غیر ملکی معاونت سے جاری منصوبوں میں تاخیر پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے غیر ملکی مالی معاونت سے جاری ترقیاتی منصوبوں میں شفاف خریداری کے طریقہ کار، واضح احتسابی نظام اور سرکاری اداروں، عملدرآمدی ایجنسیوں اور ترقیاتی شراکت داروں کے درمیان موثر رابطہ کاری کے ذریعے عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔ قائمہ کمیٹی کا اجلاس جمعرات کویہاں سینیٹر سیف اللہ ابڑو کی زیر صدارت منعقدہ ہوا۔ اجلاس میں غیر ملکی مالی معاونت سے جاری ترقیاتی منصوبوں بالخصوص پنجاب میں پانی اور گندے پانی کی نکاسی کے منصوبوں، 765 کے وی داسو اسلام آباد ٹرانسمیشن لائن منصوبے اور شعبہ مواصلات کی کا ریک ٹرانچ-III منصوبے کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور منصوبوں میں طویل تاخیر، خریداری کے طریقہ کار، کنسلٹنٹس کے انتخاب، عملدرآمد اور پارلیمانی فورم کو بریفنگ دینے کے لیے اعلیٰ حکام کی عدم دستیابی پر سوالات اٹھائے۔ اجلاس میں سینیٹر ہدایت اللہ خان، سینیٹر روبینہ خالد، سینیٹر کا مل علی آغا اور سینیٹر کامران مرتضیٰ نے اجلاس میں شرکت کی۔

کمیٹی کو اقتصادی امور ڈویژن کی جانب سے پنجاب میں غیر ملکی معاونت سے جاری اور آئندہ کے منصوبوں کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی اوربتایاگیاکہ یہ منصوبے واٹر اینڈ سینیٹیشن ایجنسی واساکی جانب سے کثیرالجہتی و دوطرفہ ترقیاتی شراکت داروں اور اقوام متحدہ کے اداروں کے تعاون سے مکمل کیے جا رہے ہیں۔ بریفنگ میں 2008ء سے اب تک کے منصوبوں کی منظوری، ٹینڈرنگ کے عمل، جمع کرائی گئی بولی سکیورٹیز، پرفارمنس گارنٹیز، موبلائزیشن ایڈوانس گارنٹیز، منصوبوں پر پیشرفت، اخراجات اور صوبائی حکومت کی جانب سے ادا کردہ سود کی تفصیلات شامل تھیں۔کمیٹی کو غیر ملکی معاونت سے جاری منصوبو ں بالخصوص فیصل آباد شہر کے لیے واٹر ریسورسز کی توسیع کے فیز-II منصوبے بارے بریفنگ میں بتایا گیا کہ اس منصوبہ کے تحت پانی فراہم کرنے کی صلاحیت 30 ملین گیلن یومیہ ہے ، منصوبہ 2019ء میں منظور کیا گیا تھا۔

بحث کے دوران کمیٹی نے غیر ملکی معاونت سے جاری ترقیاتی منصوبوں میں تاخیر پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ طویل تاخیر کا براہ راست بوجھ عوام کو اٹھانا پڑتا ہے کیونکہ خدمات کی فراہمی متاثر ہونے کے ساتھ اضافی اخراجات اور منصوبوں کی تکمیل میں مزید تاخیر ہوتی ہے۔ سیکرٹری اقتصادی امور ڈویژن نے کمیٹی کو بتایا کہ ماضی میں غیر ملکی معاونت سے چلنے والے منصوبوں میں تاخیر کے حوالے سے کوئی واضح پالیسی فریم ورک موجود نہیں تھا جس کے باعث طریقہ کار میں غیر ضروری طوالت پیدا ہوتی رہی۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ وزیراعظم نے غیر ملکی معاونت سے جاری منصوبوں میں تاخیر دور کرنے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے ، وزیراعظم کی تشکیل کردہ کمیٹی اپنی سفارشات تقریباً مکمل کر چکی ہے اور ان سفارشات پر عملدرآمد سے غیر ملکی معاونت سے جاری منصوبوں میں تاخیر کم ہونے اور عملی امور میں بہتری آنے کی توقع ہے۔

کمیٹی کو فلو چارٹ بھی پیش کیا گیا جس میں مختلف مراحل کی نشاندہی کی گئی اور بتایا گیا کہ بعض منصوبوں میں مجموعی طریقہ کار کو مکمل ہونے میں آٹھ سال تک کا عرصہ لگ گیا۔کمیٹی کو بتایا گیا کہ آئندہ نئے منصوبوں میں تفصیلی انجینئرنگ ڈیزائن ابتدائی مرحلے میں ہی شامل کیا جائے گا جبکہ کنسلٹنٹس کی تقرری میں تاخیر سے بھی گریز کیا جائے گا۔ سینیٹر روبینہ خالد نے غیر ملکی معاونت سے چلنے والے منصوبوں میں خریداری کے عالمی طریقہ کار کے بارے میں دریافت کیا اور یہ جاننا چاہا کہ بین الاقوامی طریقہ کار کا پاکستان میں رائج طریقہ کار سے کس حد تک موازنہ کیا جا سکتا ہے۔ چیئرمین کمیٹی نے کنسلٹنٹ کے انتخاب میں چار ماہ کی تاخیر پر بھی سوال اٹھایا۔

کمیٹی کو بتایا گیا کہ تین فرموں کو نامزد کیا گیا تھا تاہم ڈونر ادارے نے جائزہ رپورٹ کو قبول نہیں کیا۔ ڈونرادارے اور متعلقہ محکمے کے درمیان جائزے کے نتائج پر اتفاق نہ ہونے کے باعث معاملہ حل کرنے کے لیے اعلیٰ سطح کا اجلاس تشکیل دینا پڑا تاہم کمیٹی متعلقہ حکام کی جانب سے ابتدائی مرحلے میں جائزہ رپورٹ مسترد کیے جانے کی وضاحت سے مطمئن نہ ہوئی۔ معاملہ تفصیلی بریفنگ کے لیے موخر کرتے ہوئے چیئرمین نے پنجاب پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ بورڈ کے چیئرمین کو آئندہ اجلاس میں طلب کرنے کی ہدایت کی تاکہ معاملے پر مزید وضاحت فراہم کی جا سکے۔

اجلاس میں لاہور ویسٹ واٹر اینڈ ڈرینج مینجمنٹ منصوبے کا بھی جائزہ لیاگیا۔ بریفنگ کے دوران کمیٹی نے مشاہدہ کیا کہ منصوبے کے ایک اہم جزو سے متعلق مربوط طریقہ کار کی تفصیلات مناسب طور پر فراہم نہیں کی گئیں۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ چار مالیاتی بولیاں موصول ہوئی تھیں جن میں سے تین کو تکنیکی اہلیت نہ رکھنے کی بنیاد پر مسترد کر دیا گیا۔ چیئرمین نے ایجنڈے کے مطابق خریداری کے پورے عمل کی تفصیلات طلب کرتے ہوئے شفافیت یقینی بنانے پر زور دیا۔ کمیٹی نے ہدایت کی کہ بولی میں حصہ لینے والی کمپنیوں کے ساتھ ہونے والی تمام خط و کتابت، ان کی نااہلی کی وجوہات اور اس حوالے سے معاون دستاویزات فراہم کی جائیں تاکہ پارلیمانی فورم خریداری کے عمل کا تفصیلی جائزہ لے سکے۔

کمیٹی نے یہ وسیع تر سوال بھی اٹھایا کہ واسا سے متعلق غیر ملکی معاونت کے منصوبے صرف پنجاب تک محدود ہیں یا دیگر صوبوں میں بھی اسی نوعیت کے منصوبے جاری ہیں۔ چیئرمین نے بلوچستان کو درپیش پانی کے مسائل کو خصوصی طور پر اجاگر کرتے ہوئے ہدایت کی کہ آئندہ اجلاس میں حکومت بلوچستان پانی سے متعلق منصوبوں بشمول واسا سے متعلقہ منصوبوں اور اقدامات پر کمیٹی کو بریفنگ دے۔کمیٹی نے 24 اگست، 4 ستمبر اور 14 ستمبر 2026ء کے اجلاسوں میں 765 کے وی داسو اسلام آباد ٹرانسمیشن لائن منصوبے کے لاٹس I تا IV اور دیگر بجلی کے شعبے کے منصوبوں کے حوالے سے دی گئی سفارشات پر عملدرآمد کی صورتحال کا بھی جائزہ لیا۔ اس موقع پر کمیٹی نے کنسلٹنٹس اور ٹھیکیداروں کے خلاف کی گئی کارروائی کی تفصیلات طلب کیں اور ٹرانسمیشن لائن منصوبے پر پیشرفت کا جائزہ لیا۔

کمیٹی کو بتایا گیا کہ مجموعی طور پر 88 ٹاورز میں سے 8 ٹاورز کے حوالے سے ادائیگیاں کی جا چکی ہیں اور ان ٹاورز پر کا م شروع ہو گیا ہے۔ چیئرمین نے باقی 80 ٹاورز کے حوالے سے جاری کردہ ڈیمانڈ نوٹسز کمیٹی کو فراہم کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے باقی منصوبوں کے این او سیز کی صورتحال بھی دریافت کی اور عملدرآمد کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور کرنے کے لیے کیے جانے والے اقدامات کے بارے میں سوالات اٹھائے۔کمیٹی نے 765 کے وی داسو-اسلام آباد ٹرانسمیشن لائن منصوبے کے لاٹس I تا IV کی عملدرآمدی ایجنسی کو واجب الادا اور زیر التواء ادائیگیوں کا معاملہ بھی زیر غور لایا۔ ایجنڈے کے مطابق وزارت خزانہ و محصولات اور وزارت منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات کے سیکرٹریز سے زیر التواء ادائیگیوں کی رہائی میں درپیش مسائل اور منصوبے کی بروقت تکمیل کو یقینی بنانے کے لیے تفصیلی بریفنگ طلب کی گئی۔

کمیٹی نے منصوبے پر عملدرآمد کو متاثر کرنے والی مالی اور انتظامی رکاوٹیں دور کرنے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے اپنی سابقہ سفارشات کے تناظر میں متعلقہ معلومات طلب کیں۔کمیٹی نے شعبہ مواصلات میں کا ریک ٹر انچ-III راجن پور-ڈی جی خان-ڈی آئی خان منصوبے کا بھی جائزہ لیا جس میں منصوبے کی موجودہ عملدرآمدی صورتحال، تازہ ترین عملی و مالی پیشرفت، اخراجات، جمع کرائی گئی بولی سکیورٹیز، پرفارمنس گارنٹیز، موبلائزیشن ایڈوانس گارنٹیز اور سابقہ اجلاسوں میں کمیٹی کی سفارشات پر عملدرآمد کی صورتحال شامل تھی۔کمیٹی نے متعلقہ سیکرٹری کی بریفنگ کے لیے عدم موجودگی پر سوال اٹھایا اور دریافت کیا کہ سیکرٹری خود پارلیمانی فورم کے سامنے معاملے کی وضاحت اور بریفنگ کے لیے کیوں موجود نہیں تھے۔

کمیٹی نے قرار دیا کہ متعلقہ سیکرٹری علی شیر مسعود کمیٹی کے سامنے پیش ہو کر مطلوبہ بریفنگ دیں۔ کمیٹی نے اجلاس کے دوران اس امر پر زور دیا کہ غیر ملکی مالی معاونت سے جاری ترقیاتی منصوبوں پر شفاف خریداری کے طریقہ کار، واضح احتسابی نظام اور سرکاری اداروں، عملدرآمدی ایجنسیوں اور ترقیاتی شراکت داروں کے درمیان موثر رابطہ کاری کے ذریعے عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔ کمیٹی نے ان تمام معاملات میں مکمل دستاویزات بھی طلب کیں جہاں تاخیر یا بولیوں کی نااہلی سے متعلق سوالات پیدا ہوئے جن میں خریداری کے فیصلے، بولیوں کی جانچ، ضمانتیں، ادائیگیاں، منصوبوں پر پیشرفت اور متعلقہ خط و کتابت شامل ہے۔

بشکریہ: اے پی پی (ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان)