اسلام آباد۔4اکتوبر (اے پی پی):اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری (آئی سی ٹی) کے مختلف علاقوں میں بنیادی مراکز صحت اور کمیونٹی ہیلتھ سینٹرز پر قائم 10 سرکاری ٹیلی میڈیسن مراکز سے اب تک تقریباً 14 ہزار مریض طبی مشاورت کی سہولت حاصل کر چکے ہیں۔سرکاری ذرائع کےمطابق پہلا سرکاری ٹیلی میڈیسن مرکز جنوری میں قائم کیا گیا تھا جبکہ شہریوں کو ان کی دہلیز کے قریب طبی مشاورت کی سہولت فراہم کرنے کے لیے اب اس نیٹ ورک کو وفاقی دارالحکومت کے مختلف علاقوں میں 10 مراکز تک توسیع دی گئی ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ اس اقدام کا مقصد بالخصوص دور دراز اور کم سہولیات والے علاقوں میں مقیم مریضوں کو بڑے ہسپتالوں تک طویل سفر کیے بغیر طبی مشورے کی سہولت فراہم کرنا ہے۔ٹیلی فون اور ویڈیو مشاورت کے ذریعے مریض قریبی ٹیلی میڈیسن مراکز پر ماہرین، جن میں امراض قلب اور جلد کے ماہرین بھی شامل ہیں، سے طبی مشورہ حاصل کر سکتے ہیں۔مریضوں کو آن لائن نسخے جاری کیے جائیں گے جبکہ ادویات بھی مراکز پر فراہم کی جائیں گی، جس سے بڑےہسپتالوں میں مریضوں کے رش میں بتدریج کمی اور شہریوں کے لیے صحت کی سہولیات تک رسائی میں بہتری متوقع ہے۔ذرائع کے مطابق بڑی تعداد میں ڈاکٹرز، خصوصاًخواتین ڈاکٹرز، اس وقت فعال طبی پریکٹس میں نہیں ہیں۔

ٹیلی میڈیسن سروسز کے ذریعے وہ اپنے گھروں سےمریضوں کو طبی مشاورت فراہم کر سکیں گی، جس سے ان کی پیشہ ورانہ مہارت سے استفادہ کرنے کے ساتھ ساتھ دستیاب طبی افرادی قوت میں بھی اضافہ ہوگا۔وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال نےحال ہی میں کمیونٹی ہیلتھ سینٹر شاہ اللہ دتہ، اسلام آباد میں ٹیلی میڈیسن سروسز کا افتتاح کیا اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے بنیادی صحت کی سہولیات کو مزید مضبوط بنانے کی اہمیت پر زور دیا۔ٹیلی میڈیسن اقدام صحت کہانی کے اشتراک سے نافذ کیا گیا ہےجس کا مقصد بالخصوص ایسے علاقوں میں معیاری طبی سہولیات تک بروقت رسائی بہتر بنانا ہے جہاں خصوصی طبی خدمات محدود ہیں۔ذرائع نے بتایا کہ وزارت قومی صحت خدمات، ضوابط و رابطہ اور ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفس اسلام آباد عوامی صحت کے نظام کو مزید مضبوط بنانے، بروقت تشخیص، مؤثر ریفرل نظام اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے ذریعے صحت کی سہولیات تک رسائی بڑھانے کے لیے پرعزم ہیں۔
وزارت صحت نے ٹیلی میڈیسن پالیسی بھی وضع کی ہے، جس کے تحت ٹیلی کمیونیکیشن اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ذریعے مریضوں اور طبی ماہرین کے درمیان جغرافیائی فاصلے کے باوجود تشخیص اور علاج کے لیے طبی مہارت کی فراہمی کا فریم ورک وضع کیا گیا ہے۔پالیسی کے تحت ٹیلی میڈیسن میں پیتھالوجی، طبی امیجنگ اور مریضوں کو طبی مشاورت کی خدمات شامل ہو سکتی ہیں، جن کا مقصد جغرافیائی رکاوٹوں پر قابو پاتے ہوئے انفارمیشن و کمیونیکیشن ٹیکنالوجی کے استعمال سے مریضوں کے تجربے اور طبی نتائج کو بہتر بنانا ہے۔
پالیسی میں لائسنس یافتہ ٹیلی میڈیسن پریکٹیشنرز کی فراہمی بھی کی گئی ہے، جبکہ اہل ڈاکٹرز کے لیے متعلقہ ضوابط کے مطابق ٹیلی میڈیسن خدمات فراہم کرنے کی مجاز حیثیت ضروری قرار دی گئی ہے۔سرکاری ٹیلی میڈیسن مراکز کے دائرہ کار میں توسیع سے ماہرین سے طبی مشاورت تک رسائی، بنیادی صحت کی سہولیات اور مجموعی عوامی صحت کے نظام میں مزید بہتری جبکہ مریضوں کو دور دراز مراکز صحت تک سفر کی ضرورت میں کمی متوقع ہے۔
بشکریہ: اے پی پی (ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان)



