جمعہ، 2 اکتوبر 2026
تازہ ترین
الیکشن کمیشن نے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 77 گوجرانوالہ ون میں لاہور ہائی کورٹ کے جج جسٹس احمد ندیم ارشد کو اپیلٹ ٹربیونل مقرر کر دیا پاکستان اور روس کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید فروغ دینے کے وسیع امکانات موجود ہیں ، سردار اویس احمد خان لغاری لیسکو سے متعلق شکایات وشواہد وزیراعظم کے سامنے رکھے جائیں گے،سپیکر پنجاب اسمبلی جمہوریت محض انتخابی عمل کا نام نہیں بلکہ جمہورکی حکمرانی، اجتماعی ذمہ داری اورسب کو ساتھ لیکرچلنے کاسیاسی نظام ہے، جعفرخان مندوخیل وزیرخارجہ اسحاق ڈار کی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81 ویں اجلاس کے دوران پاکستان کی سفارتی سرگرمیوں پر میڈیا کو بریفنگ جمہوریت میں اختلاف رائے فطری ہے، قومی مسائل کا پائیدار حل مکالمے اور سیاسی مفاہمت سے ہی ممکن ہے، ڈاکٹر طارق فضل چوہدری وزیراعظم شہباز شریف کا ایرانی وزیر خارجہ سے ٹیلیفونک رابطہ، ہمشیرہ کے انتقال پر تعزیت کی موسمیاتی تبدیلی پاکستانی زراعت وغذائی تحفظ کیلئے چیلنج بن چکی ہے، وفاقی وزیر رانا تنویر حسین وفاقی وزیر برائے تخفیفِ غربت سید عمران احمد شاہ کی پاکستان گلوبل مینٹل ہیلتھ سمٹ 2026 کی اختتامی تقریب میں شرکت وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں پاکستانی وفد کا دورہ امریکہ انتہائی مفید اور نتیجہ خیز رہا، مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ کے تحت سٹرٹیجک پولیٹیکل ڈیفنس کمیٹی کا اجلاس جلد ریاض میں ہو گا ،سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی میڈیا بریفنگ نیو کراچی انڈسٹریل ایریا پولیس اور سٹریٹ کریمنلزکے درمیان فائرنگ کا تبادلہ،2ملزمان زخمی حالت میں گرفتار ایشیئن گیمز،مینز والی بال سیمی فائنل میں ایران نے پاکستان کو3-0سے ہرادیا الیکشن کمیشن نے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 77 گوجرانوالہ ون میں لاہور ہائی کورٹ کے جج جسٹس احمد ندیم ارشد کو اپیلٹ ٹربیونل مقرر کر دیا پاکستان اور روس کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید فروغ دینے کے وسیع امکانات موجود ہیں ، سردار اویس احمد خان لغاری لیسکو سے متعلق شکایات وشواہد وزیراعظم کے سامنے رکھے جائیں گے،سپیکر پنجاب اسمبلی جمہوریت محض انتخابی عمل کا نام نہیں بلکہ جمہورکی حکمرانی، اجتماعی ذمہ داری اورسب کو ساتھ لیکرچلنے کاسیاسی نظام ہے، جعفرخان مندوخیل وزیرخارجہ اسحاق ڈار کی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81 ویں اجلاس کے دوران پاکستان کی سفارتی سرگرمیوں پر میڈیا کو بریفنگ جمہوریت میں اختلاف رائے فطری ہے، قومی مسائل کا پائیدار حل مکالمے اور سیاسی مفاہمت سے ہی ممکن ہے، ڈاکٹر طارق فضل چوہدری وزیراعظم شہباز شریف کا ایرانی وزیر خارجہ سے ٹیلیفونک رابطہ، ہمشیرہ کے انتقال پر تعزیت کی موسمیاتی تبدیلی پاکستانی زراعت وغذائی تحفظ کیلئے چیلنج بن چکی ہے، وفاقی وزیر رانا تنویر حسین وفاقی وزیر برائے تخفیفِ غربت سید عمران احمد شاہ کی پاکستان گلوبل مینٹل ہیلتھ سمٹ 2026 کی اختتامی تقریب میں شرکت وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں پاکستانی وفد کا دورہ امریکہ انتہائی مفید اور نتیجہ خیز رہا، مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ کے تحت سٹرٹیجک پولیٹیکل ڈیفنس کمیٹی کا اجلاس جلد ریاض میں ہو گا ،سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی میڈیا بریفنگ نیو کراچی انڈسٹریل ایریا پولیس اور سٹریٹ کریمنلزکے درمیان فائرنگ کا تبادلہ،2ملزمان زخمی حالت میں گرفتار ایشیئن گیمز،مینز والی بال سیمی فائنل میں ایران نے پاکستان کو3-0سے ہرادیا
قومی خبریں

اسلامی یونیورسٹی کے اسلامی تحقیقاتی ادارے کا مسلم جنوبی ایشیا میں ’’اسلام اور مذہب‘‘ کے تصور کی حدود کے موضوع پر خصوصی لیکچر

بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد
بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد

اسلام آباد۔2اکتوبر (اے پی پی):بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے اسلامی تحقیقاتی ادارے نے مسلم جنوبی ایشیا میں ’’اسلام اور مذہب‘‘ کے تصور کی حدود کے موضوع پر خصوصی لیکچر کا اہتمام کیا۔ امریکا کی نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی، ایونسٹن کے شعبہ مذہبی مطالعات کے پروفیسر ڈاکٹر برینن ڈی انگرام نے لیکچر دیا جس میں اساتذہ، محققین اور طلبہ نے بالمشافہ اور آن لائن شرکت کی۔

اسلامی تحقیقاتی ادارے کے ڈائریکٹر جنرل پروفیسر ڈاکٹر محمد اکرم نے افتتاحی کلمات میں پروفیسر انگرام کے زیر تکمیل کتابی منصوبے ’’اسلام اور مذہب کی سیاست ‘‘کا تعارف کراتے ہوئے کہا کہ یہ کتاب مذہب کے تصور سے متعلق مسلمانوں کے مختلف فکری مباحث کا جائزہ پیش کرتی ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر برینن ڈی انگرام نے اپنے خطاب میں اسلام کو مذہب کے طور پر متعین کرنے کے تاریخی اور قانونی مضمرات پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ قرآنی اصطلاح ’’دین‘‘ کو انگریزی لفظ ’’مذہب‘‘ کے مترادف قرار دینا ایک تاریخی ارتقائی عمل کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے برصغیر میں برطانوی دور کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ نوآبادیاتی نظام نے مذہب کو نجی عقیدے کے معاملے کے طور پر سمجھنے کے تصور کو فروغ دیا، جسے قانون، ثقافت اور سیاست سے الگ تصور کیا گیا۔

انہوں نے 1858ء کے ملکہ وکٹوریہ کے اعلان، نوآبادیاتی عدالتوں میں اسلامی فوجداری قانون کے خاتمے اور 1863ء کے مذہبی اوقاف ایکٹ کا بھی ذکر کیا۔ پروفیسر انگرام نے اسلام اور مذہب کے باہمی تعلق کے حوالے سے مسلم اہل علم کے تین مختلف فکری رجحانات بھی بیان کئے، جن میں ’’اسلام ایک مذہب ہے‘‘، ’’اسلام محض مذہب نہیں بلکہ طرز زندگی ہے‘‘ اور ’’اسلام مذہب نہیں ہے‘‘ شامل ہیں۔ انہوں نے تقسیم ہند سے قبل اور بعد کے مسلم علمی مباحث کا حوالہ دیتے ہوئے اس موضوع پر پائے جانے والے مختلف فکری زاویوں کو اجاگر کیا۔ لیکچر کے اختتام پر سوال و جواب کی نشست ہوئی جس میں شرکا نے موضوع کے تاریخی، قانونی اور فکری پہلوؤں پر اظہار خیال کیا اور مقرر کے ساتھ تبادلہ خیال کیا۔

بشکریہ: اے پی پی (ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان)