بدھ، 7 اکتوبر 2026
تازہ ترین
بلوچستان میں ہنگامی حالات کے دوران صنفی تشدد سے تحفظ کا فریم ورک جاری سری لنکا کے خلاف ٹی 20 سیریز، قومی سکواڈ اسلام آباد پہنچ گیا وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی ڈی آئی خان میں ایف بی آر انفورسمنٹ اہلکاروں پر فائرنگ کے واقعہ کی مذمت پٹرول کی قیمت میں 1.19 روپے اضافہ، ڈیزل 1.91 روپے فی لیٹر سستا کرپشن اور بدعنوانی پر سپرنٹنڈنٹ ڈسٹرکٹ جیل اٹک عمران نوید اشرف معطل ،ترجمان محکمہ داخلہ پنجاب امریکی یونیورسٹی کے ڈاکٹر ڈینیئل سعود کا بارانی زرعی یونیورسٹی کا دورہ ،تعلیمی و تحقیقی تعاون پر تبادلہ خیال ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن آفس ای ٹی او vI پشاور کی ماہ ستمبر میں ریکارڈ ریکوری، ہدف سے ایک کروڑ 70 لاکھ روپے زائد ریکوری پنجاب بھرمیں 1456ٹریفک حادثات میں 12افراد جاں بحق1682زخمی ہوئے ،ریسکیو سپیکر گلگت بلتستان اسمبلی عمران ندیم کی یورپی یونین کے نمائندوں سے ملاقات، پائیدار ترقی و موسمیاتی تعاون پر تبادلہ خیال ملتان اورمضافات میں آئندہ چوبیس گھنٹوں کے دوران مطلع جزوی طورپرابرآلود رہنے اور گرد آلود ہوائیں چلنے کا امکان ہیلتھ کیئر کمیشن، ایمبولینس سروس اور ہسپتالوں کی بہتری: قائمہ کمیٹی صحت کی اہم سفارشات عدالت نے جرم ثابت ہونے پر قاتل کو سزائے موت سنا دی بلوچستان میں ہنگامی حالات کے دوران صنفی تشدد سے تحفظ کا فریم ورک جاری سری لنکا کے خلاف ٹی 20 سیریز، قومی سکواڈ اسلام آباد پہنچ گیا وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی ڈی آئی خان میں ایف بی آر انفورسمنٹ اہلکاروں پر فائرنگ کے واقعہ کی مذمت پٹرول کی قیمت میں 1.19 روپے اضافہ، ڈیزل 1.91 روپے فی لیٹر سستا کرپشن اور بدعنوانی پر سپرنٹنڈنٹ ڈسٹرکٹ جیل اٹک عمران نوید اشرف معطل ،ترجمان محکمہ داخلہ پنجاب امریکی یونیورسٹی کے ڈاکٹر ڈینیئل سعود کا بارانی زرعی یونیورسٹی کا دورہ ،تعلیمی و تحقیقی تعاون پر تبادلہ خیال ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن آفس ای ٹی او vI پشاور کی ماہ ستمبر میں ریکارڈ ریکوری، ہدف سے ایک کروڑ 70 لاکھ روپے زائد ریکوری پنجاب بھرمیں 1456ٹریفک حادثات میں 12افراد جاں بحق1682زخمی ہوئے ،ریسکیو سپیکر گلگت بلتستان اسمبلی عمران ندیم کی یورپی یونین کے نمائندوں سے ملاقات، پائیدار ترقی و موسمیاتی تعاون پر تبادلہ خیال ملتان اورمضافات میں آئندہ چوبیس گھنٹوں کے دوران مطلع جزوی طورپرابرآلود رہنے اور گرد آلود ہوائیں چلنے کا امکان ہیلتھ کیئر کمیشن، ایمبولینس سروس اور ہسپتالوں کی بہتری: قائمہ کمیٹی صحت کی اہم سفارشات عدالت نے جرم ثابت ہونے پر قاتل کو سزائے موت سنا دی
قومی خبریں

این ای او سی نے پاکستان میں 2026 کے پولیو کے چھٹے کیس کی تصدیق کر دی

نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سینٹر برائے انسدادِ پولیو (این ای او سی) نے پاکستان میں 2026 کے پولیو کے چھٹے کیس کی تصدیق کر دی ہے۔ پولیو کا نیا کیس خیبر پختونخوا کے ضلع خیبر سے رپورٹ ہوا ہے۔متاثرہ بچہ تحصیل جمرود کی یونین کونسل غنڈی-اے کا سات سالہ لڑکا ہے۔جاری تفصیلات کے مطابق پاکستان پولیو کے خاتمے کے اقدام کی جانب سے کیس کی جامع تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔
نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سینٹر برائے انسدادِ پولیو (این ای او سی) نے پاکستان میں 2026 کے پولیو کے چھٹے کیس کی تصدیق کر دی ہے۔ پولیو کا نیا کیس خیبر پختونخوا کے ضلع خیبر سے رپورٹ ہوا ہے۔متاثرہ بچہ تحصیل جمرود کی یونین کونسل غنڈی-اے کا سات سالہ لڑکا ہے۔جاری تفصیلات کے مطابق پاکستان پولیو…

اسلام آباد۔5اکتوبر (اے پی پی):نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سینٹر برائے انسدادِ پولیو (این ای او سی) نے پاکستان میں 2026 کے پولیو کے چھٹے کیس کی تصدیق کر دی ہے۔ پولیو کا نیا کیس خیبر پختونخوا کے ضلع خیبر سے رپورٹ ہوا ہے۔متاثرہ بچہ تحصیل جمرود کی یونین کونسل غنڈی-اے کا سات سالہ لڑکا ہے۔جاری تفصیلات کے مطابق پاکستان پولیو کے خاتمے کے اقدام کی جانب سے کیس کی جامع تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔ کیس کے ردعمل میں بچوں تک رسائی اور انہیں پولیو سے محفوظ بنانے کے لیے اضافی اقدامات بھی زیرِ غور ہیں، جن میں بڑی عمر کے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے لیے زبانی اور انجیکٹ ایبل ویکسین پلانے اور لگانے کی خصوصی مہم کے ساتھ ساتھ معمول کی حفاظتی ویکسینیشن کو مزید موثر بنانا شامل ہے۔

رواں سال رپورٹ ہونے والے پولیو کے چھ کیسز میں سے پانچ کا تعلق خیبر پختونخوا سے ہے جبکہ ان میں سے چار کیسز صرف جنوبی خیبر پختونخوا سے رپورٹ ہوئے ہیں۔پولیو ویکسین کی بدولت پاکستان میں پولیو کے کیسز میں 99.8 فیصد کمی آئی ہے۔ 1990 کی دہائی کے اوائل میں ملک میں پولیو کے ایک اندازے کے مطابق 20 ہزار کیسز رپورٹ ہوتے تھے، جو 2025 میں کم ہو کر 31 اور رواں سال اب تک 6 ہو گئے ہیں۔ملک میں مجموعی طور پر پولیو وائرس کی منتقلی میں 2025 کے بعد کمی آئی ہے تاہم جنوبی خیبر پختونخوا اور خیبر پشاور بلاک جیسے وائرس کے بنیادی مراکز میں پولیو وائرس کی منتقلی بدستور جاری ہے۔

پولیو ایک انتہائی متعدی اور لاعلاج بیماری ہے جو زندگی بھر کے لیے فالج کا سبب بن سکتی ہے اور بعض صورتوں میں موت کا باعث بھی بن سکتی ہے تاہم محفوظ اور مؤثر پولیو ویکسین کے ذریعے اس بیماری سے بچائو ممکن ہے۔ پولیو ویکسین دنیا کے 195 ممالک، بشمول تمام مسلم اکثریتی ممالک، میں محفوظ طریقے سے استعمال کی جا رہی ہے۔2026 میں پاکستان میں اب تک پولیو سے بچاؤ کی چار ملک گیر مہمات منعقد کی جا چکی ہیں، جن کے دوران چار کروڑ 50 لاکھ سے زائد بچوں کو متعدد مرتبہ پولیو سے بچائو کے قطرے پلائے گئے۔ اس کے علاوہ زیادہ خطرے والے علاقوں میں محدود اور ہدفی زبانی اور انجیکٹ ایبل ویکسینیشن مہمات بھی جاری رہیں۔گزشتہ ماہ ملک بھر میں ذیلی قومی سطح پر منعقد کی گئی پولیو مہم کے دوران دو کروڑ 93 لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو سے محفوظ بنایا گیا۔پولیو کا خاتمہ پوری قوم کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

این سی او سی کے حکام نے کہا کہ پولیو کے خاتمے کے لیے کام کرنے والے فرنٹ لائن ورکرز بچوں کو ان کی دہلیز پر ویکسین کی سہولت فراہم کر رہے ہیں جبکہ والدین اور نگہداشت کرنے والوں کا اہم کردار ہے کہ وہ اپنے بچوں کو پولیو ویکسین کی تمام تجویز کردہ خوراکیں، بشمول معمول کی حفاظتی ویکسینیشن، ضرور دلوائیں۔معاشرے، مذہبی رہنمائوں اور میڈیا کا بھی ویکسینیشن کے فروغ، غلط معلومات کے تدارک اور ہر بچے تک ویکسین کی رسائی یقینی بنانے میں اہم کردار ہے۔مشترکہ کوششوں کے ذریعے پاکستان کو ایک صحت مند ملک بنانے اور ہر خاندان کے لیے پولیو سے پاک مستقبل یقینی بنانے کے ساتھ کسی بھی بچے کو ویکسین سے محروم نہ رہنے دینے کا عزم کیا جا سکتا ہے۔

بشکریہ: اے پی پی (ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان)