جمعہ، 2 اکتوبر 2026
تازہ ترین
سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ بیرسٹر نبیل احمد اعوان کا 47ویں مڈ کیریئر مینجمنٹ کورس کی پاسنگ آئوٹ تقریب سے خطاب چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی سے پاکستان میں آسٹریلیا کے ہائی کمشنر کی ملاقات ،پاک-آسٹریلیا پارلیمانی و دوطرفہ تعلقات مضبوط بنانے پر زور ڈی جی این سی سی آئی اے سید علی ناصر رضوی کا آتے ہی کریک ڈائون تیز، راولپنڈی میں خاتون کو ہراساں کرنے والا ملزم گرفتار الیکشن کمیشن نے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 77 گوجرانوالہ ون میں لاہور ہائی کورٹ کے جج جسٹس احمد ندیم ارشد کو اپیلٹ ٹربیونل مقرر کر دیا پاکستان اور روس کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید فروغ دینے کے وسیع امکانات موجود ہیں ، سردار اویس احمد خان لغاری لیسکو سے متعلق شکایات وشواہد وزیراعظم کے سامنے رکھے جائیں گے،سپیکر پنجاب اسمبلی جمہوریت محض انتخابی عمل کا نام نہیں بلکہ جمہورکی حکمرانی، اجتماعی ذمہ داری اورسب کو ساتھ لیکرچلنے کاسیاسی نظام ہے، جعفرخان مندوخیل وزیرخارجہ اسحاق ڈار کی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81 ویں اجلاس کے دوران پاکستان کی سفارتی سرگرمیوں پر میڈیا کو بریفنگ جمہوریت میں اختلاف رائے فطری ہے، قومی مسائل کا پائیدار حل مکالمے اور سیاسی مفاہمت سے ہی ممکن ہے، ڈاکٹر طارق فضل چوہدری وزیراعظم شہباز شریف کا ایرانی وزیر خارجہ سے ٹیلیفونک رابطہ، ہمشیرہ کے انتقال پر تعزیت کی موسمیاتی تبدیلی پاکستانی زراعت وغذائی تحفظ کیلئے چیلنج بن چکی ہے، وفاقی وزیر رانا تنویر حسین وفاقی وزیر برائے تخفیفِ غربت سید عمران احمد شاہ کی پاکستان گلوبل مینٹل ہیلتھ سمٹ 2026 کی اختتامی تقریب میں شرکت سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ بیرسٹر نبیل احمد اعوان کا 47ویں مڈ کیریئر مینجمنٹ کورس کی پاسنگ آئوٹ تقریب سے خطاب چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی سے پاکستان میں آسٹریلیا کے ہائی کمشنر کی ملاقات ،پاک-آسٹریلیا پارلیمانی و دوطرفہ تعلقات مضبوط بنانے پر زور ڈی جی این سی سی آئی اے سید علی ناصر رضوی کا آتے ہی کریک ڈائون تیز، راولپنڈی میں خاتون کو ہراساں کرنے والا ملزم گرفتار الیکشن کمیشن نے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 77 گوجرانوالہ ون میں لاہور ہائی کورٹ کے جج جسٹس احمد ندیم ارشد کو اپیلٹ ٹربیونل مقرر کر دیا پاکستان اور روس کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید فروغ دینے کے وسیع امکانات موجود ہیں ، سردار اویس احمد خان لغاری لیسکو سے متعلق شکایات وشواہد وزیراعظم کے سامنے رکھے جائیں گے،سپیکر پنجاب اسمبلی جمہوریت محض انتخابی عمل کا نام نہیں بلکہ جمہورکی حکمرانی، اجتماعی ذمہ داری اورسب کو ساتھ لیکرچلنے کاسیاسی نظام ہے، جعفرخان مندوخیل وزیرخارجہ اسحاق ڈار کی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81 ویں اجلاس کے دوران پاکستان کی سفارتی سرگرمیوں پر میڈیا کو بریفنگ جمہوریت میں اختلاف رائے فطری ہے، قومی مسائل کا پائیدار حل مکالمے اور سیاسی مفاہمت سے ہی ممکن ہے، ڈاکٹر طارق فضل چوہدری وزیراعظم شہباز شریف کا ایرانی وزیر خارجہ سے ٹیلیفونک رابطہ، ہمشیرہ کے انتقال پر تعزیت کی موسمیاتی تبدیلی پاکستانی زراعت وغذائی تحفظ کیلئے چیلنج بن چکی ہے، وفاقی وزیر رانا تنویر حسین وفاقی وزیر برائے تخفیفِ غربت سید عمران احمد شاہ کی پاکستان گلوبل مینٹل ہیلتھ سمٹ 2026 کی اختتامی تقریب میں شرکت
قومی خبریں

باقاعدہ معائنے، ادویات اور صحت مند طرز زندگی سے بلڈ پریشر کنٹرول کرکے دل کے دورے، فالج اور دیگر پیچیدگیوں کا خطرہ کم کیا جا سکتا ہے، ماہرین امراض قلب

باقاعدہ معائنے، ادویات اور صحت مند طرز زندگی سے بلڈ پریشر کنٹرول کرکے دل کے دورے، فالج اور دیگر پیچیدگیوں کا خطرہ کم کیا جا سکتا ہے، ماہرین امراض قلب

اسلام آباد۔2اکتوبر (اے پی پی):پاکستان میں 42 فیصد بالغ افراد ہائی بلڈ پریشر میں مبتلا ہیں تاہم باقاعدہ معائنے، ادویات اور صحت مند طرز زندگی سے بلڈ پریشر کنٹرول کرکے دل کے دورے، فالج اور دیگر پیچیدگیوں کا خطرہ کم کیا جا سکتا ہے۔ان خیالات کا اظہار ماہرین امراض قلب نے عالمی یوم قلب پر منعقدہ سکریننگ کیمپوں میں گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے بیماری کی بروقت تشخیص، باقاعدہ علاج اور صحت مند عادات اپنانے کی ضرورت پر زور دیا۔منتظمین کے مطابق گیٹز فارما کے تعاون سے پاکستان کے 19 شہروں میں 50 سے زائد مفت ہیلتھ سکریننگ کیمپ منعقد کیے گئے،ان کیمپوں میں 10 ہزار سے زیادہ بالغ افراد کے بلڈ پریشر کی جانچ کی گئی جبکہ کولیسٹرول ٹیسٹ کی سہولت بھی فراہم کی گئی۔

ماہرین نے بتایا کہ دنیا میں ہر تین میں سے ایک بالغ فرد ہائی بلڈ پریشر کا شکار ہے اور اکثر اس مرض کی کوئی واضح علامت ظاہر نہیں ہوتی۔ مسلسل بلند بلڈ پریشر کا علاج نہ ہونے کی صورت میں وقت کے ساتھ خون کی نالیوں، دل، دماغ اور گردوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ ایک مرتبہ بلڈ پریشر کی ریڈنگ بلند آنے سے مرض کی حتمی تشخیص نہیں کی جا سکتی، اس کے لیے دوبارہ پیمائش اور طبی معائنہ ضروری ہے۔ کیمپوں میں جن افراد کی ریڈنگ بلند آئی، انہیں مزید طبی معائنے اور باقاعدہ فالو اپ کا مشورہ دیا گیا۔طبی ماہرین نے ہائی بلڈ پریشر، بلند کولیسٹرول، ذیابیطس، موٹاپے، تمباکو نوشی، غیر صحت بخش غذا اور جسمانی سرگرمیوں کی کمی کو امراض قلب کے اہم عوامل قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان عوامل پر قابو پا کر بیماری کے خطرے کو کم کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہائی بلڈ پریشر اور کولیسٹرول کا دل کے دورے یا فالج کا سبب بننے سے پہلے پتہ لگایا جا سکتا ہے۔ اس کے لیے کمیونٹی اور بنیادی مراکز صحت کی سطح پر جانچ کی سہولتوں کے ساتھ تجویز کردہ علاج جاری رکھنا ضروری ہے۔قومی ادارہ برائے امراض قلب کی ایسوسی ایٹ پروفیسر آف الیکٹروفزیالوجی ڈاکٹر غزالہ عرفان نے لوگوں پر زور دیا کہ وہ صحت مند طرز زندگی اختیار کریں اور امراض قلب کے خطرے کے عوامل کی باقاعدہ نگرانی کریں۔انہوں نے کہا کہ دل روزانہ تقریباً ایک لاکھ مرتبہ دھڑکتا ہے، اس کی صحت برقرار رکھنے کے لیے بہتر غذا کھائیں، جسمانی سرگرمیاں بڑھائیں، اپنی صحت کے اہم اشاریوں کی جانچ کروائیں اور ذہنی دبائو کم کریں۔پمز کارڈیک سینٹر کے ڈائریکٹر ڈاکٹر فضل عزیز میاں نے کہا کہ امراض قلب سے تحفظ کے لیے احتیاط، بروقت سکریننگ اور طبی نگہداشت ضروری ہے۔

انہوں نے لوگوں کو اپنے دل کی صحت کا خیال رکھنے اور دوسروں کو بھی اس کی ترغیب دینے کا مشورہ دیا۔پمز کے کنسلٹنٹ کارڈیالوجسٹ اور ایسوسی ایٹ پروفیسر آف کارڈیالوجی ڈاکٹر سید ناصر علی شاہ نے عوامی آگاہی بڑھانے اور جسمانی طور پر فعال زندگی گزارنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ عالمی یوم قلب لوگوں کو اپنے دل کی صحت پر توجہ دینے کی ترغیب دیتا ہے۔سکریننگ کیمپ کراچی، لاہور، ملتان، راولپنڈی، پشاور، فیصل آباد، گوجرانوالہ، سکھر، رحیم یار خان، ایبٹ آباد، سیالکوٹ، بہاولپور، ڈیرہ غازی خان، ساہیوال، ڈیرہ اسماعیل خان، سوات، کوئٹہ، حیدرآباد اور نواب شاہ میں منعقد ہوئے۔

شریک اداروں میں کراچی کا قومی ادارہ برائے امراض قلب، لاہور کے جناح ہسپتال اور شالیمار ہسپتال، فیصل آباد انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی، نشتر ہسپتال ملتان اور شیخ زاید ہسپتال رحیم یار خان شامل تھے۔ایوب میڈیکل کمپلیکس ایبٹ آباد، فوجی فائونڈیشن ہسپتال راولپنڈی، پشاور کے خیبر ٹیچنگ ہسپتال اور حیات آباد میڈیکل کمپلیکس اور ڈی ایچ کیو ہسپتال گوجرانوالہ نے بھی حصہ لیا۔میو ہسپتال لاہور، شیخ زاید ہسپتال رحیم یار خان، فیصل آباد انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی اور قاضی حسین احمد ہسپتال نوشہرہ میں آگاہی واک اور معلوماتی نشستیں بھی منعقد کی گئیں۔

فوجی فائونڈیشن ہسپتال راولپنڈی، ڈی ایچ کیو ہسپتال گجرات اور فاطمہ میموریل ہسپتال لاہور میں بھی ایسی سرگرمیوں کا اہتمام کیا گیا۔شرکا کو نمک کا استعمال کم کرنے، تمباکو سے پرہیز، غذائی عادات بہتر بنانے اور جسمانی طور پر فعال رہنے کی ترغیب دی گئی۔ انہیں بلڈ پریشر، بلڈ شوگر اور کولیسٹرول کی باقاعدہ جانچ کا مشورہ بھی دیا گیا۔گیٹز فارما نے بنیادی صحت کی سطح پر ہائی بلڈ پریشر سے متعلق قومی رہنما اصولوں کے فروغ کے لیے پریچ (PREACH) پروگرام شروع کیا ہے۔

ہائی بلڈ پریشر سے بچائو، علاج اور کنٹرول کے اس پروگرام کے تحت ملک بھر میں 450 سے زائد جنرل پریکٹیشنرز کی تشخیص اور علاج کی صلاحیت بہتر بنائی جا رہی ہے۔کمپنی معروف ماہرین امراض قلب کے اشتراک سے پاک صحت (PAK-SEHAT) مطالعہ بھی کر رہی ہے جس میں نوجوان بالغ افراد کی دل کی شریانوں میں قبل از وقت چکنائی اور دیگر مادوں کے جمع ہونے کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ اس کا مقصد مقامی شواہد حاصل کرنا اور دل کی بیماری پیدا ہونے سے پہلے خطرے سے دوچار افراد کی نشاندہی کرنا ہے۔ماہرین نے آگاہی اور سکریننگ کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کے فوائد برقرار رکھنے کے لیے بنیادی صحت کی قابل رسائی سہولتیں، معیاری ادویات اور باقاعدہ فالو اپ بھی ضروری ہیں۔

بشکریہ: اے پی پی (ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان)