مانسہرہ۔ 01 اکتوبر (اے پی پی):ہزارہ یونیورسٹی مانسہرہ کے ایگریکلچر ڈیپارٹمنٹ کے زیر اہتمام”From Field to Genome: The Future of Crop Breeding” کے موضوع پر پہلی دو روزہ بین الاقوامی ورکشاپ کا آغاز ہو گیا،ورکشاپ میں 200 سے زائد ملکی و غیر ملکی ماہرین،اساتذہ،ریسرچرز اور طلبہ و طالبات شرکت کر رہے ہیں۔ورکشاپ کے افتتاحی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلر ہزارہ یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر اکرام اللہ خان نے کہا کہ فصلوں کی افزائش اور زرعی شعبے کی ترقی کے لیے جدید جینیاتی تحقیق اور ٹیکنالوجی سے استفادہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ زرعی میدان میں ترقی کے لیے ضروری ہے کہ محققین صرف امپیکٹ فیکٹر یا تحقیقی مقالہ جات کی اشاعت تک محدود نہ رہیں بلکہ اپنی تحقیق کو منطقی انجام تک پہنچائیں تاکہ اس کے نتائج کو زرعی شعبے میں عملی اصلاحات اور ملکی مفاد کے لیے بروئے کار لایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ تحقیق کا مقصد کسی مفروضے کو درست ثابت کرنا نہیں بلکہ سائنسی طریقہ کار کے ذریعے حقیقت تک پہنچنا ہے،ایک اچھا محقق اپنے تحقیقی نتائج کو دیانت داری کے ساتھ قبول کرتا ہے خواہ وہ اس کے مفروضے کے برعکس ہی کیوں نہ ہوں،وائس چانسلر نے طلبہ و طالبات پر زور دیا کہ وہ زرعی شعبے میں محنت،تحقیق اور مسلسل سیکھنے کو اپنا شعار بنائیں تاکہ مستقبل میں کامیابی حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ ملک کی ترقی میں بھی اپنا کردار ادا کر سکیں۔
پروفیسر ڈاکٹر اکرام اللہ خان نے بیرون ملک سے آئے ہوئے ماہرین اور ریسورس پرسنز سے کہا کہ وہ اس ورکشاپ کو ہزارہ یونیورسٹی کے ساتھ مستقبل میں تعلیمی،تحقیقی اور سائنسی تعاون کے فروغ کی بنیاد بنائیں۔انہوں نے باہمی تعاون کے لیے ایک موثر لائحہ عمل تیار کرنے پر زور دیا تاکہ مشترکہ تحقیق، علمی تبادلے اور دیگر تحقیقی سرگرمیوں کے ذریعے زیادہ سے زیادہ فوائد حاصل کیے جا سکیں
،اس سے قبل فیکلٹی آف بائیولوجیکل اینڈ ہیلتھ سائنسز کے ڈین پروفیسر ڈاکٹر انعام اللہ خان نے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ترقی یافتہ ممالک نے زراعت کے میدان میں روایتی طریقہ ہائے کاشت اور فصلوں کی افزائش سے آگے بڑھتے ہوئے جدید ٹیکنالوجی،جینیاتی تحقیق اور سائنسی طریقہ کار کو اپنایا ہے،ان اقدامات کے ذریعے بہتر خصوصیات کی حامل فصلوں کی تیاری،پیداوار میں اضافہ اور زرعی مسائل کے سائنسی حل تلاش کرنے میں مدد مل رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں بھی زرعی شعبے کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے جدید تحقیق اور ٹیکنالوجی سے استفادہ ناگزیر ہے،دو روزہ ورکشاپ کا مقصد ایگریکلچر ڈیپارٹمنٹ میں زیر تعلیم طلبہ و طالبات اور ریسرچ اسکالرز کو فصلوں کی جدید افزائش،جینیاتی تحقیق اور جدید زرعی ٹیکنالوجی سے روشناس کرانا ہے تاکہ وہ سائنسی طریقہ کار کو اپنی تحقیق کا حصہ بنا کر مستقبل میں زرعی شعبے کو درپیش چیلنجز کا بہتر حل تلاش کر سکیں۔
بشکریہ: اے پی پی (ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان)
