اسلام آباد۔7اکتوبر (اے پی پی):وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے واضح اور دو ٹوک الفاظ میں اعلان کیا ہے کہ وفاقی حکومت دارالحکومت اسلام آباد کے تحفظ کو ہر قیمت پر یقینی بنائے گی اور شہرِ اقتدار کو کسی کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ اگر اسلام آباد پر چڑھائی کی کوئی بھی کوشش کی گئی تو ریاست اپنے تمام تر آئینی، قانونی اور انتظامی وسائل بروئے کار لا کر اس کا مقابلہ کرے گی۔پارلیمنٹ ہائوس میں میڈیا کے نمائندوں سے تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے وزیر دفاع نے کہا کہ وفاقی حکومت کی اولیں ترجیح اور کوشش یہی ہے کہ کسی انتہائی یا آخری آپشن کی طرف نہ جانا پڑے، لیکن اگر کوئی دوسرا راستہ باقی نہ بچا تو دارالحکومت کی حفاظت حکومت کا نہ صرف آئینی حق بلکہ اولین قومی فرض بھی ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ ہرگز قابل قبول نہیں کہ ہر دو تین ماہ بعد طالبان کے ساتھ مل کر دارالحکومت پر لشکر کشی کا سلسلہ شروع کر دیا جائے۔خواجہ آصف نے کہا کہ صوبائی قیادت ملک دشمن قوتوں اور طالبان کے ساتھ مل کر وفاق پر حملے کی حکمت عملی بنا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ طالبان پاکستان کے کھلے دشمن ہیں جن کے ہاتھ ہزاروں بے گناہ پاکستانی شہریوں اور سکیورٹی اہلکاروں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں۔وزیر دفاع نے دعویٰ کیا کہ اس مبینہ گٹھ جوڑ کے واضح اور ناقابل تردید شواہد موجود ہیں، کیونکہ کے پی حکومت کے رہنما نہ تو کبھی دہشت گردی کے واقعات کی مذمت کرتے ہیں اور نہ ہی شہداء کے جنازوں یا تعزیت کے لیے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ تمام حقائق نشاندہی کرتے ہیں کہ طالبان درحقیقت موجودہ صوبائی حکومت کا ہی ایک عسکری حصہ بن چکے ہیں۔
انہوں نے مزید تشویش ظاہر کی کہ کے پی کی موجودہ قیادت کی متشدد پالیسیوں سے خدانخواستہ صوبے کی علیحدگی جیسے سنگین خطرات بھی جنم لے سکتے ہیں۔مذاکرات کے تعطل اور ناکامی پر بات کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ اسلام آباد پر جتنی بار بھی چڑھائی کی گئی، اس کے پیچھے بنیادی محرک تحریک انصاف کی صوبائی حکومت کی اندرونی سیاست رہی ہے۔ کے پی کے حکمران جیل میں قید اپنے بانی کو خوش کرنے، اپنی ساکھ قائم رکھنے اور ’’نمبر ٹانگنے‘‘ کے لیے یہ سب کچھ کر رہے ہیں تاکہ ان کی کرسی اور وزارت اعلیٰ محفوظ رہ سکے۔ انہوں نے کہا کہ محض ایک قیدی شخص کی خوشنودی اور ذاتی اقتدار بچانے کے لیے پورے ملک کا شیرازہ بکھیرنے کی اجازت ہرگز نہیں دی جا سکتی۔
خواجہ آصف نے انکشاف کیا کہ پاکستان تحریک انصاف کے اندر اختلافات شدید رخ اختیار کر چکے ہیں۔ پارٹی کی مذاکراتی ٹیم اور قومی اسمبلی میں موجود سنجیدہ پارلیمانی قیادت اور ان کے اتحادی معاملات کا کوئی قابلِ قبول اور پرامن سیاسی حل نکالنا چاہتے ہیں، مگر صوبائی سطح پر بیٹھے افراد اپنے مفادات کی خاطر تصادم کو ہوا دے رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ عوام میں اتنا سیاسی شعور آ چکا ہے کہ انہوں نے انتشار کی اس سیاست کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔
پنجاب سے پی ٹی آئی کے ارکان قومی اسمبلی احتجاج سے مکمل طور پر غائب رہے اور صرف نمائشی و فرمائشی گرفتاریاں دی گئیں۔ انہوں نے چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ ان کے اپنے حلقے سیالکوٹ سے کوئی ایک کارکن بھی اس احتجاج میں شریک نہیں ہوا۔وزیر دفاع نے کہاکہ موجودہ سیاسی کشیدگی کسی نظریے یا عوامی خدمت کی جنگ نہیں بلکہ محض اپنی اپنی کرسیاں بچانے، اقتدار کو طول دینے اور وفاق و صوبے کے وسائل کی لوٹ مار میں اپنے اپنے حصے بخرے قائم رکھنے کا جھگڑا ہے۔
بشکریہ: اے پی پی (ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان)



