کراچی۔ 02 اکتوبر (اے پی پی):گورنر سندھ سید محمد نہال ہاشمی نے نیشنل انسٹیٹیوٹ آف پبلک ایڈمنسٹریشن (نیپا) میں 47ویں مڈ کیریئر مینجمنٹ کورس کی تقسیمِ اسناد کی تقریب سے بطور مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ نظام کی بہتری میں ایماندار اور باصلاحیت افسران کا کلیدی کردار ہے۔ جمعہ کو گورنر ہائوس سے جاری اعلامیہ کے مطابق انہوں نے کہا کہ افسران اپنی انتظامی، علمی اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر گورننس کے نظام میں نمایاں بہتری لاسکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ احتساب کے اداروں کو کرپشن کے خاتمے کیلئے بلا تفریق کارروائی کرنا ہوگی، جبکہ کرپشن کے خاتمے کیلئے سنگاپور کے کامیاب ماڈل سے بھی استفادہ کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ منصوبوں کی تکمیل کیلئے تسلسل اور مستقل مزاجی ضروری ہے، جبکہ پوسٹل ڈیپارٹمنٹ سمیت دیگر اداروں کی کارکردگی بہتر بنانے پر بھی توجہ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔سید محمد نہال ہاشمی نے کہا کہ ماضی میں سرکاری اداروں، بلدیاتی اداروں اور دیگر شعبوں میں گھوسٹ ملازمین کی شکایات سامنے آتی رہی ہیں، جبکہ گھوسٹ اساتذہ کی بھرتیوں سے بچوں کے مستقبل کے ساتھ کھیلا گیا۔
انہوں نے کہا کہ سرکاری ملازمت کا مقصد عوامی خدمت ہے، جو لوگ کام نہیں کرنا چاہتے وہ نظام کو نقصان پہنچاتے ہیں۔گورنر سندھ نے کہا کہ پولیس سروس پہلے کی نسبت بہتری کی جانب گامزن ہے، علمی، انتظامی اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں سے نظام کی کارکردگی میں مزید بہتری لائی جاسکتی ہے، افسران کو بھی ہمارے نظام سے شکایات ہوں گی، تاہم ضروری ہے کہ وہ اپنے عمل، فیصلوں اور کارکردگی کے ذریعے عوام کا ریاستی نظام پر اعتماد بحال کریں۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم پاکستان نے 2047 کا وژن دیا ہے، اس وقت آج کے نوجوان افسران اپنی صلاحیتوں کے عروج پر ہوں گے۔ وزیراعظم کا وژن پاکستان کی ترقی اور نوجوانوں کے روشن مستقبل کی بنیاد ہے، نوجوانوں کو لیپ ٹاپ میرٹ کی بنیاد پر فراہم کیے جارہے ہیں جبکہ مصنوعی ذہانت کے ذریعے پاکستان کے نظام میں نمایاں بہتری لائی جاسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ "میں گورنر ہوں مگر گورننس آپ افسران نے کرنی ہے۔”افسران اپنے فیصلوں اور عملی اقدامات سے عوام میں اعتماد پیدا کرسکتے ہیں اور گورننس کے تاثر کو بہتر بنا سکتے ہیں۔انہوں نے کراچی کے شہری مسائل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جب وہ چھوٹے تھے تو لوگ پارکوں میں بیٹھ کر پڑھا کرتے تھے، لیکن آج مختلف وجوہات کی بنا پر کراچی کے متعدد پارک اجڑ گئے ہیں۔
کراچی کے پارکوں اور شہری سہولیات کی بحالی پر توجہ دینا ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ ٹیکس ادا نہ کرنے والے شعبوں اور اداروں کو ٹیکس نیٹ میں لانا ہوگا، بدانتظامی اور انفراسٹرکچر کی ابتر صورتحال کے باعث بیرونی سرمایہ کاری متاثر ہورہی ہے، اس لیے ملک کی ترقی کیلئے انتظامی اصلاحات، بہتر حکمرانی اور موثر نظام ناگزیر ہیں۔گورنر سندھ نے کہا کہ بھارتی اسپنسرڈ دہشتگردی اور فتن الہند جیسے عناصر کے خلاف موثر اقدامات ضروری ہیں اور حکومت اکیلے دہشت گردی کے خلاف جنگ نہیں لڑسکتی، پوری قوم کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔انہوں نے افسران سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ میرا ایمان ہے کہ پاکستان کو اگر کوئی بدل سکتا ہے تو وہ آپ افسران ہیں، آپ اپنی صلاحیتوں، فیصلوں اور کردار سے نظام میں مثبت تبدیلی لاسکتے ہیں، عوامی خدمت کے ذریعے لوگوں کے دلوں میں ریاست اور پاکستان پر اعتماد پیدا کرنا ہوگا۔تقریب میں نیشنل انسٹیٹیوٹ آف پبلک ایڈمنسٹریشن (نیپا) کے فیکلٹی ممبران، مڈ کیریئر مینجمنٹ کورس کے شرکاء اور متعلقہ حکام نے شرکت کی۔
بشکریہ: اے پی پی (ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان)



