برلن۔2اکتوبر (اے پی پی):فرانس کے نئے کوچ زین الدین زیدان 20 سال بعد ایک مرتبہ پھر اٹلی کے سامنے ہوں گے، تاہم اس بار وہ کھلاڑی کے بجائے کوچ کی حیثیت سے میدان کے کنارے موجود ہوں گے۔ای ایس پی این کے مطابق 2006 کے ورلڈ کپ فائنل میں اٹلی کے خلاف اضافی وقت کے دوران زین الدین زیدان نے اطالوی دفاعی کھلاڑی مارکو ماتراتزی کو سینے پر سر مارا تھا، جس کے نتیجے میں انہیں ریڈ کارڈ دکھا کر میدان سے باہر بھیج دیا گیا تھا۔
یہ واقعہ زین الدین زیدان کے شاندار کھیل کے کیریئر کا آخری لمحہ بھی ثابت ہوا۔ زیدان نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ 2006 کے واقعے کی تصاویر آج بھی بار بار دکھائی جاتی ہیں، تاہم ان کے کیریئر میں اس واقعے کے علاوہ بھی بہت سے اچھے لمحات موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہیں اس واقعے پر فخر نہیں، لیکن وہ اسے اپنے کیریئر کا حصہ سمجھتے ہیں اور اس پر پچھتاوا نہیں کرتے۔ زیدان نے بتایا کہ 2006 کے فائنل کے بعد انہیں اندازہ نہیں تھا کہ وہ مستقبل میں فرانس کی قومی ٹیم کے کوچ بنیں گے، اس لیے اس وقت انہیں محسوس ہوتا تھا کہ فرانس کے ساتھ ان کا سفر ختم ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب وہ قومی ٹیم کی کوچنگ کے لیے تیار ہیں اور اپنی تمام صلاحیتیں بروئے کار لانا چاہتے ہیں۔
زیدان نے واضح کیا کہ 2006 کے واقعے کے بعد ان کی مارکو ماتراتزی سے دوبارہ بات نہیں ہوئی۔ فرانس کی کوچنگ سنبھالنے کے بعد زیدان نے ابتدائی 2 میچوں میں کامیابی حاصل کی ہے۔ فرانس نے ترکیہ کو 0-1 اور بیلجیئم کو 0-1 سے شکست دی۔ اٹلی کے خلاف ہونے والا میچ بطور کوچ زیدان کا فرانس میں اپنی ٹیم کے شائقین کے سامنے پہلا میچ ہوگا۔ دوسری جانب اٹلی کے کوچ روبرٹو مانچینی کی قیادت میں ٹیم نے نئے سفر کا آغاز کیا ہے۔ اٹلی کو پہلے میچ میں بیلجیئم کے ہاتھوں 0-2 سے شکست ہوئی، تاہم ترکیہ کے خلاف 1-4 کی فتح نے ٹیم کے حوصلے بلند کیے ہیں۔
بشکریہ: اے پی پی (ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان)


