اسلام آباد۔4اکتوبر (اے پی پی):والدین نے ننھے کندھوں پر سکول کے بھاری بستوں کے مسئلے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے ایسا بوجھ قرار دیا ہے جو کم عمر طلبہ کی صحت اور خوشی کو متاثر کر رہا ہے۔ہر صبح سکولوں کے باہر والدین اپنے چھوٹے بچوں کی مدد کرتے نظر آتے ہیں کیونکہ ننھے ننھے بچے ایسے بستے اٹھائے ہوتے ہیں جو ان کے جسمانی حجم کے مقابلے میں بہت بڑے دکھائی دیتے ہیں۔والدین کے مطابق بچوں کے بستوں میں موٹی نصابی کتابیں، کاپیاں، پانی کی بوتلیں اور لنچ باکس بھرے ہوتے ہیں اور ان کا وزن اس حد سے کہیں زیادہ ہوتا ہے جسے ایک چھوٹا بچہ آسانی سے اٹھا سکے۔
ڈاکٹروں نے خبردار کیا ہے کہ روزانہ کا یہ بوجھ بچے کی جسمانی صحت پر طویل مدتی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔ راولپنڈی سے تعلق رکھنے والے آرتھوپیڈک (ہڈیوں کے امراض کے ماہر) ڈاکٹر بلال نے’’ اے پی پی‘‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے پاس ایسے بہت سے کم عمر مریض آ رہے ہیں جو سکول کے بھاری بستوں کی وجہ سے کندھے اور کمر کے درد کی شکایت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کم عمری میں ضرورت سے زیادہ وزن اٹھانے سے ریڑھ کی ہڈی کی نشوونما متاثر ہو سکتی ہے، پٹھوں میں کھنچاؤ پیدا ہو سکتا ہے اور جسمانی ساخت (پوسچر) خراب ہو سکتا ہے جو نظر انداز کرنے پر مستقل مسئلہ بن سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ بچے کے بستے کا وزن اس کے جسمانی وزن کے دس سے پندرہ فیصد سے زیادہ نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ جب بچے بھاری بستے اٹھانے کے لیے آگے کی طرف جھکتے ہیں تو ان کی ریڑھ کی ہڈی اور کندھوں پر اضافی دباؤ پڑتا ہے، جس سے تھکاوٹ، سر درد اور ٹھیک طرح سے چلنے میں دشواری جیسے مسائل بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ بچے نشوونما کے مراحل سے گزر رہے ہوتے ہیں اور ان کی ہڈیاں اور پٹھے ابھی بن رہے ہوتے ہیں۔ بھاری بستوں کا مسلسل دباؤ ان کی جسمانی نشوونما کو سست کر سکتا ہے اور انہیں دن بھر تھکا ہوا رکھ سکتا ہے، جس سے کلاس میں ان کی توجہ مرکوز کرنے کی صلاحیت بھی متاثر ہوتی ہے۔دوسری جماعت کی طالبہ کی والدہ عتیقہ نے کہا کہ میری بیٹی کی عمر صرف سات سال ہے اور اس کا بستہ اتنا بھاری ہے کہ وہ اسے ٹھیک طرح سے اٹھا بھی نہیں سکتی۔ مجھے روزانہ اسے سکول وین تک پہنچانا پڑتا ہے اور شام کو وہ کندھوں میں درد کی شکایت کرتی ہے۔انہوں نے بتایا کہ میری بچی خوشی خوشی سکول تو جاتی ہے لیکن واپسی پر مکمل طور پر نڈھال ہوتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بستے کا وزن اسے تھکا دیتا ہے اور وہ ہوم ورک کرنے سے بھی کتراتی ہے۔انہوں نے کہا کہ اگرچہ ہلکے وزن والے مہنگے بستے خریدے جا سکتے ہیں لیکن اصل مسئلہ کتابوں کی کثیر تعداد کاہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ سکولوں کو چاہیے کہ کتابوں کو حصوں میں تقسیم کرنے یا اضافی کتابیں کلاس روم میں ہی رکھنے کے بارے میں سوچیں۔ راولپنڈی کے ایک والد نے کہا کہ میرے بیٹے کو روزانہ آٹھ کتابیں ساتھ لے جانی پڑتی ہیں۔ تعلیم اہم ہے، لیکن اس کی صحت بھی اتنی ہی ضروری ہے۔ سکولوں کو چاہیے کہ وہ لاکرز کی سہولت فراہم کریں یا ایسا ٹائم ٹیبل بنائیں جس میں کم کتابوں کی ضرورت پڑے۔بچوں کے والدین نے متعلقہ سکول انتظامیہ سے درخواست کی کہ سکول بیگ کا وزن کم کرنے کے لیے فوری اور عملی اقدامات کیے جائیں تاکہ طلبہ زیادہ جسمانی بوجھ اٹھائے بغیر تعلیم و تدریس کے عمل سے لطف اندوز ہو سکیں۔
بشکریہ: اے پی پی (ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان)



