اسلام آباد۔1اکتوبر (اے پی پی):اسلام آباد ہائیکورٹ میں زیر سماعت 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی سے متعلق کیس میں پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی نے اپنا تفصیلی جواب اسلام آباد ہائی کورٹ میں جمع کرا دیا، 23 صفحات پر مشتمل اپنے جواب میں پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی کا فی الحال قانون موجود نہیں،پی ٹی اے قانون اور حاصل اختیارات سے تجاوز کر کے بچوں کی عمر کی تصدیق کا نظام قائم نہیں کر سکتی،بچوں کو آن لائن خطرات سے بچانے کے لیے نیا قانونی اور پالیسی فریم ورک تشکیل دینا ضروری ہے،غیر قانونی آن لائن مواد بلاک کرنے کا اختیار محدود اور عبوری نوعیت کا ہے،پی ای سی اے ترمیم 2025 کے تحت سوشل میڈیا پروٹیکشن اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی قائم کی جا رہی ہے،غیر قانونی مواد اور جعل سازی کی شکایت کے لیے سوشل میڈیا پروٹیکشن اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی کا قیام جلد عمل میں لایا جائے گا،سائبر کرائمز اور اخلاق باختہ مواد کے پھیلائو کے خلاف کارروائی اب این سی سی آئی اے کا مینڈیٹ ہے۔
پی ٹی اے نے اب تک 17 لاکھ 89 ہزار سے زائد غیر قانونی آن لائن لنکس اور یو آر ایلز کا جائزہ لیا،آن لائن خلاف ورزیوں پر اب تک 15 لاکھ 77 ہزار سے زائد غیر قانونی یو آر ایلز کو بلاک کیا جا چکا ہے۔ پی ٹی اے کی جانب سے آن لائن مواد بلاک کرنے کی مجموعی شرح 88.20 فیصد رہی،ٹک ٹاک پر 88.68 فیصد، یوٹیوب پر 87.34 فیصد اور فیس بک پر 78.57 فیصد لنکس بلاک کیے گئے،انسٹاگرام پر 79.52 فیصد اور ایکس (ٹوئٹر) پر 48.42 فیصد لنکس پر کارروائی کی گئی،اخلاق باختہ مواد سے متعلق 10 لاکھ 66 ہزار سے زائد ویب سائٹس اور لنکس بلاک کیے گئے،اسلام کے خلاف مواد پر 2 لاکھ 3 ہزار سے زائد جبکہ ملکی سلامتی کے خلاف 46 ہزار سے زائد لنکس بلاک کیے گئے
،سوشل میڈیا کمپنیاں پاکستان میں رجسٹرڈ ہیں نہ مقامی قوانین کی پابند، تکنیکی حدود رکاوٹ ہیں۔ ایچ ٹی ٹی پی ایس (HTTPS) انکرپشن کے باعث انفرادی مواد بلاک کرنا ناممکن، پوری ویب سائٹ بند کرنا پڑتی ہے،سوشل میڈیا کمپنیوں سے مقامی تعمیل اور گریوانس آفیسر کی تعیناتی کی درخواست پر اب تک کوئی ردعمل نہیں ملا،یونیسیف، ٹک ٹاک، میٹا اور جی ایس ایم اے کے ساتھ مل کر بچوں کی حفاظت کے لیے آگاہی مہمات جاری ہیں
،بچوں پر آن لائن مظالم اور استحصال کی رپورٹس کے لیے ٹول فری ہیلپ لائن 1121 فعال کی جا چکی ہے،انسٹاگرام پر پاکستانی صارفین کے لیے حفاظتی فیچر ’’ٹین اکائونٹس‘‘ کا اجراء کر دیا گیا ہے۔ اپنے جواب میں پی ٹی اے نے استدعا کی ہے کہ پی ٹی اے کے قانونی دائرہ کار سے باہر مانگی گئی ریلیف کی حد تک درخواست خارج کی جائے۔
واضح رہے کہ درخواست گزار کی جانب سے محمد جلال حیدر ایڈووکیٹ اور یحییٰ فرید ایڈووکیٹ اسلام آباد ہائیکورٹ میں پیش ہو رہے ہیں جبکہ وزارت اطلاعات و نشریات، وزارت داخلہ اور نیشنل کمیشن آن رائٹس آف چائلڈ نے بھی اسلام آباد ہائیکورٹ میں اپنے جوابات جمع کرا دیئے۔
بشکریہ: اے پی پی (ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان)



