جمعہ، 2 اکتوبر 2026
تازہ ترین
پنجاب میں موروں کی غیر قانونی تجارت پر 17ملزمان گرفتار، سوا 4لاکھ روپے جرمانہ عائد شہید بینظیر بھٹو یونیورسٹی میں داخلوں کے لیےانٹری ٹیسٹ شروع راولپنڈی ،7 افراد سے 16 لیٹر شراب اور اسلحہ برآمد گورنر سندھ سے رکن قومی اسمبلی پروفیسر قادر خان مندوخیل کی ملاقات متبادل قانونی فورم دستیاب ہو تو وفاقی آئینی عدالت سے براہ راست رجوع نہیں کیا جا سکتا، وفاقی آئینی عدالت فیفاآسیان کپ،ویتنام نے پاکستان کو 4-2 سے شکست دیدی سندھ حکومت کی اولین ترجیح ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل ہے، شرجیل انعام میمن گورنر سندھ کا نیپا میں 47ویں مڈ کیریئر مینجمنٹ کورس کی تقسیمِ اسناد کی تقریب سے خطاب ملک بھر کے عوام کیلئے معیاری ذہنی صحت کی خدمات کی رسائی یقینی بنانے کیلئے مربوط اور مستقل اقدامات کی ضرورت ہے، ڈاکٹر ملک مختار احمد بھرتھ پہلی نظرثانی درخواست خارج ہونے کے بعد دوبارہ نظرثانی کی درخواست قابل سماعت نہیں، وفاقی آئینی عدالت کاروباری افراد کا ایف بی آر کی ٹیکس ریٹرن جمع کرانے کی تاریخ میں توسیع کا خیرمقدم ڈی آئی جی اسلام آباد کی ایک ہی روز میں 6 کھلی کچہریاں پنجاب میں موروں کی غیر قانونی تجارت پر 17ملزمان گرفتار، سوا 4لاکھ روپے جرمانہ عائد شہید بینظیر بھٹو یونیورسٹی میں داخلوں کے لیےانٹری ٹیسٹ شروع راولپنڈی ،7 افراد سے 16 لیٹر شراب اور اسلحہ برآمد گورنر سندھ سے رکن قومی اسمبلی پروفیسر قادر خان مندوخیل کی ملاقات متبادل قانونی فورم دستیاب ہو تو وفاقی آئینی عدالت سے براہ راست رجوع نہیں کیا جا سکتا، وفاقی آئینی عدالت فیفاآسیان کپ،ویتنام نے پاکستان کو 4-2 سے شکست دیدی سندھ حکومت کی اولین ترجیح ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل ہے، شرجیل انعام میمن گورنر سندھ کا نیپا میں 47ویں مڈ کیریئر مینجمنٹ کورس کی تقسیمِ اسناد کی تقریب سے خطاب ملک بھر کے عوام کیلئے معیاری ذہنی صحت کی خدمات کی رسائی یقینی بنانے کیلئے مربوط اور مستقل اقدامات کی ضرورت ہے، ڈاکٹر ملک مختار احمد بھرتھ پہلی نظرثانی درخواست خارج ہونے کے بعد دوبارہ نظرثانی کی درخواست قابل سماعت نہیں، وفاقی آئینی عدالت کاروباری افراد کا ایف بی آر کی ٹیکس ریٹرن جمع کرانے کی تاریخ میں توسیع کا خیرمقدم ڈی آئی جی اسلام آباد کی ایک ہی روز میں 6 کھلی کچہریاں
قومی خبریں

گلوبل مینٹل ہیلتھ سمٹ اختتام نہیں بلکہ پاکستان میں ذہنی صحت کے عملی قومی سفر کا آغاز ہے، ڈاکٹر مختار احمد بھرتھ

وزیر مملکت برائے صحت ڈاکٹر مختار احمد بھرتھ
وزیر مملکت برائے صحت ڈاکٹر مختار احمد بھرتھ

اسلام آباد۔2اکتوبر (اے پی پی):وزیر مملکت برائے صحت ڈاکٹر مختار احمد بھرتھ نے کہا ہے کہ گلوبل مینٹل ہیلتھ سمٹ اختتام نہیں بلکہ پاکستان میں ذہنی صحت کے عملی قومی سفر کا آغاز ہے، اب وقت ہے کہ پالیسی اور وعدوں کو عملی اقدامات میں تبدیل کیا جائے۔پاکستان گلوبل مینٹل ہیلتھ سمٹ کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دو روزہ عالمی سمٹ کے دوران ماہرین، شراکت داروں اور نوجوانوں کی آراء کو سنا گیا جنہوں نے پاکستان میں ذہنی صحت کے شعبے کے لیے مستقبل کا واضح راستہ متعین کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ڈاکٹر مختار بھرتھ نے کہا کہ ذہنی صحت کی سہولیات ہر بچے، نوجوان اور بالغ فرد کے گھر کے قریب پہنچانا قومی ترجیح ہے، پاکستان میں تقریباً 3 کروڑ 20 لاکھ افراد کو ذہنی صحت کی نگہداشت کی ضرورت ہے جبکہ ذہنی صحت کے علاج کا خلا تقریباً 95 فیصد ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ صرف اعداد و شمار نہیں بلکہ لاکھوں پاکستانیوں اور خاندانوں کی زندگیوں سے جڑا معاملہ ہے، پاکستان میں ہر ایک لاکھ افراد میں تقریباً 10 افراد سالانہ خودکشی کرتے ہیں تاہم اصل صورتحال اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے، خودکشی کے اعداد و شمار نہیں بلکہ ہمارے معاشرے کے افراد کی قیمتی زندگیاں ہیں۔

وزیر مملکت صحت نے کہا کہ ذہنی بیماریاں قابل علاج ہیں اور صحت یابی ممکن ہے، قومی ذہنی صحت پالیسی کے اجراء سے ضرورت مند ہر فرد تک ذہنی صحت کی سہولیات پہنچانے کا فریم ورک موجود ہے۔انہوں نے کہا کہ ذہنی صحت کو بنیادی صحت کے نظام اور ہر سکول کا حصہ بنانا ہوگا، قومی ذہنی صحت پالیسی 2026-35 پاکستان کے لیے ایک عملی قومی فریم ورک ہے۔ڈاکٹر مختار بھرتھ نے کہا کہ صوبے اور وفاقی اکائیاں 45 روز میں قومی ذہنی صحت پالیسی کی تحریری توثیق کریں، ذہنی صحت کے لیے نیشنل ہب آف ایکسیلنس قائم کیا جائے گا جو شواہد کو پالیسی اور تربیت میں تبدیل کرنے کا قومی تکنیکی مرکز ہوگا۔انہوں نے کہا کہ اگلے 12 ماہ کے دوران ذہنی صحت کے لیے لاگت اور مدت کے تعین پر مبنی عملی اور نگرانی کا منصوبہ تیار کیا جائے گا، آئندہ 2 سے 3 برس میں ذہنی صحت کی خدمات، افرادی قوت اور نظام میں نمایاں پیش رفت دکھانا ہوگی۔وزیر مملکت نے کہا کہ سکولوں میں ماہرین نفسیات سمیت ذہنی صحت کی افرادی قوت میں اضافہ کیا جائے گا جبکہ ذہنی صحت کو قوانین، بجٹ، ہیلتھ بینیفٹ پیکیجز اور ہیلتھ ڈیٹا کا حصہ بنایا جائے گا۔

ڈاکٹر مختار بھرتھ نے کہا کہ پاکستان میں ذہنی صحت کو دیگر بیماریوں کی طرح ترجیح دینے کی ضرورت ہے، ذہنی صحت کے مسائل بھی انسولین، ہائپر ٹینشن اور دیگر بیماریوں کی طرح عام طبی مسائل ہیں۔انہوں نے کہا کہ ذہنی صحت کے مسائل کے لیے مدد حاصل کرنے میں کسی قسم کی جھجھک نہیں ہونی چاہیے، ذہنی صحت سے متعلق بدنامی کا خاتمہ پورے معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔وزیر مملکت صحت نے کہا کہ ذہنی صحت سے متعلق آگاہی کے لیے میڈیا کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا، میڈیا ہائوسز کو کارپوریٹ سماجی ذمہ داری کے تحت ذہنی صحت کی آگاہی پر توجہ دینا ہوگی۔انہوں نے کہا کہ ذہنی صحت ایک ایسا معاشرتی مسئلہ بنتا جا رہا ہے جس میں ہر طبقے کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا، حکومت، میڈیا اور معاشرے کے مختلف طبقات کے تعاون کے بغیر ذہنی صحت کے مسائل سے نمٹنا مشکل ہے۔ڈاکٹر مختار بھرتھ نے کہا کہ لوگوں کو بتانا ہوگا کہ ذہنی صحت کے مسائل سے ڈرنے کی ضرورت نہیں، ڈپریشن، بے چینی اور غصہ زندگی کے مختلف مراحل میں پیش آنے والے مسائل ہیں جن کا حل ممکن ہے۔انہوں نے کہا کہ مڈ لائف کرائسز اور بے چینی سمیت ذہنی صحت کے مسائل کا علاج اور حل ممکن ہے، ذہنی صحت سے متعلق بدنامی ختم کرنے کے لیے میڈیا کو آگے آنا ہوگا۔

بشکریہ: اے پی پی (ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان)