اسلام آباد۔4اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کا وطیرہ رہا ہے کہ یہ بات چیت کے لئے آتے ضرور ہیں مگر دوہرے معیار اور منافقت کے ساتھ اپنی دوغلی پالیسیوں کو ترک کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتے، یہ یو ٹرن لینے کے ماہر ہیں اور اپنی کسی ایک بات پر قائم نہیں رہ سکتے۔ اتوار کو یہاں خصوصی گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ خیبر پختونخوا صوبے کے غیور عوام کو تحفظ اور سیکورٹی فراہم کرنا صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے۔ اگر صوبائی حکومت اپنے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ نہیں کر سکتی تو یہ اس کی مکمل ناکامی ہے۔
انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کے اندر سے مختلف بیانات سامنے آ رہے ہیں، سلمان اکرم راجہ ایک بات کر رہے ہیں جبکہ شفیع جان کا کہنا ہے کہ ہم نے دہشت گردی کے حوالے سے اپنی پالیسی تبدیل کرنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کی پالیسی دہشت گردی کی حوصلہ افزائی، دہشت گردوں کو پروان چڑھانے اور دہشت گردی کو پورے صوبے میں پھیلانے کے سوا کچھ نہیں ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ انہیں اب انتخاب کرنا ہوگا کہ یہ پاکستان کے ساتھ ہیں یا افغانستان کے ساتھ، یہ فائدے پاکستان سے لیتے ہیں اور حمایت افغانستان کی کرتے ہیں، یہ دوہرا معیار نہیں چل سکتا۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کی حکومت نے دہشت گردی کے خلاف کارروائی کی نہ کبھی اونر شپ لی اور نہ اس حوالے سے کوئی سنجیدگی دکھائی ہے اور نہ ان کی خواہش ہے کہ اس حوالے سے کچھ کریں۔
انہوں نے کہا کہ یہ جس پالیسی چینج کی بات کر رہے ہیں یہ دہشت گردوں کو تحفظ دینے کے مترادف ہے۔ یہ دوہرا معیار، منافقت اور دوغلی پالیسی ہے، اسی وجہ سے ہنگو، ڈی آئی خان اور کوہاٹ میں معصوم شہریوں اور بچوں کی لاشیں گر رہی ہیں، ریسکیو ورکرز کا خون بہہ رہا ہے جبکہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی ترجیح قیدی کی رہائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف اقدامات کے حوالے سے وفاقی حکومت کئی مرتبہ کہہ چکی ہے کہ انہیں کارروائی سے کس نے روکا ہے؟ جب وفاقی ایپکس کمیٹی کے اجلاس ہوتے ہیں تو صوبائی ایپکس کمیٹی کے اجلاس بلانے سے انہیں کس نے روکا ہے؟ دیگر تمام صوبائی حکومتیں اپنی سطح پر ایپکس کمیٹی کے اجلاس طلب کرتی ہیں لیکن پی ٹی آئی کی واحد صوبائی حکومت ہے جو ایپکس کمیٹی کا اجلاس نہیں بلاتی۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ پی ٹی آئی دہشت گردوں کے خلاف کارروائی نہیں چاہتی۔
اس لئے اسے ٹی ٹی پی کی ”بی“ ٹیم اور ٹی ٹی اے کی ”سی“ ٹیم کہتے ہیں کیونکہ ان کے نظریات، خیالات اور اقدامات کے تانے بانے دہشت گردوں سے ملتے ہیں۔ وزیر اطلاعات نے کہا کہ انہیں شہداء کے جنازوں میں شرکت کرنے اور ان کے لواحقین سے ہمدردی کا اظہار کرنے سے کون روکتا ہے؟ انہیں سیکورٹی فورسز سے اظہار یکجہتی کرنے یا ایف سی اہلکاروں کے پاس جانے سے کس نے منع کیا ہے؟ انہیں سی ٹی ڈی قائم کرنے، سیف سٹی کیمرے نصب کرنے، فرانزک لیب بنانے اور پولیس کو ضروری آلات فراہم کرنے اور اس کی استعداد کار بڑھانے سے کون روکتا ہے؟ وزیر اطلاعات نے کہا کہ پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت کو اب تک کاؤنٹر ٹیررازم کے لیے این ایف سی ایوارڈ کے تحت 700 ارب روپے سے زائد مل چکے ہیں جبکہ رواں سال کے اعداد و شمار 45 ارب روپے ہیں۔ پولیس کی استعداد کار میں اضافے اور کاؤنٹر ٹیررازم کے لیے مختص رقم میں سے صرف ڈیڑھ ارب روپے جاری کیے گئے ہیں جبکہ باقی رقم تنخواہوں، پٹرول اور دیگر حکومتی اخراجات پر خرچ ہو رہی ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا اس طرح دہشت گردی کا تدارک یا اس کے خلاف جنگ لڑی جا سکتی ہے؟
وفاقی وزیر نے کہا کہ ان کا ذہن دہشت گردی کے حامی اور دہشت گردوں کے حق میں ہے۔ انہیں اس بات کی بھی پرواہ نہیں کہ سکیورٹی فورسز، مسلح افواج اور پولیس کے ہزاروں جوان اور افسران شہید ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہیں کبھی یہ توفیق نہیں ہوئی کہ ٹی ٹی اے کی مذمت کریں اور کہیں کہ کوہاٹ کی جانب ڈرون حملے کی مذمت کرتے ہیں اور اس کا بھرپور جواب دینا جانتے ہیں۔ وزیر اطلاعات نے کہا کہ کرم میں فائرنگ کے واقعات پر بھی کیا انہوں نے کبھی کہا کہ افغانستان کی جانب سے ہونے والی فائرنگ کی پرزور مذمت کرتے ہیں؟ آج تک ان کے منہ سے ایسے الفاظ سننے کو نہیں ملے۔ انہوں نے کہا کہ یہ نہ شہداء کی تکریم کر سکتے ہیں اور نہ دہشت گردی کے خلاف مؤثر اقدامات کیونکہ یہی وہ جماعت ہے جس نے کیپٹن کرنل شیر خان جیسے بہادر جوان کے مجسمے کی بے حرمتی کی اور چاغی کے پہاڑ کے ماڈل کو آگ لگا دی۔
انہوں نے سوال کیا کہ دہشت گرد اور شرپسند ذہن رکھنے والے لوگ حکومت میں رہتے ہوئے دہشت گردی کیسے روک سکتے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ کیا خیبر پختونخوا حکومت اس ذہنیت کے ساتھ دہشت گردی روک سکتی ہے؟ اس کا جواب نفی میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے کی بجائے ان کی پالیسی دہشت گردوں کو فروغ دینے اور انہیں مزید آگے بڑھانے کی ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ یہ کہتے ہیں کہ شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ہمارا مینڈیٹ نہیں، جبکہ پولیس اور سیکورٹی فورسز کے افسران و جوان اور شہری اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر رہے ہیں لیکن ان کی تمام تر توجہ ایک ہی مطالبے پر مرکوز ہے کہ قیدی کو رہا کیا جائے۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے سوال کیا کہ امن و امان کے قیام اور دہشت گردی کا تدارک کیلئے صوبائی حکومت کیا کر رہی ہے؟ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت دہشت گردی کے پھیلاؤ کی ذمہ دار ہے اور اس کے تمام اقدامات دہشت گردوں کی حمایت کی عکاسی کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبے میں نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد نہیں کیا گیا، ایپکس کمیٹی کے اجلاس نہیں بلائے گئے، پولیس کی استعداد کار میں اضافے کے لئے اقدامات نہیں کئے گئے، سی ٹی ڈی قائم نہیں کی گئی، فرانزک لیبارٹریاں نہیں بنائیں گئیں اور شہروں میں سیف سٹی کیمرے نصب نہیں کئے گئے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں، کالعدم ٹی ٹی پی اور کالعدم ٹی ٹی اے کی بھی مذمت نہیں کی گئی۔ وزیر اطلاعات نے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج افغانستان کی جانب سے کسی بھی ڈرون حملے یا فائرنگ کا بھرپور جواب دیتی ہیں تاہم خیبر پختونخوا حکومت کبھی اپنی فوج اور ملک کے شانہ بشانہ کھڑی نہیں ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ کوہاٹ کی جانب ڈرون حملے کے موقع پر صوبائی حکومت کو اس کی مذمت کرتے ہوئے عوام کے ساتھ کھڑا ہونا چاہئے تھا۔ عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت میں اتنی بھی سکت نہیں کہ اپنے عوام کو حوصلہ دے۔ انہوں نے کہا کہ میں کوہاٹ اور ہنگو گیا جہاں زخمی شہری یہ عزم ظاہر کر رہے تھے کہ وہ دہشت گردوں کو نہیں چھوڑیں گے اور ان سے بدلہ لیں گے۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت کو حکومت چلانے کا طریقہ سمجھ نہیں آ رہا۔ انہوں نے کہا کہ سب چیزیں ثانوی ہیں، حکومت کی اولین ذمہ داری سیفٹی اور سیکورٹی ہوتی ہے، انہیں دھرنے کی پڑی ہوئی ہیں، یہ آئیں، ہم مکمل بندوبست کریں گے، کسی کو امن و امان خراب کرنے نہیں دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم نے اپنے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر خیبر پختونخوا حکومت پورے صوبے میں سکیورٹی کی صورتحال بہتر نہیں بنا سکتی تو صوبے کے دیگر معاملات کیسے درست کرے گی؟ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ صوبائی حکومت کا دوہرا معیار، دوغلی پالیسی اور دہشت گردوں کے ساتھ مبینہ گٹھ جوڑ اب کھل کر سامنے آ گیا ہے اور یہ اس کی مکمل ناکامی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کے وزراء اب دہشت گردی کے حوالے سے پالیسی تبدیل کرنے کی بات کر رہے ہیں کیونکہ یہ چاہتے ہیں کہ دہشت گردوں کو مزید اسپیس ملے اور ان کے مالی معاملات مزید آگے بڑھیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبے میں غیر قانونی مائننگ، غیر قانونی تجارت اور سمگلنگ جیسے معاملات کو فروغ دینے کے لیے دہشت گردی کے خلاف مؤثر اقدامات سے گریز کیا جا رہا ہے۔ اسی لیے نیشنل ایکشن پلان کے تحت ایپکس کمیٹی کے اجلاس نہیں بلائے جاتے اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مطلوبہ اقدامات نہیں کیے جاتے۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے فروغ کا مقصد سمگلنگ، غیر قانونی تجارت اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں کو بڑھانا اور مالی فوائد حاصل کرنا ہے کیونکہ یہ طرز عمل ان کی سیاست کے لیے موزوں ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ وہ پہلے بھی کہہ چکے ہیں کہ شہریوں کی حفاظت اور ان کے جان و مال کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاست بعد کی بات ہے، خیبر پختونخوا حکومت کو چاہیے کہ عوام کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنائے اور دہشت گردی کے خلاف مؤثر اقدامات کرے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائی نہ کرنے کی وجہ یہ ہے کہ صوبائی حکومت کے لیے ذاتی اور سیاسی مفادات مقدم ہیں جبکہ خیبر پختونخوا کے عوام کے مفادات کی ان کے لئے کوئی حیثیت نہیں۔
بشکریہ: اے پی پی (ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان)



