ہفتہ، 3 اکتوبر 2026
تازہ ترین
نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار کی زیر صدارت آزاد جموں و کشمیرکے ترقیاتی ایجنڈے سے متعلق اجلاس، جاری ترقیاتی منصوبوں پرپیش رفت کا جائزہ ٹیکسٹائل صنعت پاکستان کی معاشی شناخت کا اہم ستون ہے، ہارون اختر خان وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے رتوڈیرو میں 5افراد کے قتل کا نوٹس لے لیا بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیاں اور گندم سیزن کےلیے کسانوں کی تیاریاں پوری قوم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سیکیورٹی فورسز کے ساتھ کھڑی ہے، وزیر اعلیٰ بلوچستان پی سی جی اے نےکپاس کی فیکٹریوں میں آمد کے تازہ ترین اعداد و شمار جاری کردیئے،کپاس کی آمد گزشتہ سال سے زائد ،شرحِ اضافہ 5.39 فیصد رہا آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک کےبیشتر علاقوں میں موسم خشک جبکہ دن کے دوران میدانی علاقوں میں گرم رہنے کا امکان ہے، محکمہ موسمیات صدر آزاد کشمیر ڈاکٹر محمدنجیب خان سے حریت کانفرنس کےوفد کی ملاقات، مقبوضہ کشمیر کی تازہ صورتحال سمیت مختلف امور پرتفصیلی تبادلہ خیال صدر آزادجموں و کشمیر ڈاکٹر محمد نجیب خان کا پلندری کے پہلے دورے پر کہوٹہ میں شاندار استقبال پی ٹی آئی حکومتی مذاکراتی ٹیم رکن نائب صدر پیپلز پارٹی سینیٹر شیری رحمان کی میڈیا سے گفتگو ٹیکسٹائل کی صنعت ملکی معاشی شناخت کا اہم ستون ہے، حکومت صنعتی مسابقت اور برآمدات کے فروغ پر خصوصی توجہ دے رہی ہے،ہارون اختر خان وزیر خارجہ اسحاق ڈار سےبرطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ کی ملاقات ، پاکستان۔برطانیہ تعلقات پر تبادلہ خیال نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار کی زیر صدارت آزاد جموں و کشمیرکے ترقیاتی ایجنڈے سے متعلق اجلاس، جاری ترقیاتی منصوبوں پرپیش رفت کا جائزہ ٹیکسٹائل صنعت پاکستان کی معاشی شناخت کا اہم ستون ہے، ہارون اختر خان وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے رتوڈیرو میں 5افراد کے قتل کا نوٹس لے لیا بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیاں اور گندم سیزن کےلیے کسانوں کی تیاریاں پوری قوم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سیکیورٹی فورسز کے ساتھ کھڑی ہے، وزیر اعلیٰ بلوچستان پی سی جی اے نےکپاس کی فیکٹریوں میں آمد کے تازہ ترین اعداد و شمار جاری کردیئے،کپاس کی آمد گزشتہ سال سے زائد ،شرحِ اضافہ 5.39 فیصد رہا آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک کےبیشتر علاقوں میں موسم خشک جبکہ دن کے دوران میدانی علاقوں میں گرم رہنے کا امکان ہے، محکمہ موسمیات صدر آزاد کشمیر ڈاکٹر محمدنجیب خان سے حریت کانفرنس کےوفد کی ملاقات، مقبوضہ کشمیر کی تازہ صورتحال سمیت مختلف امور پرتفصیلی تبادلہ خیال صدر آزادجموں و کشمیر ڈاکٹر محمد نجیب خان کا پلندری کے پہلے دورے پر کہوٹہ میں شاندار استقبال پی ٹی آئی حکومتی مذاکراتی ٹیم رکن نائب صدر پیپلز پارٹی سینیٹر شیری رحمان کی میڈیا سے گفتگو ٹیکسٹائل کی صنعت ملکی معاشی شناخت کا اہم ستون ہے، حکومت صنعتی مسابقت اور برآمدات کے فروغ پر خصوصی توجہ دے رہی ہے،ہارون اختر خان وزیر خارجہ اسحاق ڈار سےبرطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ کی ملاقات ، پاکستان۔برطانیہ تعلقات پر تبادلہ خیال
فیچرز اور آرٹیکلز

سیاسی مبصرین کی جانب سےحکومت اور پی ٹی آئی مذاکرات کا خیرمقدم، لانگ مارچ کی کال واپس لینے پر زور

سیاسی مبصرین کی جانب سےحکومت اور پی ٹی آئی مذاکرات کا خیرمقدم، لانگ مارچ کی کال واپس لینے پر زور

پشاور۔ 03 اکتوبر (اے پی پی):خیبرپختونخوا کے سیاسی مبصرین اور ماہرین نے اسلام آباد میں حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کا خیرمقدم کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ ملک میں احتجاجی مارچ کا سلسلہ ختم کیا جائے گا جبکہ وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی پر زور دیا ہے کہ وہ 4 اکتوبر کے لانگ مارچ کی کال واپس لے کر حکومت اور پی ٹی آئی کے نمائندوں کے درمیان جاری مذاکرات کے لیے سازگار ماحول پیدا کریں اور تمام زیرِ التوا معاملات کو مذاکرات اور آئینی فورمز کے ذریعے حل کرنے کا موقع فراہم کریں۔ سابق صوبائی وزیر اور مسلم لیگ (ن) سوات کے رہنما واجد علی خان نے اے پی پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد میں حکومت اور پی ٹی آئی کے مذاکرات کی کامیابی کے لیے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو فوری طور پر 4 اکتوبر کے غیر ضروری لانگ مارچ کی کال واپس لینی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی قیادت سے متعلق سیاسی اور قانونی معاملات متعلقہ عدالتی فورمز پر اٹھائے جانے چاہئیں جبکہ صوبائی حکومت کو اپنی ذمہ داریوں بالخصوص امن و امان برقرار رکھنے، دہشت گردی کے خلاف کارروائی اور عوامی خدمات کی بہتری پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔ انہوں نے تشویش کا اظہار کیا کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی جانب سے مسلسل سیاسی محاذ آرائی صوبے میں گورننس، مالیاتی اور سکیورٹی انتظامات پر اضافی دباؤ ڈال سکتی ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب خیبرپختونخوا میں قانون نافذ کرنے والے ادارے مسلسل دہشت گردی کے خطرات کا سامنا کر رہے ہیں۔ انہوں نے حالیہ حملوں، جن میں کوہاٹ اور ڈیرہ اسماعیل خان میں پولیس اہلکاروں کو نشانہ بنانے کے واقعات بھی شامل ہیں، کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ صوبے کو درپیش مسلسل سکیورٹی چیلنجز کا ثبوت ہیں۔

انہوں نے خصوصاً جنوبی اضلاع اور ضم شدہ قبائلی علاقوں میں پولیس اور محکمہ انسدادِ دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے اس فیصلے پر سوال اٹھایا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے پولیس افسران اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کے تحفظ کے لیے فراہم کی گئی بلٹ پروف گاڑیاں واپس کر دی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ فرنٹ لائن پر تعینات ہمارے پولیس افسران کے تحفظ کےلیے فراہم کی گئی گاڑیاں انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیوں کےلیے انتہائی اہم ہیں۔ اس حوالے سے وفاقی حکومت کی معاونت قابلِ تحسین تھی جبکہ ایسے حفاظتی وسائل واپس کرنا ایسے وقت میں منفی پیغام دیتا ہے جب پولیس کو سنگین خطرات کا سامنا ہے۔ واجد علی خان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں خیبرپختونخوا پولیس اور سکیورٹی اہلکاروں کی قربانیوں کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ ان میں ایف سی کمانڈنٹ صفوت غیور اور ڈی آئی جی ملک محمد سعد جیسے نمایاں شہداء بھی شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مضبوط بنانا، انہیں جدید آلات فراہم کرنا اور اہلکاروں کی حفاظت یقینی بنانا صوبائی حکومت کی اولین ذمہ داریوں میں شامل ہونا چاہیے۔سابق وزیر نے ڈائریکٹر جنرل انٹر سروسز پبلک ریلیشنز لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کے حالیہ بیانات کا بھی حوالہ دیا جن میں ریاست کے تحفظ اور اس کے اداروں کو مضبوط بنانے کی اہمیت اجاگر کی گئی تھی۔ واجد علی خان نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ بدستور ایک قومی چیلنج ہے اور اس کے لیے ضروری ہے کہ وسیع تر قومی مفاد میں سیاسی اختلافات کو ایک طرف رکھا جائے۔ انہوں نے نیشنل ایکشن پلان پر مؤثر عملدرآمد، اس کے بعد ازاں جائزے اور ’’عزمِ استحکام‘‘ فریم ورک کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے انہیں دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے مربوط قومی ردعمل کے اہم اجزا قرار دیا۔

رکن صوبائی اسمبلی احمد کنڈی نے بھی پولیس اور سی ٹی ڈی کی انسدادِ دہشت گردی کی صلاحیت بڑھانے کے حوالے سے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے طریقہ کار کو ناکافی قرار دیتے ہوئے تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ کئی اضلاع کے پولیس افسران بدستور سکیورٹی چیلنجز کا سامنا کر رہے ہیں اور پولیس و سول آرمڈ فورسز کو محفوظ ٹرانسپورٹ، حفاظتی سازوسامان اور دیگر ضروری آپریشنل وسائل مناسب مقدار میں فراہم کیے جانے چاہئیں۔احمد کنڈی نے صوبے میں انسدادِ دہشت گردی کی کوششوں کےلیے مختص فنڈز کے استعمال میں زیادہ شفافیت اور احتساب کا بھی مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ کی حیثیت سے سہیل آفریدی کو مرکز کے ساتھ محاذ آرائی بڑھانے کے بجائے روابط اور تعاون کو فروغ دینا چاہیے۔ خیبر پختونخوا کے عوام اچھی حکمرانی، مؤثر سکیورٹی اور صوبائی و وفاقی حکومتوں کے درمیان تعمیری تعلقات کی توقع رکھتے ہیں۔

جامعہ پشاور کے شعبہ سیاسیات کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر عبدالرؤف نے کہا کہ سیاسی برداشت اور ادارہ جاتی تعاون ایک فعال جمہوری نظام کے بنیادی اجزا ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج اپوزیشن میں موجود سیاسی جماعتیں کل حکومت تشکیل دے سکتی ہیں اس لیے جمہوری تسلسل، آئینی طریقہ کار اور ادارہ جاتی تعاون کی خصوصی اہمیت ہے۔ ڈاکٹر رؤف نے کہا کہ صوبائی حکومت کو ایسے اقدامات سے گریز کرنا چاہیے جو وفاقی حکومت کے ساتھ تعلقات کو مزید پیچیدہ بنا سکتے ہیں اور اس کے بجائے صوبے کو درپیش اہم انتظامی، معاشی اور سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے پر توجہ دینی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ صوبائی قیادت کا اصل امتحان امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے، سرکاری اداروں کو مضبوط کرنے، بے روزگاری اور ناخواندگی سے نمٹنے، عوامی خدمات کی فراہمی بہتر بنانے اور شفافیت و احتساب یقینی بنانے کی صلاحیت ہے۔

احمد کنڈی نے کہا کہ صوبائی حکومت کو ضم شدہ اضلاع اور صوبے کے دیگر پسماندہ و کمزور علاقوں کی ترقیاتی ضروریات پر بھی زیادہ توجہ دینی چاہیے۔ انہوں نے زور دیا کہ صوبے کی سکیورٹی حکمت عملی پاکستان کے وسیع تر انسدادِ دہشت گردی کے مقاصد سے ہم آہنگ ہونی چاہیے اور تمام متعلقہ ریاستی اداروں کو باہمی رابطے اور تعاون کے ساتھ کام کرنا چاہیے۔ ماہرین نے کہا کہ گزشتہ دو دہائیوں کے دوران پاکستان نے دہشت گردی کے باعث انسانی اور معاشی سطح پر بھاری نقصانات اٹھائے ہیں اور ملک دہشت گرد تنظیموں کے خلاف کوششوں کو سیاسی تقسیم کی وجہ سے متاثر ہونے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔انہوں نے زور دیا کہ مذاکرات اور دہشت گردی پر سمجھوتے میں فرق روا رکھا جانا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ ان افراد یا گروہوں کے ساتھ بات چیت پر غور کیا جا سکتا ہے جو تشدد ترک کرنے، ہتھیار ڈالنے اور ریاست کے سامنے سرنڈر کرنے پر آمادہ ہوں جبکہ شہریوں اور سکیورٹی فورسز پر حملوں سے قانون کے مطابق نمٹا جانا چاہیے۔ ماہرین نے وزیراعلیٰ پر زور دیا کہ وہ صوبائی ذمہ داریوں پر توجہ مرکوز کریں اور پارٹی قیادت سے متعلق سیاسی و قانونی معاملات کو متعلقہ عدالتی فورمز کے ذریعے آگے بڑھنے دیں۔

انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کی فوری ترجیحات میں امن و امان کی بحالی، پولیس اور انسدادِ دہشت گردی کے اداروں کو مضبوط بنانا، گورننس میں بہتری، بدعنوانی کا خاتمہ، روزگار کے مواقع پیدا کرنا، تعلیم اور صحت کی سہولیات کو وسعت دینا اور ضم شدہ اضلاع میں ترقیاتی عمل یقینی بنانا شامل ہونا چاہیے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ وزیراعلیٰ ایک تعمیری اور تعاون پر مبنی طرزِ عمل اختیار کریں گے۔ خیبرپختونخوا کے عوام کے مفادات پر توجہ مرکوز کریں گے اور صوبے کو درپیش سکیورٹی، گورننس اور ترقیاتی چیلنجز سے نمٹنے کےلیے تمام متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر کام کریں گے۔

بشکریہ: اے پی پی (ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان)