جمعہ، 2 اکتوبر 2026
تازہ ترین
سندھ میں ایم ڈی کیٹ 2026: شکایات پر وفاقی وزیر صحت کا نوٹس، 15 روز میں انکوائری رپورٹ طلب حج واجبات کی دوسری قسط جمع کروانے کا آغاز پیر 5 اکتوبر سے ہو گا ،وزارت مذہبی امور زرعی یونیورسٹی پشاور میں فیکلٹی ممبران کے اگلے عہدوں پر ترقی کے آفس آرڈرز تقسیم چیئرمین سینیٹ یوسف گیلانی کا پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان پارلیمانی و دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط بنانے پر زور پاکستان کی شاندار مزاحمت، فیفا آسیان کپ کے آخری میچ میں ویتنام سے 4-2 سے شکست بینک دولت پاکستان کا ریگولیٹری سینڈ باکس کے دوسرے گروپ کا اعلان وزیراعلی پنجاب سے نیشنل کمانڈ اتھارٹی سینئر آفیسر لیڈر شپ کورس کے وفد کی ملاقات،چیف سیکرٹری نے پنجاب حکومت سے متعلق امور پر بریفنگ دی پنجاب میں موروں کی غیر قانونی تجارت پر 17ملزمان گرفتار، سوا 4لاکھ روپے جرمانہ عائد شہید بینظیر بھٹو یونیورسٹی میں داخلوں کے لیےانٹری ٹیسٹ شروع راولپنڈی ،7 افراد سے 16 لیٹر شراب اور اسلحہ برآمد گورنر سندھ سے رکن قومی اسمبلی پروفیسر قادر خان مندوخیل کی ملاقات متبادل قانونی فورم دستیاب ہو تو وفاقی آئینی عدالت سے براہ راست رجوع نہیں کیا جا سکتا، وفاقی آئینی عدالت سندھ میں ایم ڈی کیٹ 2026: شکایات پر وفاقی وزیر صحت کا نوٹس، 15 روز میں انکوائری رپورٹ طلب حج واجبات کی دوسری قسط جمع کروانے کا آغاز پیر 5 اکتوبر سے ہو گا ،وزارت مذہبی امور زرعی یونیورسٹی پشاور میں فیکلٹی ممبران کے اگلے عہدوں پر ترقی کے آفس آرڈرز تقسیم چیئرمین سینیٹ یوسف گیلانی کا پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان پارلیمانی و دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط بنانے پر زور پاکستان کی شاندار مزاحمت، فیفا آسیان کپ کے آخری میچ میں ویتنام سے 4-2 سے شکست بینک دولت پاکستان کا ریگولیٹری سینڈ باکس کے دوسرے گروپ کا اعلان وزیراعلی پنجاب سے نیشنل کمانڈ اتھارٹی سینئر آفیسر لیڈر شپ کورس کے وفد کی ملاقات،چیف سیکرٹری نے پنجاب حکومت سے متعلق امور پر بریفنگ دی پنجاب میں موروں کی غیر قانونی تجارت پر 17ملزمان گرفتار، سوا 4لاکھ روپے جرمانہ عائد شہید بینظیر بھٹو یونیورسٹی میں داخلوں کے لیےانٹری ٹیسٹ شروع راولپنڈی ،7 افراد سے 16 لیٹر شراب اور اسلحہ برآمد گورنر سندھ سے رکن قومی اسمبلی پروفیسر قادر خان مندوخیل کی ملاقات متبادل قانونی فورم دستیاب ہو تو وفاقی آئینی عدالت سے براہ راست رجوع نہیں کیا جا سکتا، وفاقی آئینی عدالت
قومی خبریں

پہلی نظرثانی درخواست خارج ہونے کے بعد دوبارہ نظرثانی کی درخواست قابل سماعت نہیں، وفاقی آئینی عدالت

وفاقی آئینی عدالت
وفاقی آئینی عدالت

اسلام آباد۔2اکتوبر (اے پی پی):وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا ہے کہ پہلی نظرثانی درخواست کے حتمی فیصلے کے بعد اسی معاملے میں دوبارہ نظرثانی کی درخواست دائر نہیں کی جا سکتی جبکہ ’’واپسی‘‘ یا ’’بحالی‘‘ کا عنوان دے کر بھی عدالتی فیصلے پر دوبارہ غور نہیں کرایا جا سکتا۔عدالت نے قرار دیا کہ اگر کسی درخواست میں کسی آزاد ضابطہ جاتی نقص کی نشاندہی ہو تو فیصلے کی واپسی کا سوال پیدا ہوسکتا ہے تاہم جہاں مطلوبہ ریلیف حاصل کرنے کے لیے پہلے سے کیے گئے عدالتی فیصلے کی وجوہات یا نتیجے پر دوبارہ غور ضروری ہو، ایسی درخواست دراصل دوسری نظرثانی کے زمرے میں آئے گی۔جسٹس سید حسن اظہر رضوی نے یہ حکم مینجنگ ڈائریکٹر آئل اینڈ گیس ڈویلپمنٹ کمپنی لمیٹڈ کی جانب سے دائر سول متفرق اپیل نمبر 37/2026 پر جاری کیا۔ عدالت نے رجسٹرار کی جانب سے 3 جولائی 2026ء کو درخواست واپس کیے جانے کے اعتراض کو برقرار رکھتے ہوئے اپیل خارج کردی۔عدالت نے قرار دیا کہ سپریم کورٹ رولز 2025 کے آرڈر 27، رول 8 کے تحت پہلی نظرثانی درخواست کے حتمی فیصلے کے بعد دوسری نظرثانی درخواست عدالت میں دائر یا رجسٹری کی جانب سے قابل سماعت نہیں بنائی جا سکتی۔

