منگل، 6 اکتوبر 2026
تازہ ترین
وفاقی وزیر اقتصادی امور و اسٹیبلشمنٹ ڈویژن احد چیمہ کی زیر صدارت اجلاس، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان میں آسان خدمت مراکز کے قیام اور دیگر شہروں میں خدمات کی توسیع کے مختلف ماڈلز کا جائزہ قصور،ڈسٹرکٹ ایمرجنسی رسپانس کمیٹی کا جائزہ اجلاس حکومت کے مجموعی قرضوں میں اگست 2026ء کے دوران ماہانہ بنیادوں پر 0.5 فیصد کی کمی ڈیرہ غازی خان میں پوزیشن ہولڈرز کے کیش ایوارڈز میں بڑا اضافہ، پہلی پوزیشن کے لیے ایک لاکھ روپے مقرر خواتین کی معاشی سرگرمیوں میں بامعنی شمولیت اور انہیں بااختیار بنائے بغیر کوئی بھی ملک پائیدار معاشی ترقی حاصل نہیں کر سکتا، فرح ناز اکبر قیادت کی اصل کامیابی مضبوط، قابلِ اعتماد اور عوامی خدمت کے ادارے قائم کرنا ہے، ملک محمد احمد خاں عوامی امن و امان اور جان و مال کے تحفظ کے پیش نظر پنجاب بھر میں 6 سے 15 اکتوبر تک دفعہ 144 نافذ عزیز فاطمہ ہسپتال فیصل آباد میں ٹریفک آگاہی سیمینار اور کھلی کچہری کا انعقاد معاون خصوصی طارق سعید مروت کی ڈی آئی خان میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعات کی مذمت ایتھوپیا کے سفیر کا کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آباد کا دورہ،وظائف، مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل علم کے تبادلے پر تبادلہ خیال سی ایم انسپکشن ٹیم کا ڈاکٹر فیصل مسعود ٹیچنگ ہسپتال سرگودھا کا دورہ منیجنگ ڈائریکٹر ستھرا پنجاب ایجنسی چوہدری محمد اکمل کی زیر صدارت اجلاس وفاقی وزیر اقتصادی امور و اسٹیبلشمنٹ ڈویژن احد چیمہ کی زیر صدارت اجلاس، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان میں آسان خدمت مراکز کے قیام اور دیگر شہروں میں خدمات کی توسیع کے مختلف ماڈلز کا جائزہ قصور،ڈسٹرکٹ ایمرجنسی رسپانس کمیٹی کا جائزہ اجلاس حکومت کے مجموعی قرضوں میں اگست 2026ء کے دوران ماہانہ بنیادوں پر 0.5 فیصد کی کمی ڈیرہ غازی خان میں پوزیشن ہولڈرز کے کیش ایوارڈز میں بڑا اضافہ، پہلی پوزیشن کے لیے ایک لاکھ روپے مقرر خواتین کی معاشی سرگرمیوں میں بامعنی شمولیت اور انہیں بااختیار بنائے بغیر کوئی بھی ملک پائیدار معاشی ترقی حاصل نہیں کر سکتا، فرح ناز اکبر قیادت کی اصل کامیابی مضبوط، قابلِ اعتماد اور عوامی خدمت کے ادارے قائم کرنا ہے، ملک محمد احمد خاں عوامی امن و امان اور جان و مال کے تحفظ کے پیش نظر پنجاب بھر میں 6 سے 15 اکتوبر تک دفعہ 144 نافذ عزیز فاطمہ ہسپتال فیصل آباد میں ٹریفک آگاہی سیمینار اور کھلی کچہری کا انعقاد معاون خصوصی طارق سعید مروت کی ڈی آئی خان میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعات کی مذمت ایتھوپیا کے سفیر کا کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آباد کا دورہ،وظائف، مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل علم کے تبادلے پر تبادلہ خیال سی ایم انسپکشن ٹیم کا ڈاکٹر فیصل مسعود ٹیچنگ ہسپتال سرگودھا کا دورہ منیجنگ ڈائریکٹر ستھرا پنجاب ایجنسی چوہدری محمد اکمل کی زیر صدارت اجلاس
خیبر پختونخواہ

پی ٹی آئی کے پاس لوگ نہیں، لانگ مارچ اٹک سے آگے نہیں جا سکتا، گورنر خیبرپختونخوا

فیصل کریم کنڈی
فیصل کریم کنڈی

پشاور۔ 06 اکتوبر (اے پی پی):گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ لانگ مارچ اٹک سے آگے جا ہی نہیں سکتا، ان میں اتنی صلاحیت نہیں ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔گورنر خیبرپختونخوا نے کہا کہ جب دنیا میں پاکستان کا سافٹ امیج سامنے آتا ہے یہ ملک دشمنی کرتے ہیں۔ گورنر نے کہا کہ ان کے سابق وزیراعلیٰ نے کہا میں بھی بھتہ دیتا ہوں، وزیراعلیٰ کاصوبے پر کنٹرول نہیں ۔ گورنر نے واضح کیا ہے کہ پارٹی کے لانگ مارچ کو اٹک سے آگے بڑھنے کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی ۔

گورنر نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ صوبہ خیبر پختونخوا اس وقت دہشت گردی کے عذاب سے گزر رہا ہے، لیکن اس کے باوجود یہ لوگ دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے بجائے اسلام آباد پر چڑھائی کرنے میں مصروف ہیں۔وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی سے اپنی حالیہ ملاقات کا حوالہ دیتے ہوئے گورنر فیصل کریم کنڈی نے بتایا کہ دونوں رہنماؤں کی سکیورٹی کی صورتحال اور پی ٹی آئی کے ساتھ مذاکرات اور لانگ مارچ کے حوالے سے اکثر گفتگو ہوتی رہتی ہے۔

انہوں نے سکیورٹی کے حوالے سے تحفظات ظاہر کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ اگر لانگ مارچ کے دوران کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آتا ہے، خاص طور پر جنوب کے علاقے سے کوئی شخص اسلام آباد میں سازش کے تحت داخل ہونا چاہے، تو پی ٹی آئی کے پاس اسے روکنے کا کیا نظام موجود ہے؟گورنر نے کے پی حکومت پر دہشتگردی کے واقعات پر پراسرار خاموشی اختیار کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ جب بھی وفاق ان سے عسکریت پسندی کے خلاف تعاون مانگتا ہے تو ان کا جواب ہوتا ہے کہ فوج کو صوبے سے نکال دیا جائے اور افغانستان کے ساتھ مذاکرات کیے جائیں۔انہوں نے عمران خان پر ماضی میں عسکریت پسندوں کو خیبر پختونخوا میں بسانے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ اسی وجہ سے انہیں طالبان خان کہا جاتا تھا۔

گورنر نے واضح کیا کہ گورنر راج ہمیشہ آخری حد اور آخری آپشن ہوتا ہے، سرجری ہمیشہ آخری حل ہوتی ہے، پہلے مریض کو ادویات پر رکھا جاتا ہے، کوئی بھی گورنر راج نہیں چاہتا، ہم چاہتے ہیں کہ معاملات معمول کے مطابق چلتے رہیں، اگر صدر و وزیراعظم فیصلہ کریں گے تو اس کا نفاذ کیا جائے گا۔

بشکریہ: اے پی پی (ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان)