اسلام آباد۔2اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزیر توانائی اور پاکستان-روس بین الحکومتی کمیشن کے شریک چیئرمین سردار اویس احمد خان لغاری نے کہا ہے کہ پاکستان اور روس کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید فروغ دینے کے وسیع امکانات موجود ہیں جبکہ زراعت، غذائی تحفظ، توانائی، سیاحت اور آئی ٹی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھایا جا سکتا ہے۔جمعہ کوروسی خبر رساں ادارے سپوتنک کو انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے عالمی سطح پر صدر ولادی میر پیوٹن سے ملاقات کے ہر موقع سے استفادہ کیا اور دونوں رہنماؤں نے پاکستان اورروس کے درمیان قریبی تعلقات میں دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ روس کا تعاون علاقائی امن، سلامتی اور معاشی ترقی کے لئے نہایت اہم ہے۔اویس لغاری نے پاکستان اور روس کےبین الحکومتی کمیشن کودوطرفہ تعاون کے تمام شعبوں میں پیشرفت کے لئے مؤثر فورم قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ روس کے وزیر توانائی سرگئی تسویلیف کے ساتھ اس کمیشن کی مشترکہ سربراہی کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان زراعت، غذائی تحفظ، توانائی،سیاحت اور آئی ٹی کے شعبوں میں تعاون کے وسیع امکانات موجود ہیں، نئے ریل رابطوں اور پاکستان کی بین الاقوامی شمال-جنوب ٹرانسپورٹ راہداری میں شمولیت سے باہمی تجارت کو مزید فروغ دیا جا سکتا ہے۔
وفاقی وزیر نے سندھ طاس معاہدے کے حوالے سےپاکستان کے دوٹوک مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو اس کے آبی حقوق سے محروم کرنے کی کسی بھی کوشش کو اعلانِ جنگ کے مترادف سمجھا جائے گا۔ انہوں نے تنازعات کے حل کے لئے معاہدے میں طے شدہ طریقہ کار سے رجوع کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس معاملے کے اثرات صرف خطے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ اس کے وسیع تر نتائج مرتب ہو سکتے ہیں۔
بشکریہ: اے پی پی (ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان)



