اسلام آباد۔4اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزیر داخلہ سید محسن رضا نقوی اور چیرمین سی ڈی اے اور چیف کمشنر اسلام آباد سہیل اشرف کی ہدایات پر اسلام آباد انتظامیہ ، ایڈیشنل کمشنر (جی) ڈاکٹر انعم فاطمہ کی زیرنگرانی ’’پلاسٹک فری اسلام آباد‘‘ اقدام کا آغاز کر دیا گیا ہے۔اتوار کو سی ڈی اے کی جانب سے جاری بیان کے مطابق اس اقدام کا مقصد پلاسٹک سے پیدا ہونے والی آلودگی میں کمی لانا اور وفاقی دارالحکومت کو مزید صاف، سرسبز، صحت مند اور پائیدار بنانا ہے۔جبکہ تما م اسسٹنٹ کمشنرز اپنے علاقوں کی مانیٹرنگ اور اس مہم کو کامیاب بنانے میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں گے۔ اس اقدام کا مقصد شہریوں میں سنگل یوز پلاسٹک کے ماحول پر مضر اثرات کے حوالے سے زیادہ سے زیادہ آگاہی پیدا کرنا اور شہریوں، تاجروں، کاروباری اداروں، تعلیمی اداروں، فوڈ آؤٹ لیٹس اور دیگر متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کو دوبارہ قابلِ استعمال اور ماحول دوست متبادل اختیار کرنے کی ترغیب دینا ہے۔
اسلام آباد بھر میں پلاسٹک بیگز اور دیگر سنگل یوز پلاسٹک اشیاء کے غیر ضروری استعمال کی حوصلہ شکنی، ذمہ دارانہ انداز میں کچرے کو ٹھکانے لگانے اور بہتر ماحولیاتی طریقوں کے فروغ کے لیے مربوط اقدامات کیے جائیں گے۔ اس سلسلے میں مارکیٹس، کمرشل علاقوں، فوڈ آؤٹ لیٹس، تعلیمی اداروں،پارکس، تفریحی مقامات اور دیگر عوامی مقامات پر خصوصی توجہ دی جائے گی، جہاں شہریوں اور کاروباری برادری کا تعاون پلاسٹک کے کچرے میں کمی لانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ تاجروں اور کاروباری برادری کو بھی اس اقدام کی حمایت کرنے کی ترغیب دی جا رہی ہے تاکہ سنگل یوز پلاسٹک بیگز کی فراہمی کم کی جائے اور صارفین کو دوبارہ قابلِ استعمال اور ماحول دوست متبادل فراہم کیے جائیں۔شہریوں، بالخصوص تاجروں اور کاروباری برادری کے ارکان نے سی ڈی اے اور اسلام آباد انتظامیہ کے اس اقدام کو سراہتے ہوئے بھرپور تعاون کا عزم ظاہر کیا ہے تاکہ اسلام آباد کو مزید صاف، محفوظ اور ماحول دوست بنایا جا سکے۔ شہریوں نے اس امر کو تسلیم کیا ہے کہ پلاسٹک کے استعمال میں کمی نہ صرف ایک اہم ماحولیاتی ذمہ داری ہے بلکہ معاشرے میں صحت مند اور پائیدار طرزِ زندگی اپنانے کا بھی ایک مؤثر موقع ہے۔
شہریوں پر زور دیا جا رہا ہے کہ وہ سنگل یوز پلاسٹک کو ’’نہیں‘‘ کہیں، دوبارہ قابلِ استعمال بیگز ساتھ رکھیں، غیر ضروری پلاسٹک پیکیجنگ سے گریز کریں اور کچرے کو مناسب طریقے سے ٹھکانے لگانے کو یقینی بنائیں۔شہریوں، کاروباری برادری اور طلبہ کی جانب سے ملنے والے مثبت ردعمل سے اسلام آباد کو صاف اور ماحول دوست رکھنے کے لیے عوامی احساسِ ذمہ داری میں اضافے کی عکاسی ہوتی ہے۔ اس اقدام کو ایک طویل المدتی تحریک میں تبدیل کرنے کے لیے عوام کا تعاون ناگزیر ہے، جس کے ذریعے ذمہ دارانہ استعمال، صاف ستھرے عوامی مقامات اور وفاقی دارالحکومت میں ماحولیاتی شعور کو فروغ دیا جا سکے۔اس اقدام سے نہ صرف اسلام آباد کو صاف رکھنے میں مدد ملے گی بلکہ شہریوں اور یہاں آنے والے افراد کے لیے معیارِ زندگی، عوامی بہبود اور صحت مند ماحول میں بھی بہتری آئے گی۔ پلاسٹک کے کچرے میں کمی سے سڑکوں، مارکیٹس، پارکس، عوامی مقامات اور نکاسیٔ آب کے نظام کو صاف رکھنے میں مدد ملے گی، جبکہ بہتر ویسٹ مینجمنٹ اور شہری ماحول میں کچرے کے جمع ہونے میں بھی کمی آئے گی۔ صاف اور صحت مند شہر لوگوں کے لیے رہنے، کام کرنے، تعلیم حاصل کرنے اور تفریح کے حوالے سے زیادہ خوشگوار اور پائیدار ماحول فراہم کرتا ہے۔
چیئرمین سی ڈی اے و چیف کمشنر اسلام آباد نے اس امر پر زور دیا کہ اسلام آباد کو پلاسٹک فری بنانا محض ایک انفورسمنٹ سرگرمی نہیں بلکہ سی ڈی اے، اسلام آباد انتظامیہ، شہریوں، تاجروں، کاروباری اداروں، تعلیمی اداروں اور دیگر تمام اسٹیک ہولڈرز کی مشترکہ ماحولیاتی اور شہری ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس اقدام کی کامیابی کا انحصار عوام کی بھرپور شرکت اور معاشرے کے تمام طبقات کے مسلسل تعاون پر ہے۔ اس اقدام کا مقصد روزمرہ زندگی کی عادات میں مثبت تبدیلی لانا اور دارالحکومت کی صفائی، صحت اور ماحولیاتی پائیداری کے لیے عوام میں مضبوط احساسِ ذمہ داری پیدا کرنا ہے۔سی ڈی اے اور اسلام آباد انتظامیہ شہریوں، تاجروں اور کاروباری برادری کے مثبت ردعمل اور تعاون کو سراہتے ہوئے تمام افراد سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اس اہم اقدام میں فعال شراکت دار بنیں۔ اجتماعی کوششوں اور روزمرہ معمولات میں معمولی مگر مؤثر تبدیلیوں کے ذریعے اسلام آباد کو موجودہ اور آنے والی نسلوں کے لیے مزید صاف، محفوظ، صحت مند، سرسبز اور پائیدار دارالحکومت بنایا جا سکتا ہے۔
بشکریہ: اے پی پی (ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان)



