اسلام آباد۔3اکتوبر (اے پی پی):برطانیہ میں مقیم پاکستانی سائبر سکیورٹی ماہر حنا سیف نے کہا ہے کہ سائبر خطرات کی بڑھتی ہوئی پیچیدگی کے باعث نیٹ ورک سکیورٹی، ڈیٹا کے تحفظ، شناخت کے انتظام اور ڈیجیٹل خطرات سے نمٹنے کی خصوصی مہارت رکھنے والے ماہرین کی ضرورت میں اضافہ ہو رہا ہے۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سائبر سکیورٹی ڈیجیٹل ماحول کا ایک اہم حصہ بن چکی ہے کیونکہ کاروباری ادارے، حکومتیں اور افراد باہم مربوط نظاموں اور ڈیجیٹل خدمات پر پہلے سے زیادہ انحصار کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اداروں کو ایسے ماہرین کی ضرورت ہے جو سکیورٹی خطرات کی نشاندہی، سائبر واقعات پر ردعمل اور اہم نظاموں و معلومات کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کر سکیں۔
حنا سیف نے کہا کہ پاکستان بھی اپنی سائبر سکیورٹی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے اور تیزی سے بدلتے ہوئےڈیجیٹل شعبے کی ضروریات پوری کرنے کے لیے خصوصی انسانی وسائل تیار کرنے پر کام کر رہا ہے۔لاہور سے گلاسگو تک اپنے پیشہ ورانہ سفر کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تعلیم، عملی تجربے اور مسلسل مہارتوں میں اضافے نے ان کے انٹرپرائز نیٹ ورکنگ اور سائبر سکیورٹی کے شعبے میں کام میں اہم کردار ادا کیا۔انہوں نے لاہور میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد برطانیہ کی ایڈنبرا نیپئر یونیورسٹی سے ایڈوانسڈ سکیورٹی اینڈ ڈیجیٹل فارنزکس میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔ماسٹرز مکمل کرنے سے قبل انہوں نے نیٹ ورک ایڈمنسٹریٹر کی حیثیت سے کام کیا جہاں کاروباری سرگرمیوں کو سپورٹ کرنے والے نظاموں کی دیکھ بھال اور کنیکٹیویٹی و رسائی سے متعلق مسائل کے حل کی ذمہ داریاں انجام دیں۔بعد ازاں وہ گلاسگو میں انٹرپرائز نیٹ ورک انجینئرنگ کے شعبے سے وابستہ ہوئیں جہاں انہوں نے آپریشنل نیٹ ورکنگ ماحول میں کام کیا۔
سسٹل ٹیکنالوجی سلوشنز میں انہوں نے کہا کہ وہ پرانے نیٹ ورک لنکس سے سسکو ایس ڈی وان ٹیکنالوجی کی جانب ملٹی سائٹ منتقلی کے منصوبے میں شامل رہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے سے وائیڈ ایریا کنکشن کے اخراجات میں 30 فیصد کمی اور نیٹ ورک کی کارکردگی میں 25 فیصد بہتری آئی جبکہ آپریشنز میں کم سے کم خلل پڑا۔ انہوں نے کہا کہ ان کی ذمہ داریوں میں فائر وال مینجمنٹ، اہم نیٹ ورک واقعات پر ردعمل اور نیٹ ورک آپریشنز سینٹر کے ایسے طریقہ کار کی تیاری بھی شامل رہی جو نظام کی نگرانی اور واقعات پر ردعمل میں معاون ہوں۔حنا سیف نے بتایا کہ انہوں نے انجینئرز کی تربیت بھی کی اور تکنیکی دستاویزات تیار کرنے میں کردار ادا کیا تاکہ ٹیمیں نیٹ ورک کے مسائل کی نشاندہی اور واقعات پر ردعمل کے طریقہ کار کو بہتر بنا سکیں۔انہوں نے کہا کہ سکیورٹی ٹولز کا مقصد صرف الرٹس پیدا کرنا نہیں بلکہ قابل عمل معلومات فراہم کرنا ہونا چاہیے تاکہ بروقت اقدامات کیے جا سکیں۔شناختی سکیورٹی کے حوالے سے حنا سیف نے کہا کہ بڑے اداروں میں اکاؤنٹس اوررسائی سے متعلق معلومات اکثر مختلف نظاموں میں موجود ہوتی ہیں جس کے باعث غیر فعال اکاؤنٹس، غیر یکساں ریکارڈز اور مراعات یافتہ رسائی کی نشاندہی مشکل ہو سکتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ انہوں نے آزادانہ طورپر ’’ہائپرین آئیڈینٹی انٹیلی جنس‘‘ نامی سافٹ ویئر پلیٹ فارم تیار کیا ہے جو شناخت سے متعلق معلومات کو یکجا کرکے اداروں کو اکاؤنٹس، رسائی کی اجازتوں، غیر فعال شناختوں اور مراعات یافتہ رسائی کا ایک جامع جائزہ فراہم کرتا ہے۔انہوں نےمزید بتایا کہ انہوں نے پائتھن پر مبنی ایک انٹروژن ڈیٹیکشن ٹول بھی تیار کیا ہے جو نیٹ ورک سرگرمیوں میں بار بار کنکشن کی کوششوں اور دیگر ممکنہ مشتبہ رویوں کی نشاندہی کرتا ہے جبکہ سکیورٹی معلومات ریئل ٹائم ڈیش بورڈ کے ذریعے پیش کی جاتی ہیں۔حنا سیف نے کہا کہ یہ ٹول عوامی سطح پر دستیاب ہے اور بیرونی تکنیکی ماہرین نے بھی اسے استعمال کیا اور جانچا ہے۔
وہ سسکو سرٹیفائیڈ انٹرنیٹ ورک ایکسپرٹ (CCIE) سرٹیفکیشن بھی رکھتی ہیں۔حنا سیف نے کہا کہ ان کے پیشہ ورانہ کام میں انٹرپرائز نیٹ ورکنگ، سائبر سکیورٹی آپریشنز، شناختی سکیورٹی اور آزادانہ طور پر سکیورٹی ٹولز کی تیاری شامل ہے۔انہوں نے کہا کہ وہ عوامی سطح پر معلومات اور آگاہی کے فروغ میں بھی کردار ادا کر رہی ہیں اور پرائیویسی، سکیورٹی اور گورننس کے موضوع پر ایک شائع شدہ مضمون میں بھی حصہ لے چکی ہیں۔انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی اور سائبر خطرات میں مسلسل تبدیلی کے باعث سائبر سکیورٹی کے شعبے میں مسلسل سیکھنے کی ضرورت رہے گی۔حنا سیف نے کہا کہ وہ سائبرسکیورٹی، شناختی سکیورٹی اور محفوظ ڈیجیٹل انفراسٹرکچر سے متعلق کام کے ساتھ ساتھ اس شعبے میں آگاہی اور معلومات کے فروغ پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔
بشکریہ: اے پی پی (ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان)



