گلگت۔ 06 اکتوبر (اے پی پی):گلگت بلتستان اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صحت کا اجلاس چیئرمین کمیٹی و قائد حزبِ اختلاف حافظ حفیظ الرحمن کی زیرِ صدارت اسمبلی سیکرٹریٹ کے کانفرنس ہال میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں وزیر داخلہ حاجی دلپذیر خان، رکن اسمبلی سید سہیل عباس،ممبر اسمبلی دلشاد بانو سیکرٹری صحت گلگت بلتستان، ایڈیشنل سیکرٹری صحت سمیت محکمہ صحت کے دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔اجلاس میں محکمہ صحت کی مجموعی کارکردگی، ہیلتھ پالیسی اور اس پر عملدرآمد، اینڈومنٹ فنڈ، خریداری کے طریقہ کار، جاری ترقیاتی منصوبوں، بھرتیوں، تعیناتی و تبادلوں کی پالیسی سمیت محکمہ صحت سے متعلق دیگر امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ محکمہ صحت کے حکام نے کمیٹی کو مختلف امور پر تفصیلی بریفنگ دی۔قائمہ کمیٹی نے گلگت بلتستان میں ڈسپنسریوں کی تعمیر کے لیے جامع پالیسی مرتب کرنے کی سفارش کرتے ہوئے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں میں غیر ضروری اخراجات اور بلا ضرورت تعمیرات سے گریز کیا جائے اور وسائل کو عوام کو بہتر طبی سہولیات کی فراہمی پر صرف کیا جائے۔کمیٹی نے SPS بنیاد پر پوسٹوں کی تخلیق کے حوالے سے سفارش کی کہ صرف انتہائی ضرورت کی صورت میں ایسی پوسٹیں تخلیق کی جائیں، جبکہ جہاں مستقل پوسٹیں منظور ہوچکی ہیں وہاں SPS بنیاد پر بھرتیوں کی حوصلہ شکنی کی جائے۔ کمیٹی نے قرار دیا کہ SPS کا طریقہ کار بعض مخصوص ضروریات کے پیش نظر متعارف کرایا گیا تھا تاہم بعد ازاں اس کے غلط استعمال کی شکایات سامنے آئی ہیں لہٰذا اس کے استعمال کو ضرورت اور میرٹ تک محدود رکھا جائے۔
قائمہ کمیٹی نے شہری علاقوں کے اطراف قائم 10 اور 30 بستروں کے ہسپتالوں میں ایمبولینس سروس بہتر بنانے کی سفارش کی تاکہ مریضوں کو ابتدائی طبی امداد کی فراہمی کے بعد بروقت بڑے ہسپتالوں میں منتقل کیا جاسکے۔ کمیٹی نے اس امر پر تشویش کا اظہار کیا کہ محکمہ صحت کی ایمبولینسز ریسکیو 1122 کو فراہم کی گئی ہیں۔ کمیٹی نے سفارش کی کہ محکمہ صحت کی ایمبولینسز واپس محکمہ صحت کے حوالے کی جائیں اور محکمہ صحت اپنی ایمبولینس سروس کو مؤثر اور فعال بنانے کے لیے عملی اقدامات کرے۔کمیٹی نے گلگت بلتستان ہیلتھ کیئر کمیشن کے قیام کے لیے قانون سازی کی بھی سفارش کی تاکہ دیگر صوبوں کی طرز پر صحت کے شعبے میں معیار، نگرانی اور احتساب کا مؤثر نظام قائم کیا جاسکے۔اجلاس میں سکردو 250 بستروں کے ہسپتال کے ٹینڈر کے عمل میں تاخیر کا بھی جائزہ لیا گیا۔ کمیٹی نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ ٹینڈر کے عمل میں غیر ضروری تاخیر سے گریز کرتے ہوئے اسے جلد از جلد مکمل کیا جائے تاکہ منصوبے پر عملی پیش رفت ممکن ہو۔کمیٹی نے کارڈیک ہسپتال کو فعال کرنے کے حوالے سے بھی اہم سفارشات پیش کیں۔ کمیٹی نے حکومت پر زور دیا کہ متعلقہ ادارے FIC، RIC یا NDIC میں سے جس کے ساتھ بھی موزوں سمجھا جائے، جلد از جلد معاہدہ کرکے کارڈیک ہسپتال کو آپریشنل بنائیں تاکہ گلگت بلتستان کے عوام کو مقامی سطح پر علاج کی سہولت میسر آسکے اور گلگت بلتستان ہیلتھ اینڈومنٹ فنڈ اور ہیلتھ کارڈ کے ذریعے مستحق مریضوں کو علاج کی سہولیات میسر ہونی چاہیے۔
قائمہ کمیٹی نے محکمہ صحت کے نظام کو ڈیجیٹلائز کرنے کے لیے عملی اقدامات اٹھانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا کہ گلگت بلتستان کے تمام چھوٹے بڑے ہسپتالوں میں جدید ڈیٹا مینجمنٹ سسٹم متعارف کرایا جائے اور تمام ہسپتالوں کو آن لائن مربوط کیا جائے تاکہ مریضوں کا ریکارڈ، علاج، ادویات اور دیگر ضروری معلومات جدید نظام کے تحت محفوظ اور باآسانی دستیاب ہوسکیں۔کمیٹی نے محکمہ صحت کے عرصہ دراز سے غیر فعال موبائل فیلڈ ہیلتھ یونٹس کو بھی فوری طور پر فعال کرنے کی سفارش کی تاکہ دور دراز اور پسماندہ علاقوں کے عوام کو ان کی دہلیز پر بنیادی طبی سہولیات فراہم کی جاسکیں۔کمیٹی نے محکمہ صحت کو ہدایت کی کہ فیڈرل پبلک سروس کمیشن (FPSC) بیجھے گئے تمام آسامیوں کی مؤثر پیروی کرتے ہوئے ان پر بھرتی اور تعیناتی کا عمل جلد از جلد مکمل کرایا جائے تاکہ محکمہ میں موجود افرادی قوت کی کمی کو دور کیا جاسکے۔چیئرمین کمیٹی حافظ حفیظ الرحمن نے اس موقع پر اس امر پر زور دیا کہ محکمہ صحت کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے دستیاب وسائل کا مؤثر اور شفاف استعمال یقینی بنایا جائے، عوام کو معیاری طبی سہولیات کی فراہمی اولین ترجیح ہونی چاہیے اور کمیٹی کی سفارشات پر عملی پیش رفت کو یقینی بنایا جائے۔
بشکریہ: اے پی پی (ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان)



