اسلام آباد۔3اکتوبر (اے پی پی):وزیراعظم کے مشیر برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان نے کہا ہے کہ پاکستان کوصرف گاڑیاں اسمبل کرنے والا ملک نہیں بلکہ عالمی آٹو موٹو صنعت کا مسابقتی مرکز بنانا ہےجس کے لیے ملک کو اسمبلنگ سےمینوفیکچرنگ، مینوفیکچرنگ سے انجینئرنگ اور انجینئرنگ سے جدت کی طرف بڑھنا ہوگا۔ہفتہ کوایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا آٹو موبائل صرف گاڑی نہیں بلکہ پہیوں پر چلنے والا ایک کمپیوٹر بن چکا ہےاس لیے پاکستان کو ٹیکنالوجی کے صارف سے ٹیکنالوجی کےپیداواری، انجینئر، جدت کار اور برآمد کنندہ بننا ہوگا۔ہارون اختر خان نے کہا کہ پاکستان کے سامنے سوال ہے کہ ہم دوسروں کا بنایا ہوا مستقبل خریدیں گے یا خود مستقبل کی تعمیر میں حصہ لیں گے۔
اسمبلنگ ایک اہم آغاز تھا لیکن اسمبلنگ ہماری آخری منزل نہیں ہو سکتی۔ پاکستان کی صنعتی ترقی کا اگلا مرحلہ مقامی صنعت کو عالمی سپلائی چین کا حصہ بنانا ہے۔انہوں نے کہا کہ لوکلائزیشن ایسی صلاحیت پیدا کرے جو پاکستانی صنعت کو عالمی منڈیوں تک لے جائے اور پاکستان میں تیار ہونے والا پرزہ شنگھائی، ٹوکیو، میونخ یا ڈیٹرائٹ کی گاڑی میں استعمال ہونا چاہیے۔ ایک کامیاب آٹو موبائل فیکٹری اپنے اردگرد پوری صنعتی ویلیو چین پیدا کرتی ہے جبکہ پاکستانی وینڈرز کی مارکیٹ صرف ایک فیکٹری یا ایک شہر نہیں بلکہ پوری دنیا ہے۔
وزیراعظم کے مشیر نے کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے پاکستان کےمعاشی مستقبل کے لیےپیداوار، سرمایہ کاری، پیداواری صلاحیت اور برآمدات کی واضح سمت دی ہے۔وزیراعظم کی قیادت میں حکومت کا مقصد فیصلوں کو عملی نتائج میں تبدیل کرنا ہے اور صنعت کار، سرمایہ کار اورانجینئر زکے پاکستان پر اعتماد کو درست ثابت کرنے کے لیے سازگار ماحول فراہم کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ سرمایہ کاری، پیداوار اوربرآمدات کے لیے کاروباری ماحول کو آسان بنانا حکومت کی ترجیح ہے،حکومت کو صنعت کے گرد دیوار نہیں بلکہ صنعت کے نیچے ایک مضبوط پلیٹ فارم بنانا چاہیے۔ آٹو اینڈ آٹو پارٹس مینوفیکچرنگ پالیسی 2026-31 کا مقصد صنعت کو مزیدمسابقتی اور مضبوط بنانا ہے۔
ہارون اختر خان نے کہا کہ الیکٹرک وہیکل انقلاب پاکستان کے لیے ایک بڑا صنعتی موقع ہے، تاہم پاکستان کو اسے الیکٹرک وہیکل درآمدات کے انقلاب میں تبدیل نہیں ہونے دینا چاہیے۔ ہمیں بیٹری، موٹرز،چارجنگ آلات، پاور الیکٹرانکس، آٹو موٹو سافٹ ویئر اور انرجی اسٹوریج میں اپنی صلاحیت پیدا کرنا ہوگی۔انہوں نے کہا کہ الیکٹرک موبیلیٹی کے نئے دور میں پاکستان کو صرف صارف نہیں بلکہ پیداواری ملک بننا ہوگا۔ چینی سرمایہ کاری کا خیرمقدم کرتے ہیں، تاہم ہمیں صرف سرمایہ نہیں بلکہ ٹیکنالوجی اور انجینئرنگ بھی چاہیے۔ ہم چاہتے ہیں کہ پاکستانی انجینئرز عالمی کمپنیوں کے انجینئرز کے ساتھ مل کر کام کریں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں تیار ہونے والی مصنوعات کو عالمی منڈیوں تک پہنچانا ہمارا ہدف ہے۔ صنعتی تحفظ ایک پل ہونا چاہیے، مستقل منزل نہیں۔وزیراعظم کے مشیر نے کہا کہ ٹیرف ریشنلائزیشن، پیداواری صلاحیت اور ریگولیٹری اصلاحات عالمی مسابقت کے لیے ضروری ہیں۔ ہر غیر ضروری ضابطہ اور دفتری تاخیر پاکستان کی صنعتی مسابقت کو کمزور کرتی ہے۔
اگر سرمایہ کاری چاہیے تو سرمایہ کاری آسان بنائیں، پیداوار چاہیے تو پیداوار آسان بنائیں اور برآمدات چاہیے تو برآمدات آسان بنائیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت فریم ورک فراہم کرے گی جبکہ صنعت کو کارکردگی اور عالمی معیار کے نتائج دینا ہوں گے۔ پاکستانی صارف عالمی معیار، بہتر حفاظت، معیاری خدمات اور مسابقتی قیمتوں کا حق دار ہے اور اسے صنعتی ناکارکردگی کی قیمت ادا نہیں کرنی چاہیے۔ہارون اختر خان نے کہا کہ پاکستان کا سب سے بڑا صنعتی سرمایہ ہمارے لوگ اور ہماری نوجوان افرادی قوت ہیں۔
ہمیں میڈ اِن پاکستان سے انجینئرڈ اِن پاکستان، ڈیزائنڈ اِن پاکستان اور بالآخر اِن وینٹڈ اِن پاکستان کی طرف بڑھنا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کا ہدف صرف مصنوعات بنانا نہیں بلکہ ایسی ٹیکنالوجی بنانا ہے جسے دنیا خریدے۔ ہمیں ایسا پاکستان بنانا ہے جو صرف درآمد نہ کرے بلکہ دنیا کے لیے برآمد بھی کرے۔ مستقبل کی موبیلیٹی آج تعمیر ہو رہی ہے اور پاکستان کو اس مستقبل کی تعمیر میں اپنا حصہ ڈالنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ حکومت اور صنعت مل کر پاکستان کو عالمی آٹو موٹو ویلیو چین کا اہم حصہ بنائیں گے۔ پاکستان کو آٹو موٹو صنعت میں صارف سے پروڈیوسر اور پروڈیوسر سے عالمی برآمد کنندہ بننا ہوگا۔ہارون اختر خان نے چانگان اور اس کے پاکستانی شراکت داروں کو پاکستان میں نئی گاڑی متعارف کرانے پر مبارکباد بھی پیش کی۔
بشکریہ: اے پی پی (ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان)