آرڈر 10، رول 2 بھی کھلی عدالت میں سنائے گئے فیصلے میں تبدیلی یا اضافے کو محدود کرتا ہے اور صرف کلریکل یا حسابی غلطی یا غیر ارادی لغزش کی تصحیح کی اجازت دیتا ہے۔وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا کہ معاملہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے 2 فروری 2022ء کے فیصلے سے شروع ہوا جس کے خلاف نجی فریق نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ سپریم کورٹ نے 17 ستمبر 2025 کو اپیل منظور کرتے ہوئے ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیا اور نجی فریق کو آئل اینڈ گیس ڈویلپمنٹ کارپوریشن (تنظیم نو) آرڈیننس 2001 کی دفعہ 5 اور متعلقہ پنشن ریگولیشن کے تحت اضافی پنشن کا حقدار قرار دیا تھا۔عدالت نے بتایا کہ مذکورہ فیصلے کے خلاف آئل اینڈ گیس ڈویلپمنٹ کمپنی لمیٹڈ نے نظرثانی درخواست دائر کی تھی جو 27ویں آئینی ترمیم کے بعد وفاقی آئینی عدالت کو منتقل ہوگئی۔ وفاقی آئینی عدالت کے دو رکنی بینچ نے 11 مئی 2026ء کو اس نظرثانی درخواست کو واجبات کی ادائیگی اور عدالتی حکم پر عملدرآمد کی بنیاد پر غیر موثر قرار دیتے ہوئے خارج کردیا تھا۔

بعد ازاں کمپنی نے اس حکم کو واپس لینے اور نظرثانی درخواست بحال کرنے کے لیے متفرق درخواست دائر کی جسے رجسٹرار نے قواعد کے تحت ناقابل سماعت قرار دے کر واپس کردیا تھا۔ کمپنی نے رجسٹرار کے اعتراض کے خلاف موجودہ اپیل دائر کی تھی۔عدالت نے قرار دیا کہ کمپنی کا یہ موقف کہ سابقہ فیصلے پر عملدرآمد سے نظرثانی درخواست غیر موثر نہیں ہوئی، دراصل 11 مئی 2026ء کے عدالتی حکم میں درج نتیجے کو چیلنج کرتا ہے۔ اس موقف کو تسلیم کرنے کے لیے اسی عدالتی نتیجے پر دوبارہ غور کرنا ہوگا، اس لیے درخواست محض کسی ضابطہ جاتی نقص کی اصلاح تک محدود نہیں بلکہ بنیادی طور پر دوبارہ نظرثانی کی کوشش ہے۔عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ وکیل کی عدم حاضری کو اس معاملے میں ایسا آزاد ضابطہ جاتی نقص قرار نہیں دیا جا سکتا جس کی بنیاد پر سابقہ حکم واپس لیا جائے، کیونکہ کمپنی کا ایڈووکیٹ آن ریکارڈ عدالت میں موجود تھا۔ قواعد کے مطابق فریق کی جانب سے کارروائی، پیشی اور پیروی کی بنیادی ذمہ داری ایڈووکیٹ آن ریکارڈ کی ہوتی ہے۔

عدالت نے قرار دیا کہ آرڈر 35 کے قواعد 1 اور 6 کے تحت طریقہ کار میں نرمی اور عدالت کے موروثی اختیارات کو نظرثانی سے متعلق واضح پابندی کو ختم کرنے کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ محض کسی درخواست کو ’’واپسی‘‘ یا ’’بحالی‘‘ کا نام دینے سے اس کی قانونی نوعیت تبدیل نہیں ہوتی۔وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا کہ موجودہ معاملے میں کوئی ایسا آزاد ضابطہ جاتی نقص ثابت نہیں ہوا جس کی بنیاد پر حکم واپس لیا جا سکے، لہٰذا درخواست دراصل دوسری نظرثانی کے مترادف ہے۔ عدالت نے سول متفرق اپیل خارج کرتے ہوئے رجسٹرار کا 3 جولائی 2026ء کا اعتراض برقرار رکھا۔عدالت نے واضح کیا کہ اس حکم کو 17 ستمبر 2025ء کے سپریم کورٹ کے فیصلے یا 11 مئی 2026ء کے وفاقی آئینی عدالت کے حکم کے میرٹ پر دوبارہ غور تصور نہیں کیا جائے گا۔

 

بشکریہ: اے پی پی (ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان)