لاہور۔2اکتوبر (اے پی پی):فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر عاطف اکرام شیخ نے ایشیا پیسفک خطے کی ٹیکسٹائل صنعت کو مضبوط بنانے،مسابقتی صلاحیت بڑھانے اور عالمی منڈیوں میں خطے کے حصے کو وسعت دینے کیلئے مشترکہ علاقائی حکمتِ عملی تشکیل دینے پر زور دیا ہے۔انہوں نے ان خیالات کا اظہار سی اے سی سی آئی (CACCI )کے زیر اہتمام ایشیا ٹیکسٹائل اینڈ گارمنٹس کونسل کے تحت منعقدہ ویبینار ایشیا پیسفک ریجن میں ٹیکسٹائل انڈسٹری؛مواقع،چیلنجز اور آگے بڑھنے کا راستہ سے خطاب کرتے ہوئے کہی اور پاکستان کیلئے علاقائی ٹیکسٹائل انضمام کے حوالے سے اپنا موقف پیش کیا۔اس کونسل کی سربراہی ایف پی سی سی آئی کر رہی ہے۔
عاطف اکرام شیخ نے اس ویبینار کے مشترکہ انعقاد پر فیڈریشن آف بنگلہ دیش چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کا شکریہ بھی ادا کیا اور کاروباری تعاون اور اقتصادی ترقی کے فروغ کیلئے ایک اہم علاقائی پلیٹ فارم کے طور پر سی اے سی سی آئی کے کردار کو سراہا۔عالمی اور علاقائی صورتحال کا جائزہ پیش کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عالمی ٹیکسٹائل مارکیٹ کا حجم2025 میں2.12 ٹریلین ڈالر سے بڑھکر 2035 تک4.27 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے،جبکہ ایشیا پیسفک خطہ،جو عالمی ٹیکسٹائل مارکیٹ کا تقریباً53 فیصد حصہ رکھتا ہے،اسی عرصے کے دوران1.14 ٹریلین ڈالر سے بڑھکر2.33 ٹریلین ڈالر تک پہنچ سکتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ٹیکسٹائل کا شعبہ دنیا بھر میں تقریباً100 ملین افراد کو روزگار فراہم کرتا ہے،جبکہ وسیع تر فیشن اور ملبوسات کے شعبے کو شامل کیا جائے،تو یہ تعداد تقریبًا 430 ملین تک پہنچ جاتی ہے۔ٹیکسٹائل صنعت عالمی جی ڈی پی میں تقریبا2 فیصد حصہ رکھتی ہے،جبکہ چین اکیلا عالمی ٹیکسٹائل برآمدات میں تقریباً 32 فیصد حصہ رکھتا ہے۔پاکستان کی ٹیکسٹائل صنعت کی صلاحیتوں پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ شعبہ ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے اور قومی برآمدات میں تقریباً60 فیصد حصہ رکھتا ہے۔پاکستان کی ٹیکسٹائل برآمدات17.88 ارب ڈالر،صنعتی ویلیو ایڈیشن میں حصہ24.2 فیصد اور صنعتی روزگار میں حصہ تقریباًا40 فیصد ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان ایشیا کا 8 واں بڑا ٹیکسٹائل برآمد کنندہ،دنیا کا تیسرا بڑا یارن پروڈیوسر، پانچواں بڑا کپاس پیدا کرنے والا ملک اور چوتھا بڑا کپاس استعمال کرنے والا ملک ہے۔صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے پاکستان کی مربوط ٹیکسٹائل ویلیو چین کو بھی اجاگر کیا،جو کپاس کی پیداوار سے لیکر تیار ملبوسات تک پھیلی ہوئی ہے۔انہوں نے ٹیکسٹائل شعبے کیلئے دستیاب مراعات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان میں مشینری کی ڈیوٹی فری درآمد،خام مال پر کم ٹیرف،یورپی یونین ک جی ایس پی پلس سہولت،چین کیلئے زیرو ڈیوٹی رسائی،ڈیوٹی ڈرا بیک اور رعایتی شرحوں پر لانگ ٹرم فنانسنگ فیسلیٹی (LTFF) شامل ہیں۔انہوں نے پاکستان کے جغرافیائی محلِ وقوع کو بھی اجاگر کیا اور کہا کہ پاکستان وسطی ایشیا،خلیجی ممالک اور مشرق بعید کیلئے ایک ممکنہ گیٹ وے کی حیثیت رکھتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سی پیک کے ذریعے رابطہ کاری اور ایران کے راستے ترکیہ اور وسطی ایشیا سے پاکستان کو ملانے والی سڑک اور ریلوے کے بڑھتے ہوئے روابط اس صلاحیت کو مزید مضبوط بناتے ہیں۔آگے بڑھنے کے حوالے سے تجاویز پیش کرتے ہوئے عاطف اکرام شیخ نے کہا کہ ایشیا پیسفک ممالک کو باہمی مسابقت کے ساتھ ساتھ علاقائی تعاون کو بھی فروغ دینا چاہیے اور یورپی یونین،افریقہ اور امریکی منڈیوں میں ٹیکسٹائل برآمدات بڑھانے کیلئے مشترکہ حکمتِ عملی پر غور کرنا چاہیے۔انہوں نے زور دیا کہ مستقبل میں عالمی مسابقتی صلاحیت کا انحصار پائیداری،جدید ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل ٹریس ایبلٹی،مصنوعی ذہانت کے ذریعے مصنوعات کی تیاری،سرحد پار سرمایہ کاری اور بین الاقوامی برانڈنگ پر بڑھتا جائے گا۔
انہوں نے ملبوسات،ہوم ٹیکسٹائل،ریڈی میڈ گارمنٹس اور صنعتی ٹیکسٹائل کے شعبوں میں موجود وسیع مگر غیر استعمال شدہ برآمدی امکانات کی بھی نشاندہی کی اور مضبوط علاقائی ویلیو چینز اور کاروباری اداروں کے درمیان بی 2بی شراکت داری کے فروغ پر زور دیا۔پریزنٹیشن کے بعد سوال و جواب کا سیشن بھی ہوا،جس میں سی اے سی سی آئی کی رکن قومی چیمبرز کے نمائندگان نے سپلائی چین میں شفافیت،ریگولیٹری تقاضوں، جی ایس پی پلس اور علاقائی ویلیو چین کی ترقی سے متعلق سوالات کئے،جن کے عاطف اکرام شیخ نے تفصیلی جوابات دیئے۔صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے ویبینار کے انعقاد اور ایشیا پیسفک ٹیکسٹائل صنعت کے مستقبل پر موثر مکالمے کیلئے پلیٹ فارم فراہم کرنے پرسی اے سی سی آئی کی قیادت اور سیکرٹریٹ کا شکریہ ادا کیا۔
بشکریہ: اے پی پی (ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان)



