پشاور۔ 06 اکتوبر (اے پی پی):گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی زیر صدارت صوبہ میں سکیورٹی صورتحال سے متعلق اہم اجلاس منعقد ہوا۔گورنر ہاوس پشاور کے تر جمان کے مطابق اجلاس میں چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا شہاب علی شاہ، انسپکٹر جنرل آف پولیس ذوالفقار حمید، ایڈیشنل چیف سیکرٹری ہوم اکرام اللہ خان، ایڈیشنل آئی جی سپیشل برانچ محمد کاشف عالم، جوائنٹ ڈائریکٹر جنرل آئی بی ارشد علی خان (این ایس سی) ، ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی، ڈی آئی جی آپریشنز شاکر حسین داوڑ اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔
اجلاس میں گورنر خیبرپختونخوا کو صوبے میں سکیورٹی کی مجموعی صورتحال، انسدادِ دہشت گردی، پبلک آرڈر اور جرائم سے متعلق تازہ ترین صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔گورنر کو پولیس کی جانب سے امن و امان کی صورتحال، جدید اسلحہ کی خریداری میں تاخیر اور افرادی قوت سے متعلق درپیش مسائل سمیت دیگر منصوبوں پر پیش رفت سے آگاہ کیا گیا۔ پولیس نے صوبے میں احتجاجی سرگرمیوں اور لانگ مارچ سے متعلق بھی گورنر کو بریفنگ دی۔ اجلاس میں گورنر کو کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کی جانب سے دہشت گردی کی روک تھام کے لیے کیے جانے والے اقدامات سے آگاہ کیا گیا، جبکہ جدید اسلحہ کی خریداری، افرادی قوت اور انفراسٹرکچر سے متعلق درپیش مسائل پر بھی بریفنگ دی گئی۔
ایڈیشنل چیف سیکرٹری ہوم نے افغان مہاجرین کی واپسی کے عمل سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ افغان مہاجرین کی واپسی کے عمل سے اب تک صوبے بھر میں افغان مہاجرین کے 45 کیمپ ختم کیے جا چکے ہیں اور کم از کم 1.6 ملین افغان مہاجرین کو واپس اپنے ملک افغانستان بجھوایا گیا ہے۔ گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے اس موقع پر انسدادِ دہشت گردی اور امن وامان کیلئے پولیس اور سکیورٹی فورسز کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کیا اور ان کے کردار کو سراہا۔
گورنر نے پولیس اور سی ٹی ڈی کے افرادی قوت، وسائل، خریداری اور انفراسٹرکچر کے مسائل کو سننے کے بعد کہا کہ ایسے اقدامات اٹھائے جائیں جس سے پولیس، سی ٹی ڈی اور دیگر اداروں کی صلاحیتوں میں مزید اضافہ ہو. انہوں نے یہ بھی کہا کہ کارکردگی میں مزید بہتری کیلئے اداروں کے مابین روابط کو مستحکم اور بہتر کیا جائے۔
بشکریہ: اے پی پی (ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان)



