پیر، 5 اکتوبر 2026
تازہ ترین
بلوچستان ہائیکورٹ ، ایم این اے عادل خان بازئی کی سرکاری پولیس سکیورٹی بحال کرنے کی درخواست خارج ماحولیاتی تحفظ ایجنسی راولپنڈی کی کارروائی، 32 مقامات کا معائنہ،383 کلوگرام ممنوعہ پلاسٹک بیگز ضبط کیپٹل ایمرجنسی سروس:اسلام آباد میں ستمبر کے دوران 1475 ہنگامی کالز پر رسپانس، 21 نئی ریسکیو و فائر فائٹنگ گاڑیاں جلد بیڑے میں شامل ہوں گی فیصل آباد چیمبر کے نومنتخب ایگزیکٹوز کو مثبت سوچ سے بزنس کمیونٹی کی بے لوث خدمت کیلئے کچھ نیا کرنا ہو گا،میاں محمد ادریس یو ای ٹی میں ٹیچرز ڈے کی تقریب کا انعقاد بلاول بھٹو کا پاکستان کے پہلے کوئلہ خشک کرنے والے یونٹ کا افتتاح، تھر کے ترقیاتی ماڈل کو ملک بھر میں اپنانے پر زور ستھرا پنجاب لاہور کا شہر بھر میں بلا تعطل صفائی آپریشن جاری ہے،ترجمان ایف ڈی اے کاقانون شکن ہاؤسنگ سکیموں اور غیر قانونی تعمیرات کے خلاف بھرپور آپریشن جاری ٹاول انڈسٹری نے سالانہ 2 ارب ڈالر کی برآمدات کے ذریعے عالمی سطح پر اپنی شناخت قائم کی ہے، گورنر سندھ کاٹی نے ایس ایم تنویر کوایف پی سی سی آئی کا صدارتی امیدوارنامزد کردیا نظرثانی درخواست میں فیصلے کی غلطی کی نشاندہی ضروری ہے، سپریم کورٹ کالج آف لاء یونیورسٹی آف سرگودھا کے 28 فارغ التحصیل طلباء پنجاب پبلک سروس کمیشن سے انسپکٹر لیگل منتخب بلوچستان ہائیکورٹ ، ایم این اے عادل خان بازئی کی سرکاری پولیس سکیورٹی بحال کرنے کی درخواست خارج ماحولیاتی تحفظ ایجنسی راولپنڈی کی کارروائی، 32 مقامات کا معائنہ،383 کلوگرام ممنوعہ پلاسٹک بیگز ضبط کیپٹل ایمرجنسی سروس:اسلام آباد میں ستمبر کے دوران 1475 ہنگامی کالز پر رسپانس، 21 نئی ریسکیو و فائر فائٹنگ گاڑیاں جلد بیڑے میں شامل ہوں گی فیصل آباد چیمبر کے نومنتخب ایگزیکٹوز کو مثبت سوچ سے بزنس کمیونٹی کی بے لوث خدمت کیلئے کچھ نیا کرنا ہو گا،میاں محمد ادریس یو ای ٹی میں ٹیچرز ڈے کی تقریب کا انعقاد بلاول بھٹو کا پاکستان کے پہلے کوئلہ خشک کرنے والے یونٹ کا افتتاح، تھر کے ترقیاتی ماڈل کو ملک بھر میں اپنانے پر زور ستھرا پنجاب لاہور کا شہر بھر میں بلا تعطل صفائی آپریشن جاری ہے،ترجمان ایف ڈی اے کاقانون شکن ہاؤسنگ سکیموں اور غیر قانونی تعمیرات کے خلاف بھرپور آپریشن جاری ٹاول انڈسٹری نے سالانہ 2 ارب ڈالر کی برآمدات کے ذریعے عالمی سطح پر اپنی شناخت قائم کی ہے، گورنر سندھ کاٹی نے ایس ایم تنویر کوایف پی سی سی آئی کا صدارتی امیدوارنامزد کردیا نظرثانی درخواست میں فیصلے کی غلطی کی نشاندہی ضروری ہے، سپریم کورٹ کالج آف لاء یونیورسٹی آف سرگودھا کے 28 فارغ التحصیل طلباء پنجاب پبلک سروس کمیشن سے انسپکٹر لیگل منتخب
قومی خبریں

بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے شعبہ ترجمہ و ترجمانی، کلیہ عربی کی جانب سے عالمی یوم ترجمہ کے موقع پر تقریب کا انعقاد

بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد
بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد

اسلام آباد۔5اکتوبر (اے پی پی):بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے شعبہ ترجمہ و ترجمانی، کلیہ عربی نے عالمی یوم ترجمہ کے موقع پر طالبات کیمپس میں تقریب کا انعقاد کیا جس میں ترجمہ، ترجمانی، زبانوں اور جدید ٹیکنالوجی کے کردار کو اجاگر کیا گیا۔تقریب کی منظوری صدر بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر احمد سعد الاحمد نے دی تھی تاہم ان کی سعودی عرب میں موجودگی کے باعث نائب صدر جامعہ برائے تدریسی امور پروفیسر ڈاکٹر ندیم احمد شیخ نے ان کی نمائندگی کرتے ہوئے تقریب کی صدارت کی۔ پاکستان اکادمی ادبیات کی سابق چیئرپرسن پروفیسر ڈاکٹر نجیبہ عارف تقریب کی مہمان خصوصی تھیں۔ تقریب کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا جس کے بعد حدیث مبارک پیش کی گئی اور اس کا ترجمہ بھی کیا گیا۔ تقریب میں شعبہ کے مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے طلبہ و طالبات کی نمائندگی کو اجاگر کرتے ہوئے متعلقہ ممالک کے قومی ترانے بھی پیش کیے گئے۔ کلیہ عربی کے ڈین پروفیسر ڈاکٹر فضل اللہ نے مہمانوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے زبانوں، ثقافتوں اور تہذیبوں کو باہم جوڑنے میں ترجمہ کے کردار پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے مصنوعی ذہانت کے دور میں ترجمہ کی بڑھتی ہوئی اہمیت کو بھی اجاگر کیا۔ شعبہ ترجمہ و ترجمانی کی انچارج ڈاکٹر نرگس نذیر نے ’’ترجمہ کے ادوار: الفاظ کی منتقلی سے مفہوم کی تشکیل تک‘‘ کے موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ترجمہ وقت کے ساتھ محض الفاظ کی منتقلی سے آگے بڑھ کر مفہوم کی تشکیل کا عمل بن چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کے دور میں ٹیکنالوجی مترجمین کی معاونت کر سکتی ہے تاہم انسانی فہم، ذمہ داری اور فیصلہ سازی کی اہمیت برقرار رہے گی۔ ڈاکٹر محمد سعید نصیر القرنی نے بھی ترجمہ کے شعبے میں مصنوعی ذہانت کی بڑھتی ہوئی اہمیت اور زبان کے ماہرین کی جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگی کی ضرورت پر اظہار خیال کیا۔ پروفیسر ڈاکٹر نجیبہ عارف نے شعبہ ترجمہ و ترجمانی کے مثبت تعلیمی ماحول کو سراہتے ہوئے کہا کہ زبانیں فکر، ثقافت، شناخت اور انسانی تجربات کی ترجمان ہوتی ہیں۔ انہوں نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ اپنی لسانی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے کے ساتھ جدید ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت سے تعمیری انداز میں استفادہ کریں۔ پروفیسر ڈاکٹر ندیم احمد شیخ نے شعبہ کی پیش رفت کو سراہتے ہوئے مختلف اقوام کے درمیان رابطے اور باہمی مفاہمت کے فروغ میں ترجمانی کی اہمیت اجاگر کی۔ انہوں نے کہا کہ انسانی فہم، فیصلہ سازی، ثقافتی آگہی اور مؤثر ابلاغ جیسے شعبوں میں مشینیں انسانوں کا مکمل متبادل نہیں بن سکتیں۔ تقریب کے اختتام پر مہمان مقررین کو یادگاری شیلڈز جبکہ طلبہ منتظمین کو اسناد پیش کی گئیں۔ ڈاکٹر ذکیرا جہانتاب نے کلمات تشکر ادا کیے۔ تقریب ڈاکٹر نرگس نذیر، ڈاکٹر عارف صدیق اور ڈاکٹر ذکیرا جہانتاب کی نگرانی میں منعقد ہوئی جبکہ طلبہ کی ٹیم نے انتظامی امور میں معاونت کی۔

 

بشکریہ: اے پی پی (ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان)