اسلام آباد۔2اکتوبر (اے پی پی):وزیراعظم محمد شہباز شریف نے صومالیہ کے ساحل پر بازیابی کے دوران جاں بحق ہونے والے پاکستانی شہریوں کے اہل خانہ کے لیے ایک کروڑ 25 لاکھ روپے فی خاندان مالی معاونت، ان کے بچوں کے لئے مفت تعلیم اور رہائش گاہ کا اعلان کیا ہے۔انہوں نے وزارت خارجہ اور پاکستان کے سفارتخانے کو ہدایت کی کہ صومالی حکام اور دیگر متعلقہ فریقین کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہتے ہوئے میتوں کی پاکستان منتقلی کے عمل کو تیز کیا جائے۔
جمعہ کو وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم محمد شہباز شریف نے صومالیہ میں جاں بحق ہونے والے پاکستانی کاشف عمر کے بیٹے اذہان کاشف سے ٹیلیفون پر گفتگوکی،وزیر اعظم نے سید کاشف عمر کے انتقال پر ان کے بیٹے اذہان کاشف سے دلی تعزیت کا اظہار کیا۔انہوں نے کہا کہ ہم آپ کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔ وزیراعظم نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ انہیں جنت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور آپ کے خاندان کو اس صدمے کو برداشت کرنے کی ہمت دے۔وزیراعظم نے ان کے والد اور باقی دو جاں بحق ہونے والے پاکستانیوں کی میتیں جلد از جلد پاکستان لانے کے لئے حکومت کی یقین دہانی کرائی۔
انہوں نے وزارت خارجہ اور دیگر تمام متعلقہ اداروں کو کاشف عمر اور باقی دو جاں بحق ہونے والوں کے خاندانوں کے ساتھ ہر مرحلے پر براہ راست رابطے کی ہدایت کی۔کاشف عمر ان تین پاکستانیوں میں شامل تھے جو صومالیہ میں ہائی جیک کئے گئے بحری جہاز سے بازیابی کے دوران جاں بحق ہوئے۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے صومالیہ کے ساحل پر بازیابی کے دوران جاں بحق تینوں پاکستانیوں سید کاشف عمر، محمود احمد انصاری اور رفیع اللہ خان کے اہل خانہ کے لیے مالی معاونت، ان کے بچوں کے لئے مفت تعلیم اور رہائش گاہ کا اعلان کیا ہے۔
انہوں نے بازیابی کے دوران جاں بحق ہونے والے پاکستانی شہریوں کے اہل خانہ کے لیے ایک کروڑ 25 لاکھ روپے فی خاندان مالی معاونت کا اعلان کیا۔وزیراعظم نے جاں بحق پاکستانیوں کے بچوں کو حکومت کی جانب سے مفت تعلیم اور صحت کی سہولیات فراہم کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔وزیراعظم نے ان افراد کے اہل خانہ کو حکومت کی جانب سے فی خاندان رہائش کے لئے ایک گھر بھی دینے کا اعلان کیا ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ سوگوار خاندانوں کو اس مشکل گھڑی میں تنہا نہیں چھوڑا جائے گا، حکومت ہرممکن تعاون اور معاونت فراہم کرے گی۔
وزیراعظم نے وزارت خارجہ اور پاکستان کے سفارتخانے کو ہدایت کی کہ صومالی حکام اور دیگر متعلقہ فریقین کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہتے ہوئے میتوں کی پاکستان منتقلی کے عمل کو تیز کیا جائے۔انہوں نے زخمی پاکستانیوں کو بہترین طبی سہولیات کی فراہمی اور دیگر پاکستانی عملے کی بحفاظت واپسی کے لیے بھی تمام ممکنہ اقدامات جاری رکھنے کی ہدایت کی۔
بشکریہ: اے پی پی (ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان)



