جمعہ، 2 اکتوبر 2026
تازہ ترین
نائب وزیر اعظم محمد اسحاق ڈار کی زیر صدارت ایس ایس جی سی ایل کے گیس کے غیر حساب شدہ نقصانا ت کے معاملے پر اعلیٰ سطحی کمیٹی کا اجلاس، توانائی کے تحفظ اور کمپنی کی عملی و مالیاتی پائیداری بحال کرنے کی اہمیت پر زور صدرِ مملکت آصف علی زرداری کا شمالی وزیرستان میں فتنہ الخوارج کے خلاف کامیاب آپریشن پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین الیکشن کمیشن نے متحدہ علماء و مشائخ کونسل کے انٹراپارٹی الیکشن کی منظوری دے دی ، نوٹیفکیشن جاری پی این سی اے کے زیر اہتمام حضرت امیر خسروؔ کی حیات پر تھیٹر ڈرامہ "خسروِ شیریں سخن” 5 اکتوبر کو پیش کیا جائے گا وزیراعظم محمد شہباز شریف کا شمالی وزیرستان میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران 7خوارج جہنم واصل کرنے پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین پاکستان سٹاک ایکسچینج میں ابتدائی سیشن کے دوران مندی کا رجحان،100 انڈیکس میں 869.32 پوائنٹس کمی فنڈز کی کمی کے باعث لاکھوں پناہ گزین بچے تعلیم سے محروم ہو سکتے ہیں، اقوام متحدہ ملک میں پٹرولیم مصنوعات کی فروخت میں رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی کے دوران سالانہ بنیادوں پر 6 فیصد اضافہ حوالہ ہنڈی اور غیر قانونی کرنسی ایکسچینج میں ملوث 2ملزمان گرفتار،ترجمان پاکستان میں زیتون کے 2,700 ایکڑ باغات پر ڈرپ آبپاشی کا نظام نصب قومی بچت سکیموں کے منافع کی شرح میں ردوبدل، نافذ العمل ہوگئیں پام آئل کی ملکی درآمدات میں اگست 2026 کے دوران 19 فیصد کمی نائب وزیر اعظم محمد اسحاق ڈار کی زیر صدارت ایس ایس جی سی ایل کے گیس کے غیر حساب شدہ نقصانا ت کے معاملے پر اعلیٰ سطحی کمیٹی کا اجلاس، توانائی کے تحفظ اور کمپنی کی عملی و مالیاتی پائیداری بحال کرنے کی اہمیت پر زور صدرِ مملکت آصف علی زرداری کا شمالی وزیرستان میں فتنہ الخوارج کے خلاف کامیاب آپریشن پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین الیکشن کمیشن نے متحدہ علماء و مشائخ کونسل کے انٹراپارٹی الیکشن کی منظوری دے دی ، نوٹیفکیشن جاری پی این سی اے کے زیر اہتمام حضرت امیر خسروؔ کی حیات پر تھیٹر ڈرامہ "خسروِ شیریں سخن” 5 اکتوبر کو پیش کیا جائے گا وزیراعظم محمد شہباز شریف کا شمالی وزیرستان میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران 7خوارج جہنم واصل کرنے پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین پاکستان سٹاک ایکسچینج میں ابتدائی سیشن کے دوران مندی کا رجحان،100 انڈیکس میں 869.32 پوائنٹس کمی فنڈز کی کمی کے باعث لاکھوں پناہ گزین بچے تعلیم سے محروم ہو سکتے ہیں، اقوام متحدہ ملک میں پٹرولیم مصنوعات کی فروخت میں رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی کے دوران سالانہ بنیادوں پر 6 فیصد اضافہ حوالہ ہنڈی اور غیر قانونی کرنسی ایکسچینج میں ملوث 2ملزمان گرفتار،ترجمان پاکستان میں زیتون کے 2,700 ایکڑ باغات پر ڈرپ آبپاشی کا نظام نصب قومی بچت سکیموں کے منافع کی شرح میں ردوبدل، نافذ العمل ہوگئیں پام آئل کی ملکی درآمدات میں اگست 2026 کے دوران 19 فیصد کمی
بلوچستان

صوبائی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے محکمہ آبپاشی کا اجلاس ،بلوچستان واٹر ریسورسز مینجمنٹ بل 2026 پر غور کیا گیا

صوبائی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے محکمہ آبپاشی کا اجلاس ،بلوچستان واٹر ریسورسز مینجمنٹ بل 2026 پر غور کیا گیا

کوئٹہ۔ 01 اکتوبر (اے پی پی):بلوچستان اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے محکمہ آبپاشی کا اجلاس بلوچستان صوبائی اسمبلی کے کمیٹی روم میں منعقد ہوا۔کمیٹی کے مستقل چیئرمین کی عدم موجودگی کے باعث اراکین کی باہمی رضامندی سے پرنس احمد عمر احمدزئی کو اجلاس کا صدر نشین نامزد کیا گیا۔ پرنس احمد عمر احمدزئی اس سے قبل چیئرمین کمیٹی تھے، تاہم قواعد کے تحت کسی بھی ممبر کی نامزدگی بطور پارلیمانی سیکرٹری یا وزیر ہو تو وہ مزید چیئرمین کمیٹی نہیں رہ سکیں گے۔

اجلاس میں سیکرٹری بلوچستان اسمبلی طاہر شاہ کاکڑ، سیکرٹری محکمہ آبپاشی سہیل الرحمٰن بلوچ، ایڈیشنل سیکرٹری قانون سعید اقبال، ڈپٹی سیکرٹری قانون احسان برکت،میر محمد صادق عمرانی، محمد اصغر رند، نور محمد دمڑ اور لیاقت علی لہڑی نے شرکت کی۔ اجلاس میں بلوچستان واٹر ریسورسز مینجمنٹ بل 2026 پر تفصیلی غور کیا گیا۔

بل کا بنیادی مقصد صوبے میں آبی وسائل کے موثر، مربوط اور پائیدار انتظام کے لیے قانونی فریم ورک وضع کرنا ہے۔ اجلاس میں بل کے تحت زمین اور پانی کے انتظام سے متعلق اداروں کی تنظیم نو کے ذریعے ان کی استعداد اور کارکردگی کو بہتر بنانے، پانی کے وسائل کے موجودہ اور مستقبل کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مربوط نظام تشکیل دینے اور بلوچستان واٹر پالیسی کے مطابق ادارہ جاتی اصلاحات کو آگے بڑھانے پر زور دیا گیا ۔

مجوزہ قانون کا مقصد بلوچستان کے آبی وسائل کی پائیدار ترقی، انتظام اور استعمال کو فروغ دینا، صوبے کے عوام کے مفاد میں پانی کے وسائل کی منصفانہ دستیابی یقینی بنانا اور پانی کے انسانی حق کو عملی جامہ پہنانا بھی ہے۔بل میں موسمیاتی تبدیلی کے منفی اثرات بالخصوص سیلاب اور خشک سالی کے خطرات سے نمٹنے، آبی گزرگاہوں اور کیچمنٹ ایریاز کے تحفظ اور پانی کے محفوظ استعمال اور کفایت شعاری پر مبنی اقدامات کو فروغ دینے کی بھی گنجائش رکھی گئی ہے۔

مجوزہ قانون کے تحت انٹیگریٹڈ واٹر ریسورسز مینجمنٹ (IWRM) کو فروغ دینے کا تصور بھی شامل ہے، جس کے ذریعے پانی، زمین اور متعلقہ وسائل کی مربوط ترقی اور انتظام کو یقینی بنا کر معاشی و سماجی بہبود کو فروغ دینا مقصود ہے جبکہ قدرتی ماحولیاتی نظام اور ماحول کے پائیدار تحفظ کو بھی ملحوظ خاطر رکھا جائے گا۔

بل کا دائرہ کار بلوچستان کے مجموعی آبی وسائل پر محیط ہوگا جس میں تالاب، جھیلیں، مستقل و عارضی دریا اور ندی نالے، برفانی میدان، گلیشیئرز، فضائی پانی، زیرِ زمین آبی ذخائر، سطحی پانی کا بہائو، آبی علاقے، مینگروز اور بلوچستان کے دائرہ اختیار میں آنے والے ساحلی پانی شامل ہیں۔

ممبران کمیٹی نے مذکورہ بل پر تفصیلی بحث کی اور بل کے مختلف شقوں پر اپنی تجاویز پیش کیں۔ اجلاس میں صدر نشین نے ممبران کمیٹی، اسمبلی آفیسران، محکمہ آبپاشی اور دیگر شرکا کا شکریہ ادا کیا۔

بشکریہ: اے پی پی (ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان)