بدھ، 7 اکتوبر 2026
تازہ ترین
راولپنڈی میں ڈینگی کے تصدیق شدہ مریضوں کی تعداد 46 ہوگئی، رواں سال کوئی ہلاکت نہیں ضلعی اطلاعات افسر عمرکوٹ کی جانب سے پریس کلب عمرکوٹ کی نو منتخب باڈی کے اعزاز میں استقبالیہ نوجوان پاکستان میں تبدیلی کے اصل محرک ہیں، پاکستان کے عالمی ثالثی کردار کو دنیا نے سراہا ہے ، رانا مشہود احمد خاں کامسیٹس یونیورسٹی وہاڑی کیمپس میں ’’اڈاپٹ اے پلانٹ‘‘ مہم کا دوسرا مرحلہ شروع وفاقی وزیر قومی غذائی تحفظ و تحقیق کی زیر صدارت وفاقی کمیٹی برائے زراعت کے ربیع سیزن کا 27واں اجلاس ضلع باغ میں کسی قسم کی غیر قانونی تجاوزات کو برداشت نہیں کریں گے،ڈپٹی کمشنر نائب وزیراعظم سینیٹر محمد اسحاق ڈار سے بیلاروس کے قومی سلامتی کے مشیر کی ملاقات، چیلنجز سے نمٹنے، علاقائی امن اور استحکام کے فروغ کیلئے مذاکرات اور سفارت کاری کی اہمیت پر زور ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر لٹریسی گوجرانوالا نے ٹرانس جینڈر سکول کا دورہ کیا ڈپٹی کمشنر نصیرآباد وریندر لعل کی زیرِ صدارت تحصیل مانجھوٹی میں کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا بلوچستان سے دہشت گردی کےخاتمے تک سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں جاری رہیں گی ،وزیر اعلیٰ بلوچستان ڈپٹی کمشنر نصیرآباد کی زیرِ صدارت کھلی کچہری پی آئی ٹی بی کا اپنے ایمپلائز کیلئے میڈیکل کیمپ اور آگاہی سیشن کا انعقاد راولپنڈی میں ڈینگی کے تصدیق شدہ مریضوں کی تعداد 46 ہوگئی، رواں سال کوئی ہلاکت نہیں ضلعی اطلاعات افسر عمرکوٹ کی جانب سے پریس کلب عمرکوٹ کی نو منتخب باڈی کے اعزاز میں استقبالیہ نوجوان پاکستان میں تبدیلی کے اصل محرک ہیں، پاکستان کے عالمی ثالثی کردار کو دنیا نے سراہا ہے ، رانا مشہود احمد خاں کامسیٹس یونیورسٹی وہاڑی کیمپس میں ’’اڈاپٹ اے پلانٹ‘‘ مہم کا دوسرا مرحلہ شروع وفاقی وزیر قومی غذائی تحفظ و تحقیق کی زیر صدارت وفاقی کمیٹی برائے زراعت کے ربیع سیزن کا 27واں اجلاس ضلع باغ میں کسی قسم کی غیر قانونی تجاوزات کو برداشت نہیں کریں گے،ڈپٹی کمشنر نائب وزیراعظم سینیٹر محمد اسحاق ڈار سے بیلاروس کے قومی سلامتی کے مشیر کی ملاقات، چیلنجز سے نمٹنے، علاقائی امن اور استحکام کے فروغ کیلئے مذاکرات اور سفارت کاری کی اہمیت پر زور ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر لٹریسی گوجرانوالا نے ٹرانس جینڈر سکول کا دورہ کیا ڈپٹی کمشنر نصیرآباد وریندر لعل کی زیرِ صدارت تحصیل مانجھوٹی میں کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا بلوچستان سے دہشت گردی کےخاتمے تک سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں جاری رہیں گی ،وزیر اعلیٰ بلوچستان ڈپٹی کمشنر نصیرآباد کی زیرِ صدارت کھلی کچہری پی آئی ٹی بی کا اپنے ایمپلائز کیلئے میڈیکل کیمپ اور آگاہی سیشن کا انعقاد
خیبر پختونخواہ

گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی اور بلاول بھٹو زرداری پر تنقید کرنے والے پہلے آئین پڑھیں ، احمد کنڈی

احمد کنڈی
احمد کنڈی

پشاور۔ 07 اکتوبر (اے پی پی):خیبر پختونخوا اسمبلی میں پاکستان پیپلز پارٹی کے پارلیمانی لیڈر احمد کنڈی نے کہا ہے کہ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی اور بلاول بھٹو زرداری پر تنقید کرنے والے پہلے آئین پڑھیں ۔ پی ٹی آئی نے مزاحمت کی سیاست کو اپنا وطیرہ سمجھا ہوا ہے ، مرکز سے مزاحمت کی نہیں مفاہمت کی پالیسی اپنائی جائے ، لانگ مارچ کسی کے حق میں نہیں آئین گورنر کو اجازت دیتا ہے کہ وہ اپنا کردار ادا کریں۔ بدھ کو ان خیالات کا اظہار انہوں نے پاکستان پیپلز پارٹی خیبر پختونخوا کی پارلیمانی کمیٹی کے ممبران ایم پی اے مہر سلطانہ ایڈوکیٹ، ایم پی اے شازیہ تہماس، ارباب زرک اور پاکستان پیپلز پارٹی کے اقلیتی ونگ کے رہنما بہاری لعل کے ہمراہ پشاور پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کیا۔

انہوں نے کہا کہ ٹرکوں پر سوار ہو کر خیبر پختونخوا کی حکومت چلانے والے ایک وزیراعلی نے صوبائی کابینہ کا اجلاس اس لیے طلب کیا کہ کل گورنر فیصل کریم کنڈی نے صوبے میں امن و امان کے لیے ایک اعلی سطحی اجلاس طلب کیا تھا۔ جس میں وزیراعلی نے چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری اور گورنر فیصل کریم کنڈی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا جس کی ہم بھرپور مذمت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی بلاول بھٹو زرداری ہے جنہوں نے پاکستان تحریک انصاف کو مرکز کے ساتھ مذاکرات کے لیے بٹھایا اور پھر پاکستان تحریک انصاف نے ہی 12 گھنٹے کے طویل مذاکرات کو ناکام بنایا۔ انہوں نے کہا کہ آئین گورنر کو اختیار دیتا ہے کہ جہاں پر وزیراعلی ناکام ہو جائیں وہاں پر گورنر اپنا کردار ادا کریں ۔انہوں نے کہا کہ اس وقت مرکز کے ساتھ پاکستان تحریک انصاف کی صوبائی حکومت کی جانب سے مزاحمت کی سیاست اپنائی جا رہی ہے۔

ہم صوبائی حکومت کو مشورہ دیتے ہیں کہ وہ مرکز سے مفاہمت کی سیاست اپنائیں اور صوبے کی عوام کا خیال کریں کیونکہ ہمارا صوبہ اس وقت شدید دہشت گردی کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی پی پی انفرادیت کے فیصلے کی مخالفت کرتی ہے ہم اجتماعیت کے فیصلوں کو ترجیح دیتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ اپنے لانگ مارچ کو جائز قرار دینے والوں نے ماضی قریب میں پاکستان پیپلز پارٹی کے پرامن مظاہرین کو خیبر پختونخوا اسمبلی کے سامنے شدید لاٹھی چارج کا نشانہ بنایا گیا اور ان پر آنسو گیس کے گولوں کی بارش کروائی تھی جو پاکستان تحریک انصاف کا وطیرہ ہے ۔انہوں نے کہا کہ 2008 سے 2026 تک صوبہ اپنے مقام پر کھڑا ہے نہ اس میں کوئی ترقیاتی کام ہوئے ہیں اور نہ ہی دہشت گردی جیسے چیلنج کا مقابلہ کیا گیا ، الٹا مرکز کو دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں پر اور امن کے لیے پالیسیاں دینے کے لیے تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے وزیراعلی مرکز کے اجلاسوں کو کوئی اہمیت نہیں دیتے اگر انہیں این ایف سی کے اجلاس میں شرکت کی دعوت دی جائے یا آئی سی سی کے اجلاس میں بلایا جائے تو وہ اس اجلاس میں شرکت نہیں کرتے، جہاں پر صوبے کے حقوق کے فیصلے ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مرکز کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف جتنی بھی پالیسیاں دیں گئیں پاکستان تحریک انصاف کی خیبر پختونخوا حکومت نے اس پر کوئی عمل درآمد نہیں کیا اور الٹا انہیں تنقید کا نشانہ بنایا گیا جس کی وجہ سے آج خیبر پختونخوا میں دہشتگردی چپے چپے میں پھیل گئی ہے اور سرکاری ملازمین دہشت گردوں کے نشانے پر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کے ہاتھوں آج ہمارے سکیورٹی فورسز کے فورسز کے اور پولیس کے جوان شہید ہو رہے ہیں۔ انہوں نے سہیل آفریدی کو مشورہ دیا کہ وہ تنقید کرنے سے پہلے اپنے گریبان میں جھانکیں کہ آئین ان کو کیا درس دیتا ہے پہلے وہ آئین پڑھیں اور پھر تنقید کریں۔

احمد کنڈی نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت مسلح گروہوں کے ہاتھوں میں جکڑی ہوئی ہے اور ہمارے وزیراعلی آج اقتدار چھوڑ کر ٹرکوں پر چڑھ کر لانگ مارچ کی قیادت کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بے نظیر بھٹو جب پاکستان آئی تو انہوں نے کہا تھا کہ خیبر پختونخوا میں سب سے بڑا چیلنج دہشت گردی کا ہے اور ہم اس سے نپٹیں گے لیکن زندگی نے ان کے ساتھ وفا نہیں کی۔ احمد کنڈی نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی ہی وہی جماعت ہے جس نے ہر مقام پر تمام سیاسی اور مذہبی جماعتوں کو اکٹھے کیا اور مفاہمت کی سیاست کی کیونکہ مفاہمت کی سیاست عوام کے لیے ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کا وطیرہ ہے کہ وہ صوبوں کے حقوق اور عوام کو طاقت کا سر چشمہ سمجھتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہمارا سہیل آفریدی کو مشورہ ہے کہ وہ وزیراعلی ہے کوئی عام شخص نہیں کہ روزانہ احتجاج کے لیے نکل جاتے ہیں اور مرکز پر چڑھائی کرتے ہیں لہذا ہمارا صوبہ مرکزی حکومت سے 98 فیصد وسائل سے چل رہا ہے لہذا دہشت گردی کے خلاف مرکز کی پالیسیوں پر عمل درآمد کیا جائے اور گورنر کی میٹنگ پر اعتراض کرنے سے قبل صوبے کے امن و امان پر بھی نظر دوڑائی جائے۔ اور الماریوں میں بڑی ائین کی کتابیں جو اس وقت دھول میں اٹی ہوئی ہے اسے صاف کر کے پڑھیں تاکہ انہیں معلوم ہو کہ آئین کیا کہتا ہے اور اسلام اباد کو سومنات کا درجہ دینے والوں کی سیاست کیا کہتی ہے۔

 

بشکریہ: اے پی پی (ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان)